Islam Times:
2026-06-03@04:44:22 GMT

یورپ کی ذہنی موت اور ٹوٹ پھوٹ کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

یورپ کی ذہنی موت اور ٹوٹ پھوٹ کا آغاز

اسلام ٹائمز: تاہم امن کے بعد یہ اتحاد زیادہ دیر قائم رہنے کا امکان کم ہے۔ مشرقی یورپ کے ممالک، جیسے بالٹک ریاستیں، فن لینڈ اور پولینڈ، جنگ بندی کو ایک طرف راحت اور دوسری طرف شدید بے چینی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں جنگ کا خاتمہ روس کو انہی ممالک کے خلاف نئی طاقت اور اگلے حملے کے لیے آزادی دے سکتا ہے۔ ۲۰۲۲ سے اب تک یوکرینی سپاہی روسی حملے کے خلاف ڈھال رہے ہیں، مگر امن کے بعد یہ ڈھال کمزور پڑ جائے گی۔ مشرقی یورپ روس کو مزید تنہا دیکھنا چاہے گا، لیکن مغربی یورپ میں سوال اٹھے گا: "کیا اب بھی ہمیں دفاع پر اتنا خرچ کرنے کی ضرورت ہے؟" اور وہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ان دونوں نقطۂ نظر کا ایک ہی اتحاد میں اکٹھا رہنا مشکل ہوگا۔ خصوصی رپورٹ:

اکانومسٹ نے اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ جونہی یوکرین کی جنگ کا خاتمہ ہوگا یورپ کی ٹوٹ پھوٹ کا آغاز ہو جائیگا۔ چونکہ یوکرین جنگ نے یورپی ممالک کو روس کے خلاف متحد کر دیا تھا، اس جنگ کا خاتمہ یورپی اتحاد میں دراڑوں کی ابتدا بن سکتا ہے۔ اکانومسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں یوکرین جنگ کے بعد کی ممکنہ صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "۱۳۷۲ دن کی اس جنگ کے بعد، جو بظاہر صرف تین دن تک محدود رہنی تھی، کیا اب یوکرین میں امن کی کوئی امید دکھائی دیتی ہے؟" اس کا انجام کسی کو نہیں معلوم۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ اور روس کے درمیان تیزرفتار سفارتی کوششوں نے خاصا شور پیدا کیا ہے، خصوصاً اُن یورپی ممالک میں جو امن مذاکرات میں نظرانداز کیے جانے پر ناراض ہیں۔

جنگ کے اختتام کے ساتھ یورپی یونین کی کمزوری ظاہر ہونے کا خدشہ:
ابھی تک جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں۔ شاید یوکرین نے صحیح فیصلہ کیا کہ اس مبہم معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا جو بظاہر کریملن اور وائٹ ہاؤس کے درمیان طے ہو رہا تھا۔ بہرحال، ایک دن، جس کی امید جلد ہی ہے، ایسا سمجھوتا سامنے آئے گا جسے نہ صرف یوکرین بلکہ روس بھی قبول کر سکیں گے۔ وہ لمحہ یقیناً راحت کا باعث ہوگا، لیکن اسی وقت یورپ کے پڑوسی ممالک کے لیے مشکل نتائج بھی لائے گا۔ جنگ نے یورپ کو متحد کیا ہے، مگر جنگ کا خاتمہ اس اتحاد کے بکھرنے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا۔

یہ چار سالہ اتحاد جنگ کے بعد برقرار نہیں رہ سکے گا:
تقریباً چار سال تک یورپ کی سرحد پر جاری اس جنگ نے ایک ایسی غیرمعمولی یکجہتی پیدا کی، جو اس براعظم میں عموماً کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ روس کی جارحیت کے جھٹکے نے اسکینڈینیویا سے لے کر بحیرۂ روم تک ایک مشترکہ احساس اور نئے عالمی تغیرات کی مشترکہ سمجھ پیدا کی۔ چند تبدیلیاں قومی سطح پر ظاہر ہوئیں، مثلاً جرمنی میں "عہدِ نو" کا اعلان جس نے اس ملک کی جنگ بعد امن پسندی کی دیرینہ سوچ کو بدل دیا۔ لیکن مجموعی طور پر جنگ نے یورپی یونین کو حقیقی اتحاد میں تبدیل کیا۔ یورپی یونین کے ۲۷ ممالک نے مل کر لاکھوں یوکرینی مہاجرین کو پناہ دی، اسلحہ و مالی امداد فراہم کی، یوکرین کے یورپی یونین میں داخلے کے راستے کھولے، اور روس پر ۲۰ پیکجز پر مشتمل پابندیاں عائد کیں۔ کبھی رفتار سست تھی، کبھی عمل ناقص، مگر زلنسکی کے مشکل ترین دنوں میں بروکسل کی میٹنگیں ان کے لیے امید کا باعث بنتی تھیں۔

جنگ ختم ہونے پر کچھ یورپی ممالک میں خوف پیدا ہوگا:
تاہم امن کے بعد یہ اتحاد زیادہ دیر قائم رہنے کا امکان کم ہے۔ مشرقی یورپ کے ممالک، جیسے بالٹک ریاستیں، فن لینڈ اور پولینڈ، جنگ بندی کو ایک طرف راحت اور دوسری طرف شدید بے چینی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں جنگ کا خاتمہ روس کو انہی ممالک کے خلاف نئی طاقت اور اگلے حملے کے لیے آزادی دے سکتا ہے۔ ۲۰۲۲ سے اب تک یوکرینی سپاہی روسی حملے کے خلاف ڈھال رہے ہیں، مگر امن کے بعد یہ ڈھال کمزور پڑ جائے گی۔ 

مشرقی یورپ روس کو مزید تنہا دیکھنا چاہے گا، لیکن مغربی یورپ میں سوال اٹھے گا: "کیا اب بھی ہمیں دفاع پر اتنا خرچ کرنے کی ضرورت ہے؟" اور وہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ان دونوں نقطۂ نظر کا ایک ہی اتحاد میں اکٹھا رہنا مشکل ہوگا۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوجائے گی جب جنگ کے بعد کی ممکنہ امریکی روسی امن تجویز روس کو عالمی برادری میں واپس لانے کی کوشش کرے گی، حتیٰ کہ جی ۸ میں دوبارہ شمولیت تک۔ یہ منصوبہ روس پر عائد پابندیاں ہٹانے کا بھی تقاضا کرتا ہے، جبکہ ان میں سے زیادہ تر پابندیاں یورپی یونین نے لگائی تھیں۔ ایسا اقدام اُن حلقوں کو مضبوط کرے گا جو روس کے ساتھ تجارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔

یورپ کے اندر سیاسی لڑائیاں پھر سے بھڑک اٹھیں گی:
محاذ آرائی صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ یورپی پارلیمانوں کے اندر بھی شروع ہوگی۔ یورپ کی دائیں بازو کی پوپولسٹ جماعتیں روس کے ساتھ نرم رویہ رکھتی ہیں۔ جرمنی میں بعض حلقے ممکن ہے روسی گیس کی درآمد دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کریں، چاہے کم مقدار میں ہی کیوں نہ ہو تاکہ توانائی کے اخراجات کم کیے جائیں۔ مگر پولینڈ اور اسٹونیا جیسے ممالک اسے کھلی غداری تصور کریں گے۔

امن کے بعد یوکرین کی بحالی یورپ کے لیے ایک اور چیلنج:
جنگ کے بعد یوکرین ایک تباہ حال ملک ہوگا۔ یورپ نہیں چاہے گا کہ اس کے پہلو میں ایک مفلوک الحال پڑوسی موجود ہو، مگر جنگ ختم ہونے کے بعد یوکرین کے ساتھ وہ ہمدردی شاید برقرار نہ رہے۔ سوال اٹھے گا کہ ۲۰۲۲ میں جن مہاجرین کو خوش آمدید کہا گیا تھا، کیا اب انہیں واپس نہیں جانا چاہیے؟ اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کی بھاری لاگت کون اٹھائے گا؟ یورپ نے روس کے ۱۰۰ ارب یورو سے زائد منجمد اثاثوں کے استعمال کا منصوبہ بنایا تھا، مگر امریکہ کے ۲۸ نکاتی امن منصوبے میں صاف ظاہر ہے کہ واشنگٹن بھی ان اثاثوں اور یوکرین کی تعمیرِ نو کے معاشی مواقع میں اپنا حصہ چاہتا ہے۔

نیٹو کی ذہنی موت، امریکا پر انحصار کا بحران:
شاید سب سے بڑی دراڑ امریکہ سے تعلقات میں پڑے گی۔ یورپی اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ، خصوصاً ٹرمپ کی صدارت کے بعد، اب پہلے کی طرح قابلِ اعتماد اتحادی نہیں رہا۔ یورپ میں "اسٹریٹجک خودمختاری" کی بحث برسوں سے جاری ہے، اور میکرون جنگ سے پہلے ہی نیٹو کو "دماغی طور پر مردہ" قرار دے چکے تھے۔ وسطی اور شمالی یورپ کے ممالک اب اس خیال کے کچھ زیادہ حامی ہیں، مگر پھر بھی وہ امریکہ کے ساتھ دہائیوں پر محیط دفاعی تعلقات ٹوٹنے سے خوفزدہ ہیں۔ جنگ نے اس بحث کو دبا رکھا تھا؛ لیکن یوکرین میں امن کا قیام ان تمام دبے ہوئے اختلافات کو سطح پر لے آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امن کے بعد یہ جنگ کا خاتمہ یورپی یونین مشرقی یورپ جنگ کے بعد اتحاد میں کے ساتھ یورپ کے حملے کے یورپ کی کے خلاف روس کے کیا اب کے لیے کی نظر روس کو

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی