جیا بچن کا اپنی نواسی کو شادی سے متعلق حیران کن مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
MUMBAI:
جیا بچن بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور سیاسی رہنما بھی ہیں اور وہ بعض اوقات متنازع بیانات کی وجہ سے بھی خبروں میں رہتی ہیں، چاہے بات فلم انڈسٹری کی ہویا سیاست کی، اور ایسا ہی ایک بیان انہوں نے اپنی نواسی نویا نویل نندا کو شادی سے متعلق مشورے پر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جیا بچن نے وی دا ویمن ایونٹ میں انٹرویو کے دوران ایک سوال پر کہا کہ آج کے دور میں شادی کا تصور پرانا ہو چکا ہے اور یہ بھی مشورہ دیا کہ ان کی نواسی نویا نویل نندا، جو ایک ہفتے میں 28 سال کی ہو جائیں گی، کو شادی نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان خواتین جانتی ہیں کہ بچوں کی پرورش کیسے بہتر طریقے سے کی جائے اور آج کے بچے پہلے سے کہیں زیادہ ذہین ہوتے جا رہے ہیں۔
جیا بچن نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ شادی ایک پرانا تصور ہے اور وہ نہیں چاہتیں کہ ان کی نواسی نویا نویلی نندا شادی کرے۔
رپورٹ کے مطابق جیا بچن سے جب شادی کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بے فکری سے کہا کہ ’بس زندگی کا مزہ لو‘، اسی دوران ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان کی نواسی نویا نندا ان کی طرح شادی کے بعد اپنا کیریئر چھوڑ دیں تو کیا انہیں اعتراض ہو گا تو انہوں نے جواب دیا کہ’میں نہیں چاہتی کہ نویا شادی کرے’۔
جیا بچن سے وضاحت کے لیے پوچھا گیا کہ شادی کو وہ پرانا تصور کیوں سمجھتی ہیں تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج کے بچے ہر معاملے میں دوسروں سے آگے نکل سکتے ہیں، ان کے لیے شادی کسی میٹھی ڈش کی طرح ہے اور شادی کو دہلی کے لڈو سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر کھالو تو مشکل میں پڑ جاؤ گے اور اگر نہ کھاؤ تو پچھتاؤ گے‘۔
خیال رہے کہ 27 سالہ نویا نویلی نندا نے آرا ہیلتھ کے نام سے ایک ٹیک پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی ہے، وہ جیا بچن اور امیتابھ بچن کی نواسی اور ابھیشک کی بھانجی ہیں، ان کے بھائی اگستیا نندا نے ایک سال قبل اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔
نویا نویلی نندا کے والد نکھل نندا کا تعلق دہلی سے ہے اور ایک صنعت کار ہیں، نویا نے 2020 میں امریکا سے گریجویشن کی ہے اور بھارت کی ایک یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کی نواسی جیا بچن کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔