Juraat:
2026-07-24@10:36:56 GMT

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

مودی کا غرور تکبر گھمنڈ اس کی ذلت آمیز بدنامی رسوائی بن گیا ہے ۔ مودی اپنی دفاعی صلاحیتوں پر بہت اترتا تھا مگر تیجس طیارہ کی تباہی نے بھارت کو عالمی برادری میں رسوا کر دیا ہے ۔عالمی برادری کا اب بھارت کی دفاعی صلاحیتوں سے اعتبار اٹھ گیا ہے ۔تیجس طیارے کی خریداری میں دلچسپی لینے والے ممالک اب اپنے فیصلوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کر رہے ہیں۔دنیا کے بڑے ایئر شو کبھی صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں ہوتے ، بلکہ وہ قوموں کی تکنیکی صلاحیت، دفاعی خود اعتمادی اور عالمی منڈی میں مقام طے کرنے کی ایک خاموش جنگ بھی ہوتے ہیں۔ ایسی کسی تقریب میں اگر ایک جدید جنگی طیارہ گر جائے تو صرف دھات کا ڈھانچہ نہیں ٹوٹتا، بلکہ اعتماد، وقار اور مستقبل کے سودوں کے امکانات بھی بکھر جاتے ہیں۔ دبئی ایئر شو میں ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ کے تیار کردہ بھارتی جنگی طیارے تیجس کے گرنے سے جنم لینے والے سوالات اب پورے خطے کی دفاعی سیاست کا دھارا بدلنے لگے ہیں۔ حادثے کے بعد آرمینیا کی جانب سے تیجس طیاروں کی خریداری پر جاری بات چیت کو معطل کرنے کے اعلان نے نہ صرف بھارت کے دفاعی بیانیے کو چیلنج کیا ہے بلکہ عالمی مارکیٹ میں اس کی برآمداتی حکمت عملی کو بھی غیر یقینی کی کیفیت میں ڈال دیا ہے ۔
رواں برس دبئی ایئر شو میں پیش آنے والا حادثہ، جسے بھارت نے ”ایک الگ واقعہ” قرار دیا، حقیقت میں محض تکنیکی ناکامی نہیں تھا۔ اس حادثے نے عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا کہ کیا تیجس واقعی وہی معیار رکھتا ہے جو ایک جدید ملٹی رول لڑاکا طیارے کے لیے ضروری ہے ؟ فلائٹ کے دوران طیارے کی تباہی، اور پائلٹ کی المناک ہلاکت کے فوراً بعد بین الاقوامی میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں نے بھارت کے اس دعوے کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا کہ تیجس اندرونی استعمال کے بعد اب محفوظ طریقے سے برآمد کیا جا سکتا ہے ۔ حادثے سے چند گھنٹے بعد تک وہ ویڈیوز عالمی نیوز چینلز، تجزیاتی پروگرامز اور دفاعی فورمز پر گردش کرتی رہیں جن میں دیکھا گیا کہ طیارہ کس طرح چند ہی سیکنڈوں میں زمین بوس ہوگیا۔اسی پس منظر میں آرمینیا کا فیصلہ سامنے آیا کہ وہ بھارت کے ساتھ چل رہی بات چیت کو وقتی طور پر روک رہا ہے ۔ یہ بات چیت 1۔2 بلین امریکی ڈالر مالیت پر پہنچ چکی تھی اور اس میں 12 تیجس طیاروں کی خریداری شامل تھی۔ بھارت کے لیے یہ سودا انتہائی اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا تو یہ تیجس کی اب تک کی سب سے بڑی برآمدی ڈیل ہوتی اور بھارت اسے اپنی دفاعی صنعت کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دے سکتا تھا۔ لیکن حادثے کے بعد آرمینیا کے فیصلے نے یہ ثابت کر دیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اعتماد کا فقدان صرف ایک واقعے سے بھی پیدا ہو سکتا ہے ، چاہے اس کے پیچھے اسباب کچھ بھی ہوں۔
آرمینیا کی معطلی کے پس منظر میں ایک اور اہم نکتہ بھی پوشیدہ ہے ۔ تیجس کے جدید ورژن میں اسرائیل کے تیار کردہ ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز شامل ہیں۔ اس لیے سودے کی معطلی سے اسرائیل کی اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کو بھی بھاری مالی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے ، جس کا اندازہ ابتدائی طور پر ”تقریباً پچاس ملین ڈالر”تک لگایا جا رہا ہے ۔ یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ جدید دفاعی صنعت میں کسی ایک ملک کے طیارے کی ناکامی صرف اسی ملک کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ پوری سپلائی چین اس سے متاثر ہوتی ہے ۔ بھارت کی طویل المیعاد دفاعی شراکت داری میں اسرائیل ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے ، اور تیجس کا جدید ورژن بنیادی طور پر ایک کثیر ملکی شراکت کا نتیجہ ہے ، جس میں تکنیکی مہارت اور الیکٹرانک سسٹمز متعدد اداروں سے لیے گئے ہیں۔بھارت نے 1980 کی دہائی میں اپنے پرانے MiG21 لڑاکا طیاروں کی جگہ لینے کے لیے ایک جدید ہلکے وزن کے لڑاکا طیارے کے پروگرام کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد ایک ایسا مقامی طیارہ تیار کرنا تھا جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو اور بھارتی فضائیہ کی ضروریات کو پورا کر سکے ۔ ہندستان ایرو اسپیس انڈسٹریز اور ایرو ناٹیکل ڈیولپمنٹ ایجنسی نے مل کر اس پروگرام پر کام شروع کیا، جس کا نام بعد میں HAL تیجس رکھا گیا۔
Light Combat Aircraft(LCA) ہلکا وزن لڑاکا طیارہ۔یہ ایک ایسا جنگی طیارہ ہوتا ہے جو ہلکا، تیز، جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور زیادہ ملٹی رول صلاحیتوں والا ہو۔ بھارت کے تناظر میں LCA وہ پروگرام ہے جس کے تحت HAL تیجس طیارہ تیار کیا گیا تاکہ پرانے MiG21 طیاروں کی جگہ لی جا سکے اور فضائیہ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے ۔پروگرام 1983 میں شروع ہوا اور یہ کئی دہائیوں کی تحقیق و ترقی کے بعد عملی شکل اختیار کرنے لگا۔ اس طیارے کی تیاری نے نہ صرف پرانے MiG21 بیڑے کی جگہ لینے میں مدد دی بلکہ بھارت کی دفاعی خود انحصاری اور فضائی ٹیکنالوجی میں مہارت کو بھی فروغ دیا۔تین دہائیوں کے طویل سفر، بے شمار تکنیکی پیچیدگیوں اور مالی رکاوٹوں کے بعد تیجس اپنی شکل میں مکمل ہوا، لیکن آج بھی اس کے بارے میں یہ سوالات موجود ہیں کہ آیا یہ طیارہ عالمی معیار کے مطابق کارکردگی دکھا سکتا ہے یا نہیں؟ بھارتی فضائیہ نے اگرچہ اسے داخلی سطح پر قبول کیا ہے ، مگر اس کا بین الاقوامی امتحان ابھی باقی تھا اور دبئی کا حادثہ اس سفر کا پہلا بڑا چیلنج ثابت ہوا۔یہ حادثہ اور اس کے بعد آرمینیا کی معطلی ہمیں ایک بہت بڑے حقیقت پسند تجزیے کی طرف لے جاتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک، خاص طور پر وہ جنہیں فوری دفاعی ضرورت ہو، ایسے طیارے نہیں خریدتے جو اپنے ابتدائی دور میں حادثاتی تناسب یا تکنیکی مسائل کا شکار ہوں۔ ایک خریدار کے لیے سب سے پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ جہاز کی ساکھ مضبوط ہو، اس کی کارکردگی ثابت شدہ ہو اور اس کے سپیئر پارٹس، تربیت اور تکنیکی مدد کا بندوبست مستحکم ہو۔ بھارت ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچ سکا، جس کی وجہ سے تیجس کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں مل رہی۔
دوسری جانب حادثے کے بعد بھارتی حکام نے اپنے بیانات میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ ایک ”الگ واقعہ” تھا اور اس سے طیارے کی مجموعی صلاحیت پر کوئی سوال نہیں اٹھتا، مگر بین الاقوامی منڈی ایسے بیانات پر یقین نہیں کرتی جب تک عملی کارکردگی پر مبنی شواہد سامنے نہ آئے ۔ دبئی ایئر شو جیسی عالمی تقریب میں حادثہ ہونا ایک ایسا دھچکا ہے جسے بیانات اور وضاحتوں سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ خریدار ممالک کو عملی اعتماد دیا جانا ضروری ہے ، اور یہ اعتماد تب ہی ممکن ہے جب بھارت شفاف تحقیقات، تکنیکی بہتری، آزمائشی پروازوں کے اعدادوشمار اور حفاظتی پروٹوکول عالمی سطح پر پیش کرے ۔اس واقعے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ دفاعی برآمدات صرف ہتھیاروں کا لین دین نہیں ہوتیں، بلکہ یہ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی توازن کا بھی حصہ ہوتی ہیں۔ اگر بھارت اپنی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر پہنچانا چاہتا ہے تو اسے صرف جدید جہاز بنانے سے آگے بڑھ کر انہیں ثابت قدمی کے ساتھ پیش بھی کرنا ہوگا۔ ان کی کارکردگی، حفاظت اور معیار کا تسلسل دنیا کے سامنے رکھنا ہوگا۔ آر مینیا جیسے ممالک کے ساتھ مذاکرات کی بحالی اسی وقت ممکن ہوگی جب بھارت اپنی تکنیکی صلاحیتوں میں وہ پختگی دکھائے جو عالمی منڈی کے لیے لازم ہے ۔حادثے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اعتماد ٹوٹنے میں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں لیکن اسے بحال کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ بھارت کو اب ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں حادثاتی وجوہات کی سائنسی تحقیق، حفاظتی نظام میں بہتری، پائلٹ ٹریننگ کی مزید مضبوطی، اور طیارے کے الیکٹرانک و مکینیکل نظاموں کی مرحلہ وار اپ گریڈیشن شامل ہو۔ ساتھ ہی عالمی سطح پر شفاف رپورٹنگ اور غیر جانبدارانہ جانچ بھی مستقبل کے سودوں کے لیے ناگزیر ہوگی۔ صرف اسی صورت میں تیجس دوبارہ عالمی منڈی میں قدم جمانے کے قابل ہوسکے گا۔
رواں سال مئی میں پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے شاہینوں نے جب بھارتی رافیل طیارے گرائے تو اِن طیاروں کے شیئرز
گر کر نچلی سطح پر آگئے تھے ۔ کچھ ایسا ہی اس بار ہوا جب دبئی ایئر شو میں تباہ ہونے والے بھارتی طیارے تیجاس تیار کرنے والی کمپنی
ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (hal) کے شیئرز کی قدر گر کر نصف سے بھی کم سطح پر چلی گئی۔ بھارت ہمیشہ خود کو فوجی لحاظ سے خطے کی سپر پاور
اور چوہدری قرار دیتا رہا ہے لیکن پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی شاندار فتح کے بعد بھارتی ساکھ کو عالمی سطح پر شدید دھچکا پہنچا ہے اور
حالیہ دبئی ایئر شو میں تیجس طیارے کی تباہی نے بھارتی فضائیہ کی پروفیشنل صلاحیتوں پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں اور دنیا بھر میں بھارتی
فضائیہ کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔آخر میں، بھارت کے لیے لازمی ہے کہ وہ دفاعی برآمدات کو محض اقتصادی
فائدہ نہ سمجھے بلکہ اسے قومی وقار، شفافیت اور عملی صلاحیت کے ساتھ جوڑے ۔ دبئی ایئر شو کا حادثہ بھارت کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ
دفاعی صنعت محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے ، اور جب اعتماد لرز جائے تو سودے اپنے آپ معطل ہو جاتے ہیں، جیسے
آرمینیا نے کیا۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: دبئی ایئر شو میں بھارتی فضائیہ بین الاقوامی عالمی سطح پر دفاعی صنعت طیاروں کی نے بھارت کو عالمی بھارت کے طیارے کی جاتے ہیں سکتا ہے کے ساتھ کے لیے کے بعد اور اس

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا