Jasarat News:
2026-07-24@08:01:17 GMT

غزہ صرف فلسطینیوں کا

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251201-03-4
میر بابر مشتاق
اس دنیا میں کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جغرافیہ بدل سکتا ہے نہ تاریخ مٹا سکتی ہے۔ ظلم کی تیز ہوائیں جب بھی چلیں، کچھ آوازیں ایسی ضرور اٹھتی ہیں جو اعلان کرتی ہیں کہ حق کبھی مر نہیں سکتا۔ غزہ انہی ابدی سچائیوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسی سرزمین جس کا وجود، اس کی شناخت اور اس کی حاکمیت صرف اور صرف فلسطینی عوام کی ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکا کی جانب سے پیش کی گئی غزہ امن قرارداد بظاہر امن کے نام پر پیش کی گئی ایک سفارتی چادر ہے، مگر چین اور روس نے اس چادر کا وہ کونا اٹھایا ہے جس کے نیچے طاقت کی سیاست، اسٹرٹیجک مفادات اور ’’امن‘‘ کے نام پر مسلط کیا جانے والا نیا عالمی نظام چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک نے دوٹوک انداز میں کہا: ’’غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے، کسی بیرونی قوت کا نہیں‘‘۔ امریکا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک ایسی قرارداد پیش کی جس میں ’’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘‘ کو غزہ میں تعینات کرنے کی تجویز دی گئی۔ بظاہر یہ فورس امن، نظم و نسق اور تعمیر نو میں مدد دے گی، لیکن اس کے خدوخال، ساخت، اختیارات، مدت، نگرانی اور فلسطینی عوام کی منظوری کے بارے میں قرارداد میں ایک بھی واضح شق موجود نہیں۔ یہی وہ خامی ہے جس نے چین اور روس کو ہشیار کر دیا۔ چینی نمائندے فو کونگ نے واضح کہا: قرارداد فلسطینی حکمرانی کے اصولوں کی عکاسی نہیں کرتی۔ امریکی منصوبہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر بنایا گیا۔ اسٹیبلائزیشن فورس حقیقتاً کس کے کنٹرول میں ہو گی؟ امریکا نے کوئی وضاحت نہیں دی۔ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا ڈھانچہ، اختیارات اور فیصلہ سازی کا طریقہ کار مکمل طور پر مبہم ہے۔

یہ اعتراضات معمولی نہیں۔ یہ دراصل اس بڑے خدشے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا غزہ کے مستقبل کو ان طاقتوں کے ہاتھ دینا چاہتا ہے جو پہلے ہی خطے میں فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر مداخلت کرتی رہی ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ تشویش کا نچوڑ صرف اتنا نہیں کہ قرارداد غیر شفاف ہے بلکہ یہ بھی کہ کہیں غزہ کو ’’بین الاقوامی نگرانی‘‘ کے نام پر نئے سیاسی قبضے کے لیے تیار تو نہیں کیا جا رہا۔

چین کا مؤقف واضح ہے کہ کوئی بھی امن منصوبہ تب تک قابل ِ قبول نہیں جب تک: 1۔ فلسطینی عوام اس کے حقیقی شریک نہ ہوں۔ 2۔ فلسطینی سیاسی قیادت کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ 3۔ کسی بیرونی فورس کو طاقت کا مکمل اختیار نہ دیا جائے۔ روس بھی اسی زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ امریکا ایک ایسا ڈھانچہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ذریعے فلسطینی مزاحمت، مقامی قیادت اور سیاسی نظام کو غیر مؤثر بنا کر غزہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا جائے۔ یہ اعتراضات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی طاقتیں جانتی ہیں کہ امریکا کی ’’امن قرارداد‘‘ دراصل فلسطینیوں کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

سلامتی کونسل کی ووٹنگ؛ حمایت زیادہ، اعتماد کم: قرارداد کے حق میں 14 ووٹ آئے۔ بظاہر یہ ایک بڑی کامیابی تھی، لیکن مخالفت نہ ہونے کے باوجود چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ: قرارداد پر مکمل اعتماد نہیں۔ اس میں بڑے سیاسی تضادات موجود ہیں۔ فلسطینی عوام کی نمائندگی غائب ہے۔ منصوبہ یک طرفہ ہے اور امریکی اثرات سے بھرپور ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا نے فلسطینیوں کے مستقبل کا کوئی منصوبہ ان سے پوچھے بغیر بنایا ہو۔ دنیا بھر کے تجزیہ کار ایک بات پر متفق ہیں کہ غزہ کا مسئلہ فوجی یا سفارتی قوتوں کی مدد سے نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی مرضی اور فیصلہ سازی کے ذریعے حل ہوگا۔

غزہ صرف فلسطینیوں کا اس لیے نہیں کہ وہ وہاں رہتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ: غزہ کی سرزمین ان کے تاریخی، مذہبی اور سیاسی وجود کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس زمین پر قربانیوں کی ایک نسل پیش کی ہے۔ یہ سرزمین مزاحمت، وقار اور آزادی کی علامت ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت فلسطینی عوام کی شناخت، جدوجہد یا حاکمیت کو محو نہیں کر سکتی۔ امریکی قرارداد ان بنیادی سچائیوں سے چشم پوشی کرتی ہے، جس کے نتیجے میں چین اور روس نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔امریکی منصوبہ فلسطینی قیادت کو بائی پاس کرنے کی کوشش۔

قابل ِ غور بات یہ ہے کہ قرارداد میں کہیں بھی: حماس، اسلامی جہاد، منتخب فلسطینی پارلیمان، غزہ کے مقامی انتظامی نظام، فلسطینی اتھارٹی کی محدود حیثیت۔ ان سب کے سیاسی کردار کو کوئی واضح مقام نہیں دیا گیا۔ یعنی امریکا ایسا منصوبہ چاہتا ہے جس میں فلسطینی قیادت کو دیوار سے لگا کر ایک بیرونی ڈھانچہ غزہ پر حکمرانی کرے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو چین و روس کو منظور نہیں۔ چین کے سفیر نے خاص طور پر کہا: ’’اگر کسی فلسطینی زمین پر امن لانا ہے تو اس کی بنیاد فلسطینی عوام کی قیادت اور ان کی سیاسی مرضی پر ہوگی، نہ کہ بیرونی طاقتوں کی ترجیحات پر‘‘۔ امریکا کے پیش کردہ اس منصوبے کے پیچھے ایک اور حقیقت پوشیدہ ہے۔ واشنگٹن کبھی نہیں چاہتا کہ غزہ ایک مکمل آزاد، بااختیار اور سیاسی طور پر متحد خطہ بنے۔ اگر ایسا ہوا تو اسرائیل کے لیے اس کی جارحیت جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ فلسطینی مزاحمت بین الاقوامی سطح پر مضبوط ہو جائے گی۔ عرب دنیا میں اسرائیل مخالف بیانیہ دوبارہ طاقت پکڑ لے گا۔ خطے میں امریکی مفادات کمزور ہو جائیں گے، اسی لیے امریکا ’’امن‘‘ کے نام پر وہ ڈھانچہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو غزہ کو سیاسی طور پر کمزور، فوجی طور پر غیر مؤثر اور سفارتی طور پر بیرونی طاقتوں کا محتاج بنا دے۔

چین اور روس کا مؤقف صرف فلسطین کی حمایت نہیں، بلکہ عالمی نظام میں جاری ایک بڑی تبدیلی کا حصہ ہے۔ آج دنیا ایک نئے سفارتی دوراہے پر کھڑی ہے: امریکا کا یک طرفہ ورلڈ آرڈر کمزور ہو رہا ہے۔ چین ایک متبادل اخلاقی و سیاسی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ روس مغربی بالادستی کے خلاف ایک نئی مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ عالمی جنوب (Global South) امریکا کے بیانیے سے دور ہو رہا ہے۔ غزہ کا معاملہ اس بڑی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ چین اور روس نے صاف کہہ دیا کہ عالمی فیصلے اب واشنگٹن کے اشاروں پر نہیں ہوں گے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ غزہ کے لوگ نہ غلام ہیں نہ بے اختیار۔ وہ اپنی زمین کے اصل مالک ہیں، اور ان کا حق ہے کہ: وہ اپنی قیادت خود منتخب کریں۔ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ وہ اپنی سرزمین کی حفاظت خود کریں۔ اور اپنی سیاسی حکمرانی آزادانہ قائم کریں۔ کوئی قرارداد، کوئی بیرونی فورس، کوئی طاقت کا کھیل فلسطینیوں کے اس بنیادی حق کو چھین نہیں سکتا۔ سلامتی کونسل میں چین اور روس کا مؤقف عالمی طاقتوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ غزہ کے مستقبل کے فیصلے: واشنگٹن، نیویارک، تل ابیب یا کسی عالمی بورڈکے کمروں میں نہیں ہوں گے۔ یہ فیصلے غزہ کے شہیدوں کی قبروں، مزاحمت کے مورچوں اور فلسطینی عوام کے دلوں سے نکلیں گے۔ غزہ کے لوگ اب بھی کھڑے ہیں، ملبے کے درمیان بھی ثابت قدم۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے کوئی قرارداد بدل نہیں سکتی۔ غزہ صرف فلسطینیوں کا تھا، ہے، اور رہے گا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غزہ صرف فلسطینیوں کا فلسطینی عوام کی چین اور روس نے سلامتی کونسل کہ امریکا کے نام پر کا مو قف کی کوشش پیش کی غزہ کے رہا ہے ہیں کہ کہ غزہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی