Islam Times:
2025-11-30@22:32:56 GMT

یورپ کی ذہنی موت اور ٹوٹ پھوٹ کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

یورپ کی ذہنی موت اور ٹوٹ پھوٹ کا آغاز

اسلام ٹائمز: تاہم امن کے بعد یہ اتحاد زیادہ دیر قائم رہنے کا امکان کم ہے۔ مشرقی یورپ کے ممالک، جیسے بالٹک ریاستیں، فن لینڈ اور پولینڈ، جنگ بندی کو ایک طرف راحت اور دوسری طرف شدید بے چینی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں جنگ کا خاتمہ روس کو انہی ممالک کے خلاف نئی طاقت اور اگلے حملے کے لیے آزادی دے سکتا ہے۔ ۲۰۲۲ سے اب تک یوکرینی سپاہی روسی حملے کے خلاف ڈھال رہے ہیں، مگر امن کے بعد یہ ڈھال کمزور پڑ جائے گی۔ مشرقی یورپ روس کو مزید تنہا دیکھنا چاہے گا، لیکن مغربی یورپ میں سوال اٹھے گا: "کیا اب بھی ہمیں دفاع پر اتنا خرچ کرنے کی ضرورت ہے؟" اور وہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ان دونوں نقطۂ نظر کا ایک ہی اتحاد میں اکٹھا رہنا مشکل ہوگا۔ خصوصی رپورٹ:

اکانومسٹ نے اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ جونہی یوکرین کی جنگ کا خاتمہ ہوگا یورپ کی ٹوٹ پھوٹ کا آغاز ہو جائیگا۔ چونکہ یوکرین جنگ نے یورپی ممالک کو روس کے خلاف متحد کر دیا تھا، اس جنگ کا خاتمہ یورپی اتحاد میں دراڑوں کی ابتدا بن سکتا ہے۔ اکانومسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں یوکرین جنگ کے بعد کی ممکنہ صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "۱۳۷۲ دن کی اس جنگ کے بعد، جو بظاہر صرف تین دن تک محدود رہنی تھی، کیا اب یوکرین میں امن کی کوئی امید دکھائی دیتی ہے؟" اس کا انجام کسی کو نہیں معلوم۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ اور روس کے درمیان تیزرفتار سفارتی کوششوں نے خاصا شور پیدا کیا ہے، خصوصاً اُن یورپی ممالک میں جو امن مذاکرات میں نظرانداز کیے جانے پر ناراض ہیں۔

جنگ کے اختتام کے ساتھ یورپی یونین کی کمزوری ظاہر ہونے کا خدشہ:
ابھی تک جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں۔ شاید یوکرین نے صحیح فیصلہ کیا کہ اس مبہم معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا جو بظاہر کریملن اور وائٹ ہاؤس کے درمیان طے ہو رہا تھا۔ بہرحال، ایک دن، جس کی امید جلد ہی ہے، ایسا سمجھوتا سامنے آئے گا جسے نہ صرف یوکرین بلکہ روس بھی قبول کر سکیں گے۔ وہ لمحہ یقیناً راحت کا باعث ہوگا، لیکن اسی وقت یورپ کے پڑوسی ممالک کے لیے مشکل نتائج بھی لائے گا۔ جنگ نے یورپ کو متحد کیا ہے، مگر جنگ کا خاتمہ اس اتحاد کے بکھرنے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا۔

یہ چار سالہ اتحاد جنگ کے بعد برقرار نہیں رہ سکے گا:
تقریباً چار سال تک یورپ کی سرحد پر جاری اس جنگ نے ایک ایسی غیرمعمولی یکجہتی پیدا کی، جو اس براعظم میں عموماً کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ روس کی جارحیت کے جھٹکے نے اسکینڈینیویا سے لے کر بحیرۂ روم تک ایک مشترکہ احساس اور نئے عالمی تغیرات کی مشترکہ سمجھ پیدا کی۔ چند تبدیلیاں قومی سطح پر ظاہر ہوئیں، مثلاً جرمنی میں "عہدِ نو" کا اعلان جس نے اس ملک کی جنگ بعد امن پسندی کی دیرینہ سوچ کو بدل دیا۔ لیکن مجموعی طور پر جنگ نے یورپی یونین کو حقیقی اتحاد میں تبدیل کیا۔ یورپی یونین کے ۲۷ ممالک نے مل کر لاکھوں یوکرینی مہاجرین کو پناہ دی، اسلحہ و مالی امداد فراہم کی، یوکرین کے یورپی یونین میں داخلے کے راستے کھولے، اور روس پر ۲۰ پیکجز پر مشتمل پابندیاں عائد کیں۔ کبھی رفتار سست تھی، کبھی عمل ناقص، مگر زلنسکی کے مشکل ترین دنوں میں بروکسل کی میٹنگیں ان کے لیے امید کا باعث بنتی تھیں۔

جنگ ختم ہونے پر کچھ یورپی ممالک میں خوف پیدا ہوگا:
تاہم امن کے بعد یہ اتحاد زیادہ دیر قائم رہنے کا امکان کم ہے۔ مشرقی یورپ کے ممالک، جیسے بالٹک ریاستیں، فن لینڈ اور پولینڈ، جنگ بندی کو ایک طرف راحت اور دوسری طرف شدید بے چینی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں جنگ کا خاتمہ روس کو انہی ممالک کے خلاف نئی طاقت اور اگلے حملے کے لیے آزادی دے سکتا ہے۔ ۲۰۲۲ سے اب تک یوکرینی سپاہی روسی حملے کے خلاف ڈھال رہے ہیں، مگر امن کے بعد یہ ڈھال کمزور پڑ جائے گی۔ 

مشرقی یورپ روس کو مزید تنہا دیکھنا چاہے گا، لیکن مغربی یورپ میں سوال اٹھے گا: "کیا اب بھی ہمیں دفاع پر اتنا خرچ کرنے کی ضرورت ہے؟" اور وہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ان دونوں نقطۂ نظر کا ایک ہی اتحاد میں اکٹھا رہنا مشکل ہوگا۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوجائے گی جب جنگ کے بعد کی ممکنہ امریکی روسی امن تجویز روس کو عالمی برادری میں واپس لانے کی کوشش کرے گی، حتیٰ کہ جی ۸ میں دوبارہ شمولیت تک۔ یہ منصوبہ روس پر عائد پابندیاں ہٹانے کا بھی تقاضا کرتا ہے، جبکہ ان میں سے زیادہ تر پابندیاں یورپی یونین نے لگائی تھیں۔ ایسا اقدام اُن حلقوں کو مضبوط کرے گا جو روس کے ساتھ تجارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔

یورپ کے اندر سیاسی لڑائیاں پھر سے بھڑک اٹھیں گی:
محاذ آرائی صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ یورپی پارلیمانوں کے اندر بھی شروع ہوگی۔ یورپ کی دائیں بازو کی پوپولسٹ جماعتیں روس کے ساتھ نرم رویہ رکھتی ہیں۔ جرمنی میں بعض حلقے ممکن ہے روسی گیس کی درآمد دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کریں، چاہے کم مقدار میں ہی کیوں نہ ہو تاکہ توانائی کے اخراجات کم کیے جائیں۔ مگر پولینڈ اور اسٹونیا جیسے ممالک اسے کھلی غداری تصور کریں گے۔

امن کے بعد یوکرین کی بحالی یورپ کے لیے ایک اور چیلنج:
جنگ کے بعد یوکرین ایک تباہ حال ملک ہوگا۔ یورپ نہیں چاہے گا کہ اس کے پہلو میں ایک مفلوک الحال پڑوسی موجود ہو، مگر جنگ ختم ہونے کے بعد یوکرین کے ساتھ وہ ہمدردی شاید برقرار نہ رہے۔ سوال اٹھے گا کہ ۲۰۲۲ میں جن مہاجرین کو خوش آمدید کہا گیا تھا، کیا اب انہیں واپس نہیں جانا چاہیے؟ اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کی بھاری لاگت کون اٹھائے گا؟ یورپ نے روس کے ۱۰۰ ارب یورو سے زائد منجمد اثاثوں کے استعمال کا منصوبہ بنایا تھا، مگر امریکہ کے ۲۸ نکاتی امن منصوبے میں صاف ظاہر ہے کہ واشنگٹن بھی ان اثاثوں اور یوکرین کی تعمیرِ نو کے معاشی مواقع میں اپنا حصہ چاہتا ہے۔

نیٹو کی ذہنی موت، امریکا پر انحصار کا بحران:
شاید سب سے بڑی دراڑ امریکہ سے تعلقات میں پڑے گی۔ یورپی اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ، خصوصاً ٹرمپ کی صدارت کے بعد، اب پہلے کی طرح قابلِ اعتماد اتحادی نہیں رہا۔ یورپ میں "اسٹریٹجک خودمختاری" کی بحث برسوں سے جاری ہے، اور میکرون جنگ سے پہلے ہی نیٹو کو "دماغی طور پر مردہ" قرار دے چکے تھے۔ وسطی اور شمالی یورپ کے ممالک اب اس خیال کے کچھ زیادہ حامی ہیں، مگر پھر بھی وہ امریکہ کے ساتھ دہائیوں پر محیط دفاعی تعلقات ٹوٹنے سے خوفزدہ ہیں۔ جنگ نے اس بحث کو دبا رکھا تھا؛ لیکن یوکرین میں امن کا قیام ان تمام دبے ہوئے اختلافات کو سطح پر لے آئے گا۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امن کے بعد یہ جنگ کا خاتمہ یورپی یونین مشرقی یورپ جنگ کے بعد اتحاد میں کے ساتھ یورپ کے حملے کے یورپ کی کے خلاف روس کے کیا اب کے لیے کی نظر روس کو

پڑھیں:

جنگ کی صلیب پر رکھا ہوا یوکرین

دنیا کی آنکھوں کے سامنے ایک اور تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ خون ،آنسو اور ماؤں کی ہچکیوں سے بھری ہوئی تاریخ۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ دو ملکوں کا تنازعہ نہیں رہی، یہ سرمایہ دار طاقتوں کے مفادات، اسلحہ ساز کمپنیوں کی بھوک اور عالمی سیاست کے بے رحم کھیل کی بھٹی میں دہکتی وہ آگ ہے جس کی لپٹیں بچوں کے جھلسے ہوئے وجود تک پہنچ چکی ہیں۔

ایسے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی جارحانہ سفارت کاری جو خود ان کی صدارت کا سب سے بڑا امتحان بنتی جا رہی ہے۔ دنیا کے سامنے ایک بار پھر اس سوال کو کھڑا کرتی ہے کہ آخر امن کس کی ترجیح ہے اور جنگ کس کا کاروبار۔

ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو 27 نومبر کی ایک سخت ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ 28 نکاتی امن فارمولا قبول کریں۔ یہ فارمولا میامی کے ایک پرتعیش کمرے میں اسٹیو وٹکوف اور کریملن کے قریبی کیریل دمترییف نے تیارکیا۔

ایک ایسا مسودہ جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے جنگ زدہ یوکرین کے مستقبل پر قلم امریکی ہاتھ نہیں بلکہ ماسکو کی انگلیاں چلا رہی ہوں۔ اس تجویز میں یوکرین سے نہ صرف متنازع علاقوں بلکہ اضافی زمین روس کو دینے کا مطالبہ شامل ہے۔

اس کے ساتھ یوکرین کی فوجی طاقت پر قدغن لگانے، نیٹو سے فاصلہ رکھنے اور روسی جنگی جرائم پر کارروائی روکنے جیسی سفارتی ناکہ بندی بھی مسلط کی گئی ہے۔ بدلے میں کیا ہے؟ صرف مبہم دھند میں لپٹی امریکی سیکیورٹی ضمانتیں جن کا کوئی ٹھوس ڈھانچہ نہیں کوئی واضح لائحہ عمل نہیں۔

یوکرینی صدر اس تجویز کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے اسے تاریخ کے مشکل ترین لمحات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جنگ میں تھکے ہوئے لوگ امن کا لفظ سن کر چونکتے ضرور ہیں مگر جب امن کی قیمت ان کی زمین، ان کی خود مختاری اور ان کی نسلوں کا مستقبل ہو تو فیصلہ کرنا آسان نہیں رہتا۔ یوکرین کی عوام کسی بھی اضافی زمین کے چھوڑنے پر تیار نہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ محض آغاز ہوگا انجام نہیں۔

زیلنسکی نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ اخلاقی اور قومی سطح پر بھی ایک خوفناک موڑ پر کھڑے ہیں، اگر وہ یہ فارمولا قبول کرتے ہیں تو تاریخ انھیں شاید کبھی معاف نہ کرے اور اگر نہیں کرتے تو جنگ مزید بھڑک سکتی ہے۔ یہ وہی لمحہ ہے جسے اقوام کا اجتماعی ضمیر آزمائش کہتا ہے۔


یورپی رہنما اس منصوبے میں سنگین خامیوں کی نشان دہی کر رہے ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ فارمولا مستقبل کے روسی حملوں کا دروازہ کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ نیٹو اتحاد کے لیے بھی یہ آزمائش ہے کیونکہ اگر ٹرمپ کی یہ کوشش ناکام ہوئی تو یورپی اعتماد مزید ڈگمگائے گا اور وہ بین الاقوامی اتحاد جس نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کو ایک حد تک استحکام دیا مزید بکھرنے لگے گا۔

ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان کی ذاتی کیمسٹری پوتن کو منوا لے گی مگر تاریخ کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ کسی بھی آمر سے دوستی کر کے کمزور ملکوں کو امن نہیں ملا، صرف وقتی خاموشی ملی ہے جو ایک اور دھماکے کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ پوتن بار بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ یوکرین کی مکمل کمزوری کو ہی روس کا تزویراتی مقصد سمجھتے ہیں۔

جنگ کے نقشے سفارتی مسودے عالمی طاقتوں کی شرائط یہ سب سیاسی لغت کا حصہ ہیں، مگر ان نقشوں میں وہ چہرے نہیں دکھائے جاتے جنھوں نے ہمیشہ سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے یعنی بچے۔ یوکرین کی گلیاں کئی برسوں سے ملبہ بارود اور ٹوٹے کھلونوں سے بھری ہیں۔

سیکڑوں نہیں، ہزاروں بچے اس جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ کچھ بہرے ہوگئے، کچھ بینائی کھو بیٹھے، کچھ اپنے والدین اور کچھ اپنی ایک چھوٹی سی اناٹومی جس میں زندگی کبھی پھر پوری طرح لوٹ کر نہیں آئے گی۔

جنگ کسی ملک کے خلاف نہیں بچوں کے خلاف ہوتی ہے۔ اسپتالوں کے بستروں پر پڑے وہ ننھے جسم دنیا کی بڑی طاقتوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر یہ جنگ کس کی ہے؟ وہ اپنی ماؤں کی گودوں میں یتیمی کا خوف لے کر سو جاتے ہیں جب کہ دنیا کے دارالحکومتوں میں طاقتور میزوں پر بیٹھے لوگ نقشوں کی لکیروں میں امن تلاش کرتے ہیں، زندگی نہیں۔

جینیوا میں جاری مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے دنیا بے چین ہے مگر ہر ملک امن اپنی شرائط کے ساتھ چاہتا ہے۔

کوئی بھی فریق بچوں کے نام پر معصوم زندگیوں کے نام پر اپنے مفادات کی قربانی دینے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 27 نومبر کی ڈیڈلائن قریب آ رہی ہے مگر امن ابھی بھی ایک دور کی صدا لگتا ہے۔

ہم کسی کے ساتھ بھی نہیں، نہ روس کے، نہ یوکرین کے، نہ امریکا کے۔ ہم صرف اور صرف انسانیت کے ساتھ ہیں۔ دنیا کا ہر ترقی پسند ہر بایاں ذہن رکھنے والا شخص جانتا ہے کہ جنگیں کبھی عوام کے فائدے میں نہیں ہوتیں۔

یہ حکمرانوں کے کھیل ہیں، سرمایہ دار طاقتوں کی کمائی ہے اور غریبوں کی موت کے پروانے۔امن کا مطلب کسی طاقتور کے ہاتھوں کمزور کی شکست نہیں۔ امن کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ماں بچے کا کفن نہ خریدے، کوئی باپ سرحد پر اپنے لختِ جگر کا ٹکڑا نہ ڈھونڈتا پھرے، کوئی بچہ خوف کے سائے میں جوان نہ ہو۔

ٹرمپ کی سفارت کاری ہو، پوتن کی طاقت ہو یا زیلنسکی کی مزاحمت یہ سب اپنی جگہ۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا یہ تسلیم کرے کہ جنگیں جیتنے کے لیے نہیں، ختم کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔

اور کسی بھی فارمولا میں اگر بچوں کی زندگیوں کا ذکر نہ ہو، تو وہ فارمولا جنگ کا نیا باب ہے امن کا نہیں۔دنیا کو اس جنگ میں کسی ایک فریق کا ساتھ نہیں دینا چاہیے بلکہ اس جنگ کو ختم کرنے میں ساتھ دینا چاہیے، کیونکہ آخر میں نہ زمین جیتتی ہے نہ سرحدیں۔

جیتتے یا ہارتے صرف انسان ہیں۔ وقت گزر رہا ہے۔ فیصلہ باقی ہے لیکن انسانیت کا سوال وہیں کھڑا ہے، کیا ہم ایک اور نسل کو جنگ کے حوالے کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹر مشاہد حسین ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم کے چیئرمین منتخب
  • سینیٹر مشاہد حسین، ایشیایورپ پولیٹیکل فورم کے چیئرمین منتخب
  • سینیٹر مشاہد حسین ایشیا-یورپ پولیٹیکل فورم کے چیئرمین منتخب
  • چار صدی پرانے اسپین کے سکے نے نیلامی میں یورپ کا ریکارڈ توڑ دیا
  • جنگ کی صلیب پر رکھا ہوا یوکرین
  • اساتذہ کو نوٹسز جاری کرنا سراسر غیر دانشمندانہ اقدام ہے، عمران ندیم
  • میری ریمپ واک پر تنقید کرنے والے ذہنی مریض ہیں، متھیرا
  • ذہنی صحت کا سوشل میڈیا کے استعمال سے کیا تعلق ہے؟
  • دماغی ارتقا کے پانچ عہد: انسانی ذہانت، شخصیت اور بڑھاپے کی سائنس کا نیا افق