Jasarat News:
2025-11-30@23:04:01 GMT

غزہ صرف فلسطینیوں کا

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251201-03-4
میر بابر مشتاق
اس دنیا میں کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جغرافیہ بدل سکتا ہے نہ تاریخ مٹا سکتی ہے۔ ظلم کی تیز ہوائیں جب بھی چلیں، کچھ آوازیں ایسی ضرور اٹھتی ہیں جو اعلان کرتی ہیں کہ حق کبھی مر نہیں سکتا۔ غزہ انہی ابدی سچائیوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسی سرزمین جس کا وجود، اس کی شناخت اور اس کی حاکمیت صرف اور صرف فلسطینی عوام کی ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکا کی جانب سے پیش کی گئی غزہ امن قرارداد بظاہر امن کے نام پر پیش کی گئی ایک سفارتی چادر ہے، مگر چین اور روس نے اس چادر کا وہ کونا اٹھایا ہے جس کے نیچے طاقت کی سیاست، اسٹرٹیجک مفادات اور ’’امن‘‘ کے نام پر مسلط کیا جانے والا نیا عالمی نظام چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک نے دوٹوک انداز میں کہا: ’’غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے، کسی بیرونی قوت کا نہیں‘‘۔ امریکا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک ایسی قرارداد پیش کی جس میں ’’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘‘ کو غزہ میں تعینات کرنے کی تجویز دی گئی۔ بظاہر یہ فورس امن، نظم و نسق اور تعمیر نو میں مدد دے گی، لیکن اس کے خدوخال، ساخت، اختیارات، مدت، نگرانی اور فلسطینی عوام کی منظوری کے بارے میں قرارداد میں ایک بھی واضح شق موجود نہیں۔ یہی وہ خامی ہے جس نے چین اور روس کو ہشیار کر دیا۔ چینی نمائندے فو کونگ نے واضح کہا: قرارداد فلسطینی حکمرانی کے اصولوں کی عکاسی نہیں کرتی۔ امریکی منصوبہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر بنایا گیا۔ اسٹیبلائزیشن فورس حقیقتاً کس کے کنٹرول میں ہو گی؟ امریکا نے کوئی وضاحت نہیں دی۔ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا ڈھانچہ، اختیارات اور فیصلہ سازی کا طریقہ کار مکمل طور پر مبہم ہے۔

یہ اعتراضات معمولی نہیں۔ یہ دراصل اس بڑے خدشے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا غزہ کے مستقبل کو ان طاقتوں کے ہاتھ دینا چاہتا ہے جو پہلے ہی خطے میں فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر مداخلت کرتی رہی ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ تشویش کا نچوڑ صرف اتنا نہیں کہ قرارداد غیر شفاف ہے بلکہ یہ بھی کہ کہیں غزہ کو ’’بین الاقوامی نگرانی‘‘ کے نام پر نئے سیاسی قبضے کے لیے تیار تو نہیں کیا جا رہا۔

چین کا مؤقف واضح ہے کہ کوئی بھی امن منصوبہ تب تک قابل ِ قبول نہیں جب تک: 1۔ فلسطینی عوام اس کے حقیقی شریک نہ ہوں۔ 2۔ فلسطینی سیاسی قیادت کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ 3۔ کسی بیرونی فورس کو طاقت کا مکمل اختیار نہ دیا جائے۔ روس بھی اسی زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ امریکا ایک ایسا ڈھانچہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ذریعے فلسطینی مزاحمت، مقامی قیادت اور سیاسی نظام کو غیر مؤثر بنا کر غزہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا جائے۔ یہ اعتراضات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی طاقتیں جانتی ہیں کہ امریکا کی ’’امن قرارداد‘‘ دراصل فلسطینیوں کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

سلامتی کونسل کی ووٹنگ؛ حمایت زیادہ، اعتماد کم: قرارداد کے حق میں 14 ووٹ آئے۔ بظاہر یہ ایک بڑی کامیابی تھی، لیکن مخالفت نہ ہونے کے باوجود چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ: قرارداد پر مکمل اعتماد نہیں۔ اس میں بڑے سیاسی تضادات موجود ہیں۔ فلسطینی عوام کی نمائندگی غائب ہے۔ منصوبہ یک طرفہ ہے اور امریکی اثرات سے بھرپور ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا نے فلسطینیوں کے مستقبل کا کوئی منصوبہ ان سے پوچھے بغیر بنایا ہو۔ دنیا بھر کے تجزیہ کار ایک بات پر متفق ہیں کہ غزہ کا مسئلہ فوجی یا سفارتی قوتوں کی مدد سے نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی مرضی اور فیصلہ سازی کے ذریعے حل ہوگا۔

غزہ صرف فلسطینیوں کا اس لیے نہیں کہ وہ وہاں رہتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ: غزہ کی سرزمین ان کے تاریخی، مذہبی اور سیاسی وجود کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس زمین پر قربانیوں کی ایک نسل پیش کی ہے۔ یہ سرزمین مزاحمت، وقار اور آزادی کی علامت ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت فلسطینی عوام کی شناخت، جدوجہد یا حاکمیت کو محو نہیں کر سکتی۔ امریکی قرارداد ان بنیادی سچائیوں سے چشم پوشی کرتی ہے، جس کے نتیجے میں چین اور روس نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔امریکی منصوبہ فلسطینی قیادت کو بائی پاس کرنے کی کوشش۔

قابل ِ غور بات یہ ہے کہ قرارداد میں کہیں بھی: حماس، اسلامی جہاد، منتخب فلسطینی پارلیمان، غزہ کے مقامی انتظامی نظام، فلسطینی اتھارٹی کی محدود حیثیت۔ ان سب کے سیاسی کردار کو کوئی واضح مقام نہیں دیا گیا۔ یعنی امریکا ایسا منصوبہ چاہتا ہے جس میں فلسطینی قیادت کو دیوار سے لگا کر ایک بیرونی ڈھانچہ غزہ پر حکمرانی کرے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو چین و روس کو منظور نہیں۔ چین کے سفیر نے خاص طور پر کہا: ’’اگر کسی فلسطینی زمین پر امن لانا ہے تو اس کی بنیاد فلسطینی عوام کی قیادت اور ان کی سیاسی مرضی پر ہوگی، نہ کہ بیرونی طاقتوں کی ترجیحات پر‘‘۔ امریکا کے پیش کردہ اس منصوبے کے پیچھے ایک اور حقیقت پوشیدہ ہے۔ واشنگٹن کبھی نہیں چاہتا کہ غزہ ایک مکمل آزاد، بااختیار اور سیاسی طور پر متحد خطہ بنے۔ اگر ایسا ہوا تو اسرائیل کے لیے اس کی جارحیت جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ فلسطینی مزاحمت بین الاقوامی سطح پر مضبوط ہو جائے گی۔ عرب دنیا میں اسرائیل مخالف بیانیہ دوبارہ طاقت پکڑ لے گا۔ خطے میں امریکی مفادات کمزور ہو جائیں گے، اسی لیے امریکا ’’امن‘‘ کے نام پر وہ ڈھانچہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو غزہ کو سیاسی طور پر کمزور، فوجی طور پر غیر مؤثر اور سفارتی طور پر بیرونی طاقتوں کا محتاج بنا دے۔

چین اور روس کا مؤقف صرف فلسطین کی حمایت نہیں، بلکہ عالمی نظام میں جاری ایک بڑی تبدیلی کا حصہ ہے۔ آج دنیا ایک نئے سفارتی دوراہے پر کھڑی ہے: امریکا کا یک طرفہ ورلڈ آرڈر کمزور ہو رہا ہے۔ چین ایک متبادل اخلاقی و سیاسی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ روس مغربی بالادستی کے خلاف ایک نئی مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ عالمی جنوب (Global South) امریکا کے بیانیے سے دور ہو رہا ہے۔ غزہ کا معاملہ اس بڑی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ چین اور روس نے صاف کہہ دیا کہ عالمی فیصلے اب واشنگٹن کے اشاروں پر نہیں ہوں گے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ غزہ کے لوگ نہ غلام ہیں نہ بے اختیار۔ وہ اپنی زمین کے اصل مالک ہیں، اور ان کا حق ہے کہ: وہ اپنی قیادت خود منتخب کریں۔ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ وہ اپنی سرزمین کی حفاظت خود کریں۔ اور اپنی سیاسی حکمرانی آزادانہ قائم کریں۔ کوئی قرارداد، کوئی بیرونی فورس، کوئی طاقت کا کھیل فلسطینیوں کے اس بنیادی حق کو چھین نہیں سکتا۔ سلامتی کونسل میں چین اور روس کا مؤقف عالمی طاقتوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ غزہ کے مستقبل کے فیصلے: واشنگٹن، نیویارک، تل ابیب یا کسی عالمی بورڈکے کمروں میں نہیں ہوں گے۔ یہ فیصلے غزہ کے شہیدوں کی قبروں، مزاحمت کے مورچوں اور فلسطینی عوام کے دلوں سے نکلیں گے۔ غزہ کے لوگ اب بھی کھڑے ہیں، ملبے کے درمیان بھی ثابت قدم۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے کوئی قرارداد بدل نہیں سکتی۔ غزہ صرف فلسطینیوں کا تھا، ہے، اور رہے گا۔

سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غزہ صرف فلسطینیوں کا فلسطینی عوام کی چین اور روس نے سلامتی کونسل کہ امریکا کے نام پر کا مو قف کی کوشش پیش کی غزہ کے رہا ہے ہیں کہ کہ غزہ

پڑھیں:

اسرائیلی فوج نے سفاکیت کی انتہا کردی؛ 2نہتے فلسطینیوں کو بھون ڈالا، وڈیو وائرل

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ /تل ابیب /بیروت /نیویارک /ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ کے بعد اسرائیلی فوج نے اب مغربی کنارے کو بھی اپنی سفاکیت، جارحیت اور مشقِ جنگ کا نیا مرکز بنالیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے اہلکار سرچ آپریشن کے لیے ایک عمارت پر پہنچے تھے جس کے گیراج سے 2 فلسطینی نوجوان ہاتھ اُٹھائے باہر آئے اور دونوں کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا۔ صہیونی سیکورٹی فورسز کے جارح مزاج اہلکاروں نے دونوں نوجوانوں کو زمین پر بٹھایا اور پوچھ گچھ کے بعد دوبارہ گیراج میں جانے کی ہدایت کی۔ جیسے ہی نوجوان اندر جانے کے لیے مڑے۔ گولیوں کی ترتراہٹ سے فضا گونج اُٹھی۔ جس کے دوران دونوں فلسطینی نوجوان گولیاں لگنے سے موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ سامنے کی عمارت سے کسی نے اس دردناک لمحے کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال کر اسرائیلی سیکورٹی فورسز کا چہرہ بے نقاب کردیا۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق شہید ہونے والوں کی شناخت 26 سالہ محمود قاسم عبداللہ اور 37 سالہ یوسف عصاصہ کے نام سے ہوئی۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ رفح میں سرنگوں میں پھنسے 9 جنگجو ہلاک کر دیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے باوجود نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ دنیا کو بیوقوف نہیں بنانا چاہیے، اسرائیل غزہ میں اپنی ظالمانہ پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے 136 بچوں سمیت 374 فلسطینی شہید کیے۔ اسرائیل نے انسانی امداد اور بنیادی ضروریات تک رسائی محدود کی۔ روس نے فلسطین کی حق خودارادیت کو تسلیم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کر دیا۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکی منصوبہ جسے “پیس کونسل” اور “انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس” کے قیام کے لیے تیار کیا گیا فلسطینی حکام کی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا‘ قرارداد 2803 نہ تو فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن و سلامتی کے قیام میں مددگار ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اور فلسطینی اتھارٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا اور عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے ملوث اہلکاروں کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کو مار دینا چاہیے۔حماس نے غزہ معاہدے کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے پہلے مرحلے کی تمام شرائط مکمل طور پر پوری کر دی ہیں، جب کہ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسرے مرحلے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔عرب میڈیا سے گفتگو میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ رفح میں محصور عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اسلحہ حوالے کرنے کے معاملے پر حماس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف فلسطینی قومی مذاکرات اور داخلی مشاورت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر اسرائیلی قیادت میں اختلافات ابھر رہے ہیں۔ اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کا صبر اسرائیل کے رویے سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام اس بات پر قائم ہیں کہ باقی ماندہ یرغمالیوں کی لاشیں ملنے تک وہ دوسرے مرحلے میں داخل نہیں ہوں گے، جب کہ رفح کی سرنگوں میں موجود حماس کے ارکان کا معاملہ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

غزہ :قابض اسرائیلی فوجی نہتے فلسطینی نوجوانوں پر فائرنگ کررہے ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

متعلقہ مضامین

  • غزہ کی بابت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد
  • فلسطینیوں کا قتل عام اور انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنا ناقابلِ قبول ہے، انتونیو گوتریس
  • یوم یکجہتی فلسطین یا خیانت کا عالمی دن
  • پاکستانی قوم فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتی ہے، سردار عبدالرحیم
  • فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، فلسطین فاؤنڈیشن
  • دنیا بھر میں آج فلسطینی عوام کیساتھ اظہارِ یکجہتی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے
  • اسرائیلی فوج نے سفاکیت کی انتہا کردی؛ 2نہتے فلسطینیوں کو بھون ڈالا، وڈیو وائرل
  • 29 نومبر یومِ یکجہتیِ فلسطین یا خیات کا عالمی دن