خصوصی افراد بنیادی سہولیات سے محروم...ہرممکن اقدامات کرنا ہوں گے!!
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
دنیا بھر میں ہر سال 3 دسمبر کو خصوصی افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت اورخصوصی افراد کے نمائندوں کومدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
محمد طارق قریشی
(ڈی جی سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب، سیکرٹری کونسل آف دی رائٹس آف پرسنز ود ڈس ابیلیٹیز)
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ہمت کارڈ، افراد باہم معذوری کی زندگیوں میں انقلاب لا چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ وہی قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں جو اپنی عوام خصوصاً کمزور طبقات کا خاص خیال رکھتی ہیں، انہیں عام شہریوں کے برابر نہ صرف حقوق دیتی ہیں بلکہ ان کے مسائل اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں خصوصی سہولیات اور مراعات فراہم کرتی ہیں۔ خصوصی افراد معاشرے کا ایک اہم جزو ہیں جو سب سے زیادہ توجہ اور ہمدردی کے لائق ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے خصوصی افراد کی تکالیف کو کم کرنے میں بلاشبہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے منصب سنبھالتے ہی عوامی فلاح و بہبود کیلئے جس طرح سنجیدگی، یکسوئی اور ثابت قدمی سے پنجاب کی عوام کی خدمت کا آغاز کیا وہ قابل ستائش ہے۔
انہوں نے صوبے میں خصوصی افراد کی بحالی کے پروگراموں میں خصوصی دلچسپی لی۔ ان کی ہدایت پر صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے مختصر مدت میں ہی خصوصی افراد کی بحالی، نگہداشت اور تعلیم و تربیت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے اور موثر حکمت عملی اپنائی ہے۔ہمت کارڈ پروگرام مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر شروع کیا گیا جس کے تحت سپیشل افراد کو تین سال کے لئے ماہانہ وظائف دیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 10 ہزار 790 معاون آلات جن میں وہیل چیئر، الیکٹرک وہیل چیئر، ہیرنگ ایڈ، ٹرائی سائیکل، بریل اور دیگر آلات شامل ہیں، فراہم کیے جا چکے ہیں۔
یہ پروگرام خصوصی افراد کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔حکومت پنجاب کے دھی رانی پروگرام کے تحت اب تک تقریباً پانچ ہزار مستحق لڑکیوں کی شادیاں کروائی جا چکی ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے، سوشل ویلفیئر اور بیت المال ڈیپارٹمنٹ ہر جوڑے کو دو لاکھ روپے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سلامی پیکیج بھی دے رہا ہے اور شادی کی تقریب میں شامل ہونے والے 20 مہمانوں کے لئے دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا وژن یہ ہے کہ خصوصی افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے مختلف پروگرامز شروع کیے گئے ہیں جن کے ذریعے سپیشل افراد ہنر مند بن کر اپنے مستقبل کو سنوار سکیں گے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب پہلے سے زیادہ محنت اور جستجو سے کام کر رہا ہے تاکہ خواتین، بچوں اور بزرگوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ سپیشل پرسنز کے لیے بھی تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور پنجاب میں متوازن ترقی کا عمل جاری رہے۔ہمت کارڈ کے تحت، صوبہ بھر میں خصوصی افراد کو ہر تین ماہ کے بعد 10,500 روپے کی رقم ادا کی جا رہی ہے۔
اب تک 85 ہزار ہمت کارڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ وزیر برائے سوشل ویلفیئر پنجاب سہیل شوکت بٹ نے اس بات کی یقین دہانی کی ہے کہ ہمت کارڈ کے لیے ہر تحصیل لیول پر رجسٹریشن کا عمل تیز کیا جائے گا۔ پنجاب بھر میں 5 لاکھ 36 ہزار کے قریب خصوصی افراد کا ڈیٹا موجود ہے جس کے تحت دو کیٹگریز بنائی گئی ہیں: فٹ ٹو ورک اور ناٹ فٹ ٹو ورک(یعنی وہ افراد جو کام نہیں کر سکتے)، اس پروگرام کے تحت رواں سال مزید 1 لاکھ ناٹ فٹ ٹو ورک کیٹگری کے خصوصی افراد کو ہمت کارڈ جاری کیا جائے گا ۔
خصوصی افراد کو سرٹیفکیٹ دینے کے لیے ہسپتالوں میں بورڈز بھی بنائے گئے ہیں جن میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا پنجاب)، لیبر ڈپارٹمنٹ، سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ، ایک متعلقہ ڈاکٹر اور ہسپتال کا میڈیکل سپرانٹنڈنٹ شامل ہوتے ہیں۔ سرٹیفکیٹ میں درج ہوتا ہے کہ کوئی شخص کام کرنے کے قابل ہے یا نہیں اور اسی بنیاد پر اس شخص کا شناختی کارڈ بنتا ہے۔ ہمت کارڈ کے حصول کے لیے سپیشل پرسنز کا بائیو میٹریک بھی کیا جائے گا جس کے لیے پنجاب آئی ٹی بورڈ کی مدد سے ایک موبائل ایپلی کیشن بنالی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمت کارڈ حاصل کرنے کے لیے ہیلپ لائن 1312 بھی قائم کی گئی ہے۔پنجاب حکومت مختلف پروگرامز پر کام کر رہی ہے جن میں افراد باہم معذوری کے حقوق کے تحفظ کے لیے صوبائی کونسل کا قیام، پنجاب امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ، 2022 کے رولز اور ریگولیشنز کی منظوری، افراد باہم معذوری کے لیے قابل رسائی عمارتوں کے کوڈز کا اطلاق، سرکاری ملازمتوں میں خصوصی افراد کے 3 فیصد کوٹہ میں سے ایک فیصد کوٹہ نابینا افراد کے لیے مختص، رعایتی سفری کارڈ کے ذریعے کرایوں میں 50 فیصد رعایت، خصوصی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم اور میڈیکل کی سہولیات شامل ہیں۔
مزید برآں تعلیم یافتہ بے روزگار نابینا افراد کے لیے ماہانہ 12 ہزار روپے کا وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، خصوصی افراد کے لیے کھیل کود اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب پیرا سپیشل گیمز 8 سے 12 دسمبر تک منعقد کروایء جائیں گی جس میں افراد باہم معذوری کو شرکت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ معاشرتی زندگی میں بھرپور طریقے سے شامل ہو سکیں۔صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی جو انقلابی اقدامات کیے ہیں، وہ قابل تعریف ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔سہیل شوکت بٹ نے خصوصی افراد کی رجسٹریشن اور ہمت کارڈ کی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر کی مختلف تحصیلوں میں کیمپ لگوائے جہاں خصوصی افراد کی رجسٹریشن اور بائیو میٹرک کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے مختلف شہروں میں خصوصی افراد کے لیے الگ بس سروس شروع کروائی ہے اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو 1100 وہیل چیئرز بھی فراہم کی گئیں تاکہ انہیں سفر میں آسانی ہو۔ سہیل شوکت بٹ کی قیادت میں سوشل ویلفیئر و بیت المال ڈیپارٹمنٹ نے خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے ہیں۔
ان اقدامات کی بدولت خصوصی افراد کی زندگیوں میں نمایاں بہتری آ رہی ہے اور وہ معاشرتی زندگی میں بھرپور طریقے سے شامل ہو رہے ہیں۔حکومت پنجاب کی جانب سے خصوصی افراد کے لیے کیے جانے والے انقلابی اقدامات اور سہیل شوکت بٹ کی قیادت میں ان منصوبوں کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر عزم اور ارادہ مضبوط ہو تو کوئی بھی ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے یہ اقدامات نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری لا رہے ہیں بلکہ معاشرے میں بھی ایک مثبت تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت پنجاب خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
ڈاکٹر خالد جمیل
(بگ برادر)
3 دسمبر کو دنیا بھر میں خصوصی افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کے مختلف موضوع ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہمیں اس تھیم کو لے کر آگے بڑھنا ہے کہ ان لوگوں تک رسائی حاصل کی جائے جوابھی تک محروم ہیں۔ بڑے شہروں اور علاقوں میں تو خصوصی افراد کو سہولیات میسر ہیں، ان تک حکومت اور ان جی اوز کی رسائی بھی ہے لیکن دوردراز علاقوں میں رہنے والے خصوصی افراد آج بھی اپنے بنیادی حقوق اور سہولیات سے محروم ہیں۔
ہمیں ان محروم افراد تک پہنچنا ہے۔ حکومت اور این جی اوزکو چاہیے کہ رضاکاروں کے ذریعے ان تک پہنچیں اور کمیونٹی بیسڈ ری ہیبلی ٹیشن کریں۔ مقامی سطح پر لوگوں کی کپیسٹی بلڈنگ بھی کی جائے اور خصوصی افراد کو ان کے علاقے میں سہولیات دی جائیں۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق پونے دو کروڑ افراد معذوری کا شکار ہیں جو بہت بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے 10 فیصد سے بھی کم افراد کو سہولیات میسر ہیں جبکہ باقی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت اپنے معاملات چلا رہے ہیں۔
خصوصی افراد کے حوالے سے ایک اہم کام یہ ہے کہ معاشرے کی سوچ بدلی جائے۔ قانونی حوالے سے جائزہ لیں تا پاکستان کا شمار دنیا کے ان پانچ ممالک میں ہوتا ہے جہاں خصوصی افراد کیلئے سب سے زیادہ قانون سازی ہوئی ہے۔مثال کے طور پر پاکستان میں خصوصی افراد کیلئے ملازمت اورحصول تعلیم کیلئے 3 سے 5فیصد کوٹہ مختص ہے۔ سی ایس ایس، انجینئرنگ، میڈیکل سمیت ہر شعبے میں کوٹہ مختص کیا گیا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کے مسائل ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اصل حقدار یعنی زیادہ معذوری کے حامل افراد کے بجائے کم معذوری والے افراد یعنی کسی کی انگلی کٹ گئی یا پاؤں ٹیڑھا ہے تو وہ سرٹیفکیٹ بنوا کر کوٹہ کی سیٹ حاصل کر لیتا ہے، اس معاملے کا جائزہ لینا ہوگا۔ گزشتہ برس ہم نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ خصوصی افراد کو اسمبلیوں میں نمائندگی دی جائے۔
اس حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ سینیٹرز نے رپورٹ مرتب کرکے حکومت کو بھیجی ہے، امید ہے کہ آئندہ انتخابات میں اس حوالے سے ضرور پیش رفت ہوگی۔ مقامی حکومتوں کا نظام انتہائی اہم ہے، اسے قائم کرنا ہوگا۔ اس نظام میں خصوصی افراد کی شمولیت یقینی بنائی جائے تاکہ ان کی محرومیوں کا ازالہ اور مسائل کا خاتمہ ہوسکے۔ آج کے دن کے حوالے سے خصوصی افراد کیلئے یہی پیغام ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو دیکھیں، محرومیوں کو نہیں۔ اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں۔ دنیا میں کوئی بھی شخص مکمل نہیں، کسی میں کم معذوری ہے تو کسی میں زیادہ لہٰذا مایوسی کو قریب نہ بھٹکنے دیں، اللہ پر یقین رکھیں اور دنیا میں اپنا نام پیدا کریں۔
لالہ جی سعید اقبال مرزا
( قائد اعظم گولڈ میڈلسٹ چیئرمین اسپیشل پرسنز اسلام آباد)
3دسمبر کو دنیا بھرمیں خصوصی افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس روز ریلیاں، ہر سطح پر سرکاری و نجی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔یہ باعث افسوس ہے کہ اس دن حکومت اوراین جی اوز سمیت معاشرے کے دیگر طبقات صرف باتیں کرتے ہیں، سال بھر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ہم نے 1980ء میں اس وقت کے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق سے معذوری کے حامل افراد کیلئے 1 فیصد کوٹہ منظور کرایا۔ میں خود اسپیشل پرسن ہوں لیکن اس دور سے لے کر آج تک خصوصی افراد کیلئے اعزازی کام کر رہا ہوں،مثال دینا آسان کام ہے مگر مثال بننا مشکل۔ 2022ء کے بلدیاتی بل میں اسپیشل پرسنز کیلئے1 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا تھا لیکن 2025 ء میں جو بل پیش ہوا، اس میں یہ شامل نہیں ہے۔
اقلیتوں، خواتین، نوجوانوں اور کسانوں کیلئے تو مخصوص نشستیں ہیں لیکن 2 کروڑ خصوصی افراد کیلئے کوئی نشست نہیں ہے۔ ہمیں نظر انداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت تمام ارباب اختیار سے گزارش کرتے ہیں کہ بلدیاتی ایکٹ میں خصوصی افراد کیلئے ایک نشست مختص کی جائے۔ خصوصی افراد کو صرف فوٹو سیشن یا امداد کیلئے استعمال نہ کیا جائے، اگر یہ افراد خود بلدیاتی حکومت کا حصہ بنیں گے، اسمبلیوں میں آئیں گے تو ان کی اہمیت میں اضافہ ہوگا اور ان کی آواز مضبوط ہوگی۔
وزیراعلیٰ پنجاب اچھے منصوبے لا رہی ہیں لہٰذا انہیں چاہیے کہ خصوصی افراد کو بلدیاتی نظام میں نمائندگی دے کر اپنی نیک نامی میں اضافہ کریں۔جس فرد کا نادرا کا سپیشل پرسن کے مونوگرام والا کارڈ موجود ہے، اسے ہمت کارڈ ملنا چاہیے نہ کہ اسے کالز کے چکر میں پھنسایا جائے۔ یہ قرعہ اندازی والا معاملہ ہے جو میرے نزدیک بھیک کی جدید شکل ہے۔ ہم گزشتہ 15 برس سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سنٹر لالہ موسیٰ کو ہائی سکول کا درجہ دیا جائے۔ مڈل تک تو بچے تعلیم حاصل کر لیتے ہیں لیکن اس سے آگے سکول نہ ہونے کی وجہ سے والدین بچوں کو دور دراز نہیں بھیجتے، اگر یہ سکول میٹرک تک کر دیا جائے تو فائدہ ہوگا۔ ہم ڈاکٹر خالد جمیل بگ برادر کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو ہر فورم پر خصوصی بچوں اور افراد کیلئے آواز اٹھاتے ہیں۔ خصوصی افراد میں جو ریٹائرڈ پنشنرز ہیں۔
ان کی پنشن ، ان کی زندگی کے بعد ان کے خدمت گار کو منتقل کر دی جائے، اس میں یہ شرط ہو کہ خصوصی فرد جسے نامزد کرے، اسے یہ پنشن دے دی جائے، اس طرح خصوصی فرد اور خدمتگار دونوں کا فائدہ ہوگا۔خصوصی افراد معاشرے کا اہم حصہ ہیں، یہاں اصل بات احساس کی ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری جو انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ہیں، سے گزارش ہے کہ سپیشل پرسنز کو بلدیاتی نظام میں نمائندگی دی جائے اور کم از کم ایک نشست مختص کی جائے۔ ایسا صرف کسی ایک صوبے میں نہیں بلکہ ملک بھر میں ہونا چاہیے۔ خصوصی افراد کو ایک نشست دینے سے وسائل پر بوجھ نہیں پڑے گا مگر اس سے عوام کو فائدہ ہوگا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی فلاح و بہبود کے لیے پنجاب مریم نواز شریف میں خصوصی افراد کی افراد باہم معذوری خصوصی افراد کیلئے خصوصی افراد کا خصوصی افراد کے خصوصی افراد کو کی زندگیوں میں افراد کے لیے سپیشل پرسنز وزیر اعلی حکومت اور معذوری کے فیصد کوٹہ اور ان کی حوالے سے کیا جائے کے ذریعے کہ خصوصی کی زندگی ہمت کارڈ انہوں نے کیلئے ا مختص کی رہے ہیں کارڈ کے کی جائے کیا گیا شامل ہو ہے کہ ا کیے جا رہا ہے ہے اور کام کر رہی ہے کے لئے ہیں جو کے تحت کیا جا
پڑھیں:
اسموگ تدارک کیس؛ عدالت کا جامعہ پنجاب کی انسپیکشن، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرنے کا حکم
لاہور:اسموگ تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے جامعہ پنجاب کی انسپیکشن اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ناصر باغ، درختوں کی ٹرانسپلانٹیشن، پارکنگ پراجیکٹس اور ماحولیاتی معاملات پر سخت سوالات اٹھائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ناصر باغ کا کیا معاملہ ہے اور بار بار کے عدالتی احکامات کے باوجود درخت کیسے کٹ جاتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ انہیں موصول ہونے والی تصاویر میں درخت کٹے ہوئے نظر آرہے ہیں جبکہ ناصر باغ کی تاریخی اہمیت بھی ہے۔
پی ایچ اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی درخت نہیں کاٹا گیا بلکہ 123 میں سے 121 درخت ٹرانسپلانٹ ہو سکتے تھے، صرف دو درختوں کی ہلکی سی ٹرمنگ کی گئی۔ وکیل نے بتایا کہ وہاں انڈر گراؤنڈ پارکنگ بن رہی ہے اور پراجیکٹ عدالت کی ہدایات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ ایک تھرڈ پارٹی این جی او بھی ساتھ شامل ہے۔ عدالت نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو حکم دیا کہ آج ہی موقع کا دورہ کرکے رپورٹ جمع کروائیں۔
سماعت کے دوران ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ لاہور کینال کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں درخت کاٹے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ سات سال سے سول کورٹس کے باہر پارکنگ کے مسئلے کے حل کے احکامات دیے جا رہے تھے اور اب حکومت ان پر عمل کر رہی ہے جو قابلِ تعریف ہے، تاہم یہ سلسلہ پورا سال جاری رہنا چاہیے تاکہ اسموگ جیسے مسائل بہتر طور پر حل ہو سکیں۔
این جی او نے عدالت کو بتایا کہ وہ گزشتہ سات برس سے بوہڑ کے درختوں کی منتقلی پر کام کر رہے ہیں اور کینٹ میں بھی ایک بڑا درخت انہوں نے بچایا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ میں چھ سے سات بڑے بوہڑ کے درخت موجود ہیں، جن کی منتقلی میں این جی او نے چھ سے سات دن کام کیا۔ عدالت نے پیشکش کی کہ اگر این جی او چاہے تو ہائیکورٹ کے درختوں کا کام بھی انہیں دے دیا جائے۔
این جی او نے بتایا کہ ایک درخت کی منتقلی پر چار سے پانچ لاکھ روپے خرچ آتا ہے اور اب لوگ درختوں کو اڈاپٹ بھی کرنے لگے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ناصر باغ میں میاواکی پراجیکٹ بھی لایا جائے اور باغ کو بحال کیا جائے۔
اسکول بسوں کے حوالے سے عدالت نے عدم عمل درآمد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ پنجاب کی بسیں دھواں چھوڑ رہی ہیں، لہٰذا جامعہ پنجاب کی انسپیکشن کی جائے اور دھواں چھوڑنے والی تمام گاڑیاں بند کر دی جائیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ اسکولوں کو ایک ساتھ زیادہ بسیں خریدنے کا نہ کہا جائے بلکہ آہستہ آہستہ آغاز کیا جائے، جبکہ چھوٹے اسکولوں کو خریداری کی شرط سے نکال کر انہیں کنٹریکٹرز سے گاڑیاں حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔
واسا سے متعلق عدالت نے کہا کہ واسا اب بہت امیر ہو چکا ہے اور پوچھا کہ پانی کے میٹرز کا کیا بنا۔ واسا کے وکیل نے بتایا کہ تیرہ سو میٹرز پروکیور ہو چکے ہیں، جن میں سے 260 میٹر جوہر ٹاؤن میں نصب کیے جا چکے ہیں، اور یہ تمام میٹرز امپورٹڈ ہیں۔ پانچ سو ملین روپے کا فنڈ اس مقصد کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ پہلے کمرشل علاقوں میں میٹرز لگائے جائیں۔ واسا نے بتایا کہ اس وقت پائلٹ پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے تاکہ ڈیٹا کولیکشن کا جائزہ لیا جا سکے۔
عدالت نے کہا کہ جب پورے شہر میں میٹرز لگ جائیں گے تو لوگ خود بخود پانی بچائیں گے۔ عدالت نے ڈی ایچ اے کی جانب سے پہلے ہی میٹرز نصب کرنے کے اقدام کو سراہا اور واسا کو لاہور کے تازہ ترین ایکیوفر لیول کی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ زیرِ زمین پانی مزید نیچے تو نہیں جا رہا۔
عدالت نے واضح کیا کہ پارکس میں تعمیراتی کام نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تعمیراتی سرگرمی ماحول دوست نہیں ہوتی۔