یورپ کی ذہنی موت اور ٹوٹ پھوٹ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: تاہم امن کے بعد یہ اتحاد زیادہ دیر قائم رہنے کا امکان کم ہے۔ مشرقی یورپ کے ممالک، جیسے بالٹک ریاستیں، فن لینڈ اور پولینڈ، جنگ بندی کو ایک طرف راحت اور دوسری طرف شدید بے چینی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں جنگ کا خاتمہ روس کو انہی ممالک کے خلاف نئی طاقت اور اگلے حملے کے لیے آزادی دے سکتا ہے۔ ۲۰۲۲ سے اب تک یوکرینی سپاہی روسی حملے کے خلاف ڈھال رہے ہیں، مگر امن کے بعد یہ ڈھال کمزور پڑ جائے گی۔ مشرقی یورپ روس کو مزید تنہا دیکھنا چاہے گا، لیکن مغربی یورپ میں سوال اٹھے گا: "کیا اب بھی ہمیں دفاع پر اتنا خرچ کرنے کی ضرورت ہے؟" اور وہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ان دونوں نقطۂ نظر کا ایک ہی اتحاد میں اکٹھا رہنا مشکل ہوگا۔ خصوصی رپورٹ:
اکانومسٹ نے اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ جونہی یوکرین کی جنگ کا خاتمہ ہوگا یورپ کی ٹوٹ پھوٹ کا آغاز ہو جائیگا۔ چونکہ یوکرین جنگ نے یورپی ممالک کو روس کے خلاف متحد کر دیا تھا، اس جنگ کا خاتمہ یورپی اتحاد میں دراڑوں کی ابتدا بن سکتا ہے۔ اکانومسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں یوکرین جنگ کے بعد کی ممکنہ صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "۱۳۷۲ دن کی اس جنگ کے بعد، جو بظاہر صرف تین دن تک محدود رہنی تھی، کیا اب یوکرین میں امن کی کوئی امید دکھائی دیتی ہے؟" اس کا انجام کسی کو نہیں معلوم۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ اور روس کے درمیان تیزرفتار سفارتی کوششوں نے خاصا شور پیدا کیا ہے، خصوصاً اُن یورپی ممالک میں جو امن مذاکرات میں نظرانداز کیے جانے پر ناراض ہیں۔
جنگ کے اختتام کے ساتھ یورپی یونین کی کمزوری ظاہر ہونے کا خدشہ:
ابھی تک جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں۔ شاید یوکرین نے صحیح فیصلہ کیا کہ اس مبہم معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا جو بظاہر کریملن اور وائٹ ہاؤس کے درمیان طے ہو رہا تھا۔ بہرحال، ایک دن، جس کی امید جلد ہی ہے، ایسا سمجھوتا سامنے آئے گا جسے نہ صرف یوکرین بلکہ روس بھی قبول کر سکیں گے۔ وہ لمحہ یقیناً راحت کا باعث ہوگا، لیکن اسی وقت یورپ کے پڑوسی ممالک کے لیے مشکل نتائج بھی لائے گا۔ جنگ نے یورپ کو متحد کیا ہے، مگر جنگ کا خاتمہ اس اتحاد کے بکھرنے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا۔
یہ چار سالہ اتحاد جنگ کے بعد برقرار نہیں رہ سکے گا:
تقریباً چار سال تک یورپ کی سرحد پر جاری اس جنگ نے ایک ایسی غیرمعمولی یکجہتی پیدا کی، جو اس براعظم میں عموماً کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ روس کی جارحیت کے جھٹکے نے اسکینڈینیویا سے لے کر بحیرۂ روم تک ایک مشترکہ احساس اور نئے عالمی تغیرات کی مشترکہ سمجھ پیدا کی۔ چند تبدیلیاں قومی سطح پر ظاہر ہوئیں، مثلاً جرمنی میں "عہدِ نو" کا اعلان جس نے اس ملک کی جنگ بعد امن پسندی کی دیرینہ سوچ کو بدل دیا۔ لیکن مجموعی طور پر جنگ نے یورپی یونین کو حقیقی اتحاد میں تبدیل کیا۔ یورپی یونین کے ۲۷ ممالک نے مل کر لاکھوں یوکرینی مہاجرین کو پناہ دی، اسلحہ و مالی امداد فراہم کی، یوکرین کے یورپی یونین میں داخلے کے راستے کھولے، اور روس پر ۲۰ پیکجز پر مشتمل پابندیاں عائد کیں۔ کبھی رفتار سست تھی، کبھی عمل ناقص، مگر زلنسکی کے مشکل ترین دنوں میں بروکسل کی میٹنگیں ان کے لیے امید کا باعث بنتی تھیں۔
جنگ ختم ہونے پر کچھ یورپی ممالک میں خوف پیدا ہوگا:
تاہم امن کے بعد یہ اتحاد زیادہ دیر قائم رہنے کا امکان کم ہے۔ مشرقی یورپ کے ممالک، جیسے بالٹک ریاستیں، فن لینڈ اور پولینڈ، جنگ بندی کو ایک طرف راحت اور دوسری طرف شدید بے چینی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں جنگ کا خاتمہ روس کو انہی ممالک کے خلاف نئی طاقت اور اگلے حملے کے لیے آزادی دے سکتا ہے۔ ۲۰۲۲ سے اب تک یوکرینی سپاہی روسی حملے کے خلاف ڈھال رہے ہیں، مگر امن کے بعد یہ ڈھال کمزور پڑ جائے گی۔
مشرقی یورپ روس کو مزید تنہا دیکھنا چاہے گا، لیکن مغربی یورپ میں سوال اٹھے گا: "کیا اب بھی ہمیں دفاع پر اتنا خرچ کرنے کی ضرورت ہے؟" اور وہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ان دونوں نقطۂ نظر کا ایک ہی اتحاد میں اکٹھا رہنا مشکل ہوگا۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوجائے گی جب جنگ کے بعد کی ممکنہ امریکی روسی امن تجویز روس کو عالمی برادری میں واپس لانے کی کوشش کرے گی، حتیٰ کہ جی ۸ میں دوبارہ شمولیت تک۔ یہ منصوبہ روس پر عائد پابندیاں ہٹانے کا بھی تقاضا کرتا ہے، جبکہ ان میں سے زیادہ تر پابندیاں یورپی یونین نے لگائی تھیں۔ ایسا اقدام اُن حلقوں کو مضبوط کرے گا جو روس کے ساتھ تجارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔
یورپ کے اندر سیاسی لڑائیاں پھر سے بھڑک اٹھیں گی:
محاذ آرائی صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ یورپی پارلیمانوں کے اندر بھی شروع ہوگی۔ یورپ کی دائیں بازو کی پوپولسٹ جماعتیں روس کے ساتھ نرم رویہ رکھتی ہیں۔ جرمنی میں بعض حلقے ممکن ہے روسی گیس کی درآمد دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کریں، چاہے کم مقدار میں ہی کیوں نہ ہو تاکہ توانائی کے اخراجات کم کیے جائیں۔ مگر پولینڈ اور اسٹونیا جیسے ممالک اسے کھلی غداری تصور کریں گے۔
امن کے بعد یوکرین کی بحالی یورپ کے لیے ایک اور چیلنج:
جنگ کے بعد یوکرین ایک تباہ حال ملک ہوگا۔ یورپ نہیں چاہے گا کہ اس کے پہلو میں ایک مفلوک الحال پڑوسی موجود ہو، مگر جنگ ختم ہونے کے بعد یوکرین کے ساتھ وہ ہمدردی شاید برقرار نہ رہے۔ سوال اٹھے گا کہ ۲۰۲۲ میں جن مہاجرین کو خوش آمدید کہا گیا تھا، کیا اب انہیں واپس نہیں جانا چاہیے؟ اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کی بھاری لاگت کون اٹھائے گا؟ یورپ نے روس کے ۱۰۰ ارب یورو سے زائد منجمد اثاثوں کے استعمال کا منصوبہ بنایا تھا، مگر امریکہ کے ۲۸ نکاتی امن منصوبے میں صاف ظاہر ہے کہ واشنگٹن بھی ان اثاثوں اور یوکرین کی تعمیرِ نو کے معاشی مواقع میں اپنا حصہ چاہتا ہے۔
نیٹو کی ذہنی موت، امریکا پر انحصار کا بحران:
شاید سب سے بڑی دراڑ امریکہ سے تعلقات میں پڑے گی۔ یورپی اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ، خصوصاً ٹرمپ کی صدارت کے بعد، اب پہلے کی طرح قابلِ اعتماد اتحادی نہیں رہا۔ یورپ میں "اسٹریٹجک خودمختاری" کی بحث برسوں سے جاری ہے، اور میکرون جنگ سے پہلے ہی نیٹو کو "دماغی طور پر مردہ" قرار دے چکے تھے۔ وسطی اور شمالی یورپ کے ممالک اب اس خیال کے کچھ زیادہ حامی ہیں، مگر پھر بھی وہ امریکہ کے ساتھ دہائیوں پر محیط دفاعی تعلقات ٹوٹنے سے خوفزدہ ہیں۔ جنگ نے اس بحث کو دبا رکھا تھا؛ لیکن یوکرین میں امن کا قیام ان تمام دبے ہوئے اختلافات کو سطح پر لے آئے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امن کے بعد یہ جنگ کا خاتمہ یورپی یونین مشرقی یورپ جنگ کے بعد اتحاد میں کے ساتھ یورپ کے حملے کے یورپ کی کے خلاف روس کے کیا اب کے لیے کی نظر روس کو
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔