سابق صدر آزاد کشمیر نے بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی صف بندی، اور پاکستان، چین اور امریکہ کے تعلقات کے تناظر میں پاکسان کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ، چین اور اقوام متحدہ  میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی صف بندی، اور پاکستان، چین اور امریکہ کے تعلقات کے تناظر میں پاکسان کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب میں سابق قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف سمیت متعدد ماہرینِ تعلیم بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب کے آغاز میں سردار مسعود خان نے ڈاکٹر معید یوسف کو بی این یو میں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ عالمی طاقتوں میں مسابقت اور باہمی انحصار کا موجودہ ماحول تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور چین ایک دوسرے کے حریف ہونے کے باوجود اقتصادی، تکنیکی اور اسٹریٹیجک معاملات میں ایک دوسرے پر گہرا انحصار رکھتے ہیں۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ دو ہزار کی دہائی میں مغربی صنعتوں کا بڑی حد تک چین منتقل ہونا آج کے عالمی معاشی نقشے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ سردار مسعود خان نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو ’’اقتصادی گرفت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ  چین نے یورپی،لاطینی امریکہ، کینینڈا اور آسٹریلیا تک اپنے خاموش لیکن مؤثر اثرات بڑھا کر امریکی برتری کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ  پاکستان،چین اور امریکہ کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کے امکانات کم ہیں، تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام کمزور ہو چکا ہے، جس میں امریکہ کی پالیسی تبدیلیوں خصوصاً صدر ٹرمپ کے دور کی ازسرِنو سفارتی تشکیل نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 

پاکستان کی موجودہ حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان سفارتی، سیاسی اور عسکری طور پر نسبتاً ایک بلند مقام پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی غیر معمولی سطح پر پاکستان کی تعریف اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل ہے۔ سردار مسعود خان نے زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ وہ چین اور امریکہ میں سے کسی ایک کیمپ میں کھڑے ہونے کے بجائے دونوں ممالک کے ساتھ جامع اور متوازن تعلقات استوار رکھے۔دفاعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت کو قابلِ اعتماد اور مستحکم رکھنا ہو گا بلکہ روایتی دفاعی طاقت کا توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مضبوط دفاع کا انحصار صرف عسکری قوت پر نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی پر بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے سی پیک پر چینی قیادت کے بھرپور اعتماد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ بیجنگ کے دوران سی پیک فیز ٹو کا آغاز اور 10 ارب ڈالر کے اضافی معاہدے اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ چین کی شراکت داری نہ صرف برقرار ہے بلکہ وسعت اختیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، ساختی تبدیلیوں اور ٹیک اسٹارٹ اپس کی بحالی کو ترجیح دینا ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک معاشرے کے کمزور طبقات کو مواقع اور تحفظ نہیں دیا جاتا، ترقیاتی پالیسیاں پائیدار نہیں ہو سکتیں۔ سابق سفیر نے یاد دلایا کہ 1970ء کی دہائی میں پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا تھا اور آج بھی پاکستان اقتصادی و تکنیکی رابطوں کا ایک اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چین اور امریکہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

شهید ھیثم علی طباطبائی نے 9 سال تک اپنے یمنی بھائیوں کو عسکری تربیت دی، شیخ نعیم قاسم

اپنے ایک خطاب میں حزب‌ الله کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہماری جاسوسی کیلیے بحری اور فضائی طور پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ غیر ملکی شہری اور یہاں تک کہ بعض عرب ممالک کی انٹیلی جنس سروسز بھی اسرائیل کو ہماری معلومات فراہم کر رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب‌ الله" كے سیكرٹری جنرل "شیخ نعیم قاسم" نے شہید "هیثم علی طباطبائی" كی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب كیا۔ اس موقع پر انہوں نے كہا كہ شہید ھیثم علی طباطبائی ایک اسٹریٹجک نقطہ نظر رکھتے تھے۔ وہ منصوبہ بندی، بہادری اور جنگ کے میدان میں حکیمانہ قیادت میں بے مثال تھے۔ وہ 1984ء میں حزب‌ الله سے جڑے۔ وہ 9 سال تک یمن میں رہے، جہاں انہوں نے اس ملک میں اپنے بھائیوں کی عسكری تربیت كی۔ اسی وجہ سے وہ یمنی عوام میں مقبول ہوئے۔ انہوں نے "اولی البأس" لڑائی کی کمانڈ کی۔ اولی البأس وہ نام تھا جسے حزب‌ الله کے سابق سیکرٹری جنرل شہید "سید حسن نصر الله" نے اسرائیل کے ساتھ تازہ جنگ کے لیے منتخب کیا۔ جس کے تحت مجاہدین نے 17 ستمبر سے 27 نومبر (72 دن) تک اسرائیلی فوج کے خلاف 1666 فوجی آپریشنز کئے، جن کی اوسطاً تعداد، یومیہ 23 آپریشنز تھی۔ اس عرصے کے دوران 130 سے زائد صیہونی فوجی اور آبادکار ہلاک جب کہ 1250 سے زائد زخمی ہوئے۔
  شیخ نعیم قاسم نے حزب الله کو مضبوط جڑوں والی تحریک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس راستے میں ہزاروں شہید دئیے، لیکن ہر مرحلے پر ہم اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب رہے۔ لبنان میں دشمن کے ایجنٹوں کے کئی گینگ موجود ہیں جنہیں سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا۔ بہرحال، ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے، خلاء کو پر کرنا چاہیے اور ماضی سے سبق سیكھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ھیثم علی طباطبائی کا قتل ایک واضح جارحیت ہے اور ہمیں اس کا جواب دینے کا حق ہے۔ تاہم جوابی کارروائی کے تعین کا وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہماری جاسوسی کے لیے بحری اور فضائی طور پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ غیر ملکی شہری اور یہاں تک کہ بعض عرب ممالک کی انٹیلی جنس سروسز بھی اسرائیل کو ہماری معلومات فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے حزب الله کے ساتھ سیز فائر کا معاہدہ، لبنانی عوام اور استقامتی محاذ کی فتح ہے۔ دشمن، لبنان سے مقاومت اسلامی کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا جسے ہم نے ناکام بنا دیا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت افغان کی شدت پسند پالیسیاں عالمی امن کیلئے شدید خطرہ
  • عالمی سطح  پر پاکستان  کی کامیابیوں  کا پھراعتراف 16ویں بڑی  طاقت قرار
  • بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان؛ امن کے لیے خطرہ
  • شهید ھیثم علی طباطبائی نے 9 سال تک اپنے یمنی بھائیوں کو عسکری تربیت دی، شیخ نعیم قاسم
  • مورال بلند ہے انشاء اللہ فائنل جیتیں گے: صائم ایوب
  • بھارت میں ’گوبر دودھ‘ کی فروخت پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا
  • امریکہ اور نواف سلام نے حزب‌ الله کو غیر مسلح کرنیکی ڈیڈ لائن مقرر کر دی
  • بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ
  • عالمی مسابقت کی ملک میں بنیادی معاشی حیثیت ہے، گورنر اسٹیٹ بینک