زمین پر قبضہ کا معاملہ مجرم کی موت اور سزا سے ختم نہیں ہوتا، عدالت عظمیٰ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251201-01-13
اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس احسن اشتیاق ابراہیم نے 3 رکنی بینچ کی جانب سے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر قبضے کا تنازع ملزمان کی موت سے ختم نہیں ہوتا، پشاور ہائیکورٹ اس معاملے کا قانون کے مطابق دوبارہ فیصلہ کرے۔ زمین پر غیر قانونی قبضہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مجرمانہ سزا کے ساتھ ختم نہیں ہوتا کیونکہ اس کے سول نتائج جاری رہتے ہیں۔ اس لیے ملزم کی موت کے بعد بھی قبضہ بحال کرنے کی اپیل قابل سماعت ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 21 مارچ 2022 کو پشاور ہائیکورٹ کے ایبٹ آباد بینچ کے فیصلے کو جزوی طور پر ایک طرف رکھ دیا، اور متنازع اراضی پر قبضے کی بحالی کے سوال کی نئے سرے سے جانچ کا حکم دیا۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ 2005 کا ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جو زمین مالکان کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک موثر طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت عظمی
پڑھیں:
افریقی ملک گنی بساؤ میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بساؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) افریقی ملک گنی بساؤ میں فوج نے صدر اومارو سسکو ایمبالو کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں فوجی افسران نے اعلان کیا کہ حکومت برطرف کر دی گئی ہے، انتخابی عمل معطل کر دیا گیا ہے، ملک کی سرحدیں بند اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایک اعلیٰ عسکری کمان تشکیل دی گئی ہے جو اگلے حکم تک ملک کا انتظام چلائے گی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب سخت مقابلے کے بعد صدارتی انتخابات کے عبوری نتائج سامنے آنا تھے۔انتخابات میں صدر ایمبالو کا مقابلہ اْن کے حریف فرننڈو ڈیاس سے تھا اور دونوں نے پہلے مرحلے میں اپنی جیت کا دعویٰ کر رکھا تھا۔