پی ٹی آئی، اسرائیل اور بھارت کیساتھ مل کر پاکستان کو بدنام کر رہی ہے: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی اس وقت ملک دشمن عناصر کے ساتھ ایک صفحے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بیرون ملک، بالخصوص امریکا میں پاکستان کے خلاف قراردادیں منظور کروانے میں شامل ہو رہی ہے، جو حب الوطنی کے خلاف ہے۔
احسن اقبال نے لاہور میں منعقدہ گرین پروڈکٹیوٹی کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اسرائیل اور بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو بدنام کر رہی ہے اور یہ سیاست ملک دشمنی پر مبنی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی، ضیا الحق اور مشرف کی آمریت کے دوران مسلم لیگ (ن) نےبھی مشکلات برداشت کیں، اور اسی دوران انہوں نے خود بھی جیلیں کاٹی اور میڈیا پر پابندیاں برداشت کیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے دوران سب سے زیادہ تکلیف بھارت اور پی ٹی آئی کو ہوتی ہے، پی ٹی آئی نے نفرت کی سیاست میں تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ فیلڈ مارشل کے خلاف امریکا میں مظاہرے کروانا اور فوجی چھاؤنیوں پر حملے کی حمایت ایک انتہائی خطرناک رویہ ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ریاست اور سیاست میں فرق سمجھنا چاہیے، کیونکہ ملکی سلامتی اور وقار کو نقصان پہنچانے والی یہ حرکات ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی اندرونی سیاست کو عالمی سطح پر لے جانا شرمناک ہے اور یہ طرز سیاست ملک دشمن عناصر کے مفادات کے عین مطابق ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی لابنگ کرنے والے افراد کے ساتھ مل کر پاکستان کو بدنام کر رہی ہے۔
کانفرنس میں احسن اقبال نے گرین ٹیکنالوجی اور ماحول دوست پالیسی سازی کی اہمیت پر بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان کو مستقبل میں گرین انڈسٹری اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی جانب بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان تیزی سے اقتصادی ترقی کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اداروں کی مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ پی ٹی آئی احسن اقبال نے پاکستان کو نے کہا کہ انہوں نے رہی ہے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔