جنگ کی صلیب پر رکھا ہوا یوکرین
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
دنیا کی آنکھوں کے سامنے ایک اور تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ خون ،آنسو اور ماؤں کی ہچکیوں سے بھری ہوئی تاریخ۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ دو ملکوں کا تنازعہ نہیں رہی، یہ سرمایہ دار طاقتوں کے مفادات، اسلحہ ساز کمپنیوں کی بھوک اور عالمی سیاست کے بے رحم کھیل کی بھٹی میں دہکتی وہ آگ ہے جس کی لپٹیں بچوں کے جھلسے ہوئے وجود تک پہنچ چکی ہیں۔
ایسے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی جارحانہ سفارت کاری جو خود ان کی صدارت کا سب سے بڑا امتحان بنتی جا رہی ہے۔ دنیا کے سامنے ایک بار پھر اس سوال کو کھڑا کرتی ہے کہ آخر امن کس کی ترجیح ہے اور جنگ کس کا کاروبار۔
ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو 27 نومبر کی ایک سخت ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ 28 نکاتی امن فارمولا قبول کریں۔ یہ فارمولا میامی کے ایک پرتعیش کمرے میں اسٹیو وٹکوف اور کریملن کے قریبی کیریل دمترییف نے تیارکیا۔
ایک ایسا مسودہ جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے جنگ زدہ یوکرین کے مستقبل پر قلم امریکی ہاتھ نہیں بلکہ ماسکو کی انگلیاں چلا رہی ہوں۔ اس تجویز میں یوکرین سے نہ صرف متنازع علاقوں بلکہ اضافی زمین روس کو دینے کا مطالبہ شامل ہے۔
اس کے ساتھ یوکرین کی فوجی طاقت پر قدغن لگانے، نیٹو سے فاصلہ رکھنے اور روسی جنگی جرائم پر کارروائی روکنے جیسی سفارتی ناکہ بندی بھی مسلط کی گئی ہے۔ بدلے میں کیا ہے؟ صرف مبہم دھند میں لپٹی امریکی سیکیورٹی ضمانتیں جن کا کوئی ٹھوس ڈھانچہ نہیں کوئی واضح لائحہ عمل نہیں۔
یوکرینی صدر اس تجویز کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے اسے تاریخ کے مشکل ترین لمحات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جنگ میں تھکے ہوئے لوگ امن کا لفظ سن کر چونکتے ضرور ہیں مگر جب امن کی قیمت ان کی زمین، ان کی خود مختاری اور ان کی نسلوں کا مستقبل ہو تو فیصلہ کرنا آسان نہیں رہتا۔ یوکرین کی عوام کسی بھی اضافی زمین کے چھوڑنے پر تیار نہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ محض آغاز ہوگا انجام نہیں۔
زیلنسکی نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ اخلاقی اور قومی سطح پر بھی ایک خوفناک موڑ پر کھڑے ہیں، اگر وہ یہ فارمولا قبول کرتے ہیں تو تاریخ انھیں شاید کبھی معاف نہ کرے اور اگر نہیں کرتے تو جنگ مزید بھڑک سکتی ہے۔ یہ وہی لمحہ ہے جسے اقوام کا اجتماعی ضمیر آزمائش کہتا ہے۔
یورپی رہنما اس منصوبے میں سنگین خامیوں کی نشان دہی کر رہے ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ فارمولا مستقبل کے روسی حملوں کا دروازہ کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ نیٹو اتحاد کے لیے بھی یہ آزمائش ہے کیونکہ اگر ٹرمپ کی یہ کوشش ناکام ہوئی تو یورپی اعتماد مزید ڈگمگائے گا اور وہ بین الاقوامی اتحاد جس نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کو ایک حد تک استحکام دیا مزید بکھرنے لگے گا۔
ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان کی ذاتی کیمسٹری پوتن کو منوا لے گی مگر تاریخ کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ کسی بھی آمر سے دوستی کر کے کمزور ملکوں کو امن نہیں ملا، صرف وقتی خاموشی ملی ہے جو ایک اور دھماکے کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ پوتن بار بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ یوکرین کی مکمل کمزوری کو ہی روس کا تزویراتی مقصد سمجھتے ہیں۔
جنگ کے نقشے سفارتی مسودے عالمی طاقتوں کی شرائط یہ سب سیاسی لغت کا حصہ ہیں، مگر ان نقشوں میں وہ چہرے نہیں دکھائے جاتے جنھوں نے ہمیشہ سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے یعنی بچے۔ یوکرین کی گلیاں کئی برسوں سے ملبہ بارود اور ٹوٹے کھلونوں سے بھری ہیں۔
سیکڑوں نہیں، ہزاروں بچے اس جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ کچھ بہرے ہوگئے، کچھ بینائی کھو بیٹھے، کچھ اپنے والدین اور کچھ اپنی ایک چھوٹی سی اناٹومی جس میں زندگی کبھی پھر پوری طرح لوٹ کر نہیں آئے گی۔
جنگ کسی ملک کے خلاف نہیں بچوں کے خلاف ہوتی ہے۔ اسپتالوں کے بستروں پر پڑے وہ ننھے جسم دنیا کی بڑی طاقتوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر یہ جنگ کس کی ہے؟ وہ اپنی ماؤں کی گودوں میں یتیمی کا خوف لے کر سو جاتے ہیں جب کہ دنیا کے دارالحکومتوں میں طاقتور میزوں پر بیٹھے لوگ نقشوں کی لکیروں میں امن تلاش کرتے ہیں، زندگی نہیں۔
جینیوا میں جاری مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے دنیا بے چین ہے مگر ہر ملک امن اپنی شرائط کے ساتھ چاہتا ہے۔
کوئی بھی فریق بچوں کے نام پر معصوم زندگیوں کے نام پر اپنے مفادات کی قربانی دینے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 27 نومبر کی ڈیڈلائن قریب آ رہی ہے مگر امن ابھی بھی ایک دور کی صدا لگتا ہے۔
ہم کسی کے ساتھ بھی نہیں، نہ روس کے، نہ یوکرین کے، نہ امریکا کے۔ ہم صرف اور صرف انسانیت کے ساتھ ہیں۔ دنیا کا ہر ترقی پسند ہر بایاں ذہن رکھنے والا شخص جانتا ہے کہ جنگیں کبھی عوام کے فائدے میں نہیں ہوتیں۔
یہ حکمرانوں کے کھیل ہیں، سرمایہ دار طاقتوں کی کمائی ہے اور غریبوں کی موت کے پروانے۔امن کا مطلب کسی طاقتور کے ہاتھوں کمزور کی شکست نہیں۔ امن کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ماں بچے کا کفن نہ خریدے، کوئی باپ سرحد پر اپنے لختِ جگر کا ٹکڑا نہ ڈھونڈتا پھرے، کوئی بچہ خوف کے سائے میں جوان نہ ہو۔
ٹرمپ کی سفارت کاری ہو، پوتن کی طاقت ہو یا زیلنسکی کی مزاحمت یہ سب اپنی جگہ۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا یہ تسلیم کرے کہ جنگیں جیتنے کے لیے نہیں، ختم کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔
اور کسی بھی فارمولا میں اگر بچوں کی زندگیوں کا ذکر نہ ہو، تو وہ فارمولا جنگ کا نیا باب ہے امن کا نہیں۔دنیا کو اس جنگ میں کسی ایک فریق کا ساتھ نہیں دینا چاہیے بلکہ اس جنگ کو ختم کرنے میں ساتھ دینا چاہیے، کیونکہ آخر میں نہ زمین جیتتی ہے نہ سرحدیں۔
جیتتے یا ہارتے صرف انسان ہیں۔ وقت گزر رہا ہے۔ فیصلہ باقی ہے لیکن انسانیت کا سوال وہیں کھڑا ہے، کیا ہم ایک اور نسل کو جنگ کے حوالے کریں گے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یوکرین کی کے ساتھ ہیں کہ کہ جنگ امن کا کے لیے
پڑھیں:
افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے-
25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ رواں سال صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ باررڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈ پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہونگے، پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورت حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اس کے برعکس ،افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں-
اگر افغان بارڈر سے متصل علاقوں کو دیکھا جائے تو وہاں آپکو بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ دیکھنے کو ملتاہے جو گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جسکی سہولت کاری فتنتہ آلخوارج کرتے ہیں-
اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آرہی ہیں یا غیر قانونی اسمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہےتو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہےتو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں-
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں، افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ ، داعش اور دہشتگرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے-
انہوں نے کہا کہ وہاں سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے انکے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں۔اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے توپاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
پاکستان کے اس موقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے، فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں غیر منطقی ہے، اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم انکو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ SIGAR کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے-
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اورحکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا، طالبان رجیم نے اس وقت Non State Actor پالے ہوئے ہیں جو خطے کےمختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں-
پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہئے، دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا مگر اس پراب تک عمل نہیں ہوا-
افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں، ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے، پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے، ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت کی اجارہ داری ہے، انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے۔
جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملہ ہو جائے اور ایس-400کی بیٹریاں تباہ ہو جائیں تو ایسے ٹریلر پر مبنی فلم ان کیلئے horror فلم بن جائے گی، سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں-
کوئی بھی ملک اگرافغان طالبان رجیم کو فوجی سازو سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشتگردوں کے ہاتھ ہی لگے گا، ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانےوالے X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں،
دہشتگردی پر تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہےکہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے، اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے- جبکہ خیبر پختونخوا میں اسکی کمی نظر آتی ہے۔
اس نظام کے تحت ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور implementation کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ غیر قانونی اسپیکٹرم کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اس مد میں حاصل ہونے والی رقم دہشتگردی کے فروغ کیلئے استعمال کی جاتی ہے-
ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر آرمی اور ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے 20.5 ملین لیٹر ڈیزل کی یومیہ اسمگلنگ ہوتی تھی، یہ مقدار کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ پر آ چکی ہے، ایران سے سمگل ہونے والے ڈیزل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بی ایل اے اور BYC کو جاتی ہے-
نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باعث بلوچستان کے 27 ضلعوں کو پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جا چکا ہے جو کہ بلوچستان کا 86فیصد حصہ ہے، بلوچستان میں صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کر رہے ہیں۔اس طرح کی 140 یومیہ اور 4000 ماہانہ انگیجمنٹ ہو رہی ہیں جسکے بہت دورس نتائج ہیں، ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جا سکتا-