پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان سفارتی، سیاسی اور عسکری طور پر ایک بلند مقام پر کھڑا ہے، مسعود خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سابق صدر آزاد کشمیر نے بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی صف بندی، اور پاکستان، چین اور امریکہ کے تعلقات کے تناظر میں پاکسان کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی صف بندی، اور پاکستان، چین اور امریکہ کے تعلقات کے تناظر میں پاکسان کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب میں سابق قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف سمیت متعدد ماہرینِ تعلیم بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب کے آغاز میں سردار مسعود خان نے ڈاکٹر معید یوسف کو بی این یو میں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ عالمی طاقتوں میں مسابقت اور باہمی انحصار کا موجودہ ماحول تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور چین ایک دوسرے کے حریف ہونے کے باوجود اقتصادی، تکنیکی اور اسٹریٹیجک معاملات میں ایک دوسرے پر گہرا انحصار رکھتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ دو ہزار کی دہائی میں مغربی صنعتوں کا بڑی حد تک چین منتقل ہونا آج کے عالمی معاشی نقشے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ سردار مسعود خان نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو ’’اقتصادی گرفت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے یورپی،لاطینی امریکہ، کینینڈا اور آسٹریلیا تک اپنے خاموش لیکن مؤثر اثرات بڑھا کر امریکی برتری کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان،چین اور امریکہ کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کے امکانات کم ہیں، تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام کمزور ہو چکا ہے، جس میں امریکہ کی پالیسی تبدیلیوں خصوصاً صدر ٹرمپ کے دور کی ازسرِنو سفارتی تشکیل نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کی موجودہ حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان سفارتی، سیاسی اور عسکری طور پر نسبتاً ایک بلند مقام پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی غیر معمولی سطح پر پاکستان کی تعریف اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل ہے۔ سردار مسعود خان نے زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ وہ چین اور امریکہ میں سے کسی ایک کیمپ میں کھڑے ہونے کے بجائے دونوں ممالک کے ساتھ جامع اور متوازن تعلقات استوار رکھے۔دفاعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت کو قابلِ اعتماد اور مستحکم رکھنا ہو گا بلکہ روایتی دفاعی طاقت کا توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مضبوط دفاع کا انحصار صرف عسکری قوت پر نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی پر بھی ہوتا ہے۔
انہوں نے سی پیک پر چینی قیادت کے بھرپور اعتماد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ بیجنگ کے دوران سی پیک فیز ٹو کا آغاز اور 10 ارب ڈالر کے اضافی معاہدے اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ چین کی شراکت داری نہ صرف برقرار ہے بلکہ وسعت اختیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، ساختی تبدیلیوں اور ٹیک اسٹارٹ اپس کی بحالی کو ترجیح دینا ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک معاشرے کے کمزور طبقات کو مواقع اور تحفظ نہیں دیا جاتا، ترقیاتی پالیسیاں پائیدار نہیں ہو سکتیں۔ سابق سفیر نے یاد دلایا کہ 1970ء کی دہائی میں پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا تھا اور آج بھی پاکستان اقتصادی و تکنیکی رابطوں کا ایک اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چین اور امریکہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو