پنجاب حکومت نے دو دن میں 1005 زمینوں کے کیس نمٹا دیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
لاہور (نیوزڈیسک) پنجاب حکومت نے نئے پراپرٹی آرڈیننس کے تحت دو دن میں 1005 زمینوں کے کیس نمٹا کر ریکارڈ بنا دیا۔
وزیراعلیٰ آفس کے مطابق ’’جس کی ملکیت، اسی کا قبضہ‘‘ کے اصول کے تحت برسوں سے عدالتوں کے چکر کاٹنے والے ایک ہزار سے زائد خاندانوں کو 48 گھنٹوں میں اُن کی زمینوں کا حق واپس مل گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی سربراہی میں نئے پراپرٹی آرڈیننس کے موثر نفاذ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ ریونیو حکام نے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ دو روز میں 1005 کیسز نمٹائے گئے جو پنجاب حکومت کی کارکردگی کا نیا سنگِ میل ہے۔
مریم نواز شریف نے اجلاس میں کہا کہ زمینوں سے متعلق خواتین کے کیسز کو اولین ترجیح پر حل کیا جائے، جیسے ہی فیصلہ ہوگا، فوری قبضہ دیا جائے گا، کوئی تاخیر، کوئی سفارش اور کوئی کوتاہی برداشت نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ زمین کا اصل مالک جب تک عملی قبضہ نہ لے، فیصلہ ادھورا رہتا ہے، کاغذ پر نہیں، قبضہ زمین پر نظر آنا چاہئے، پنجاب کے ہر مرلے، ہر کنال اور ہر ایکڑ پر صرف اصل مالک کا ہی حق ہوگا۔‘
وزیراعلیٰ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر کسی نے اُن کی زمین یا پراپرٹی پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے تو فوراً اپنے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں درخواست دیں، جہاں چند دنوں میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جامعہ کراچی کے اداروں کی نجکاری کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں، آئی ایس او جامعہ کراچی
ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ICCBS کی علیحدگی، نجکاری یا قبضہ گیری کے کسی بھی منصوبے کے خلاف اساتذہ، اسٹاف اور طلبہ ایک پیج پر متحد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جامعہ کراچی کے وسائل پر کسی قسم کا ڈاکہ یا قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان (آئی ایس او) جامعہ کراچی یونٹ کے ترجمان نے جامعہ کی زمین، وسائل، اثاثوں اور ادارہ جاتی شناخت کو نجی مفادات یا کسی خیراتی و کارپوریٹ مافیا کے سپرد کرنے کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ICCBS کی علیحدگی، نجکاری یا قبضہ گیری کے کسی بھی منصوبے کے خلاف اساتذہ، اسٹاف اور طلبہ ایک پیج پر متحد ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جامعہ کراچی کے وسائل پر کسی قسم کا ڈاکہ یا قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ آئی ایس او جامعہ کراچی یونٹ نے اس فیصلے کو تعلیمی ادارے کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات جامعہ کی خودمختاری اور علمی وقار کے منافی ہیں۔ تنظیم نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس غیر دانشمندانہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ تعلیمی ادارے کو مزید تنازعات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔