data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251201-03-4
میر بابر مشتاق
اس دنیا میں کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جغرافیہ بدل سکتا ہے نہ تاریخ مٹا سکتی ہے۔ ظلم کی تیز ہوائیں جب بھی چلیں، کچھ آوازیں ایسی ضرور اٹھتی ہیں جو اعلان کرتی ہیں کہ حق کبھی مر نہیں سکتا۔ غزہ انہی ابدی سچائیوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسی سرزمین جس کا وجود، اس کی شناخت اور اس کی حاکمیت صرف اور صرف فلسطینی عوام کی ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکا کی جانب سے پیش کی گئی غزہ امن قرارداد بظاہر امن کے نام پر پیش کی گئی ایک سفارتی چادر ہے، مگر چین اور روس نے اس چادر کا وہ کونا اٹھایا ہے جس کے نیچے طاقت کی سیاست، اسٹرٹیجک مفادات اور ’’امن‘‘ کے نام پر مسلط کیا جانے والا نیا عالمی نظام چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک نے دوٹوک انداز میں کہا: ’’غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے، کسی بیرونی قوت کا نہیں‘‘۔ امریکا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک ایسی قرارداد پیش کی جس میں ’’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘‘ کو غزہ میں تعینات کرنے کی تجویز دی گئی۔ بظاہر یہ فورس امن، نظم و نسق اور تعمیر نو میں مدد دے گی، لیکن اس کے خدوخال، ساخت، اختیارات، مدت، نگرانی اور فلسطینی عوام کی منظوری کے بارے میں قرارداد میں ایک بھی واضح شق موجود نہیں۔ یہی وہ خامی ہے جس نے چین اور روس کو ہشیار کر دیا۔ چینی نمائندے فو کونگ نے واضح کہا: قرارداد فلسطینی حکمرانی کے اصولوں کی عکاسی نہیں کرتی۔ امریکی منصوبہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر بنایا گیا۔ اسٹیبلائزیشن فورس حقیقتاً کس کے کنٹرول میں ہو گی؟ امریکا نے کوئی وضاحت نہیں دی۔ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا ڈھانچہ، اختیارات اور فیصلہ سازی کا طریقہ کار مکمل طور پر مبہم ہے۔
یہ اعتراضات معمولی نہیں۔ یہ دراصل اس بڑے خدشے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا غزہ کے مستقبل کو ان طاقتوں کے ہاتھ دینا چاہتا ہے جو پہلے ہی خطے میں فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر مداخلت کرتی رہی ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ تشویش کا نچوڑ صرف اتنا نہیں کہ قرارداد غیر شفاف ہے بلکہ یہ بھی کہ کہیں غزہ کو ’’بین الاقوامی نگرانی‘‘ کے نام پر نئے سیاسی قبضے کے لیے تیار تو نہیں کیا جا رہا۔
چین کا مؤقف واضح ہے کہ کوئی بھی امن منصوبہ تب تک قابل ِ قبول نہیں جب تک: 1۔ فلسطینی عوام اس کے حقیقی شریک نہ ہوں۔ 2۔ فلسطینی سیاسی قیادت کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ 3۔ کسی بیرونی فورس کو طاقت کا مکمل اختیار نہ دیا جائے۔ روس بھی اسی زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ امریکا ایک ایسا ڈھانچہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ذریعے فلسطینی مزاحمت، مقامی قیادت اور سیاسی نظام کو غیر مؤثر بنا کر غزہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا جائے۔ یہ اعتراضات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی طاقتیں جانتی ہیں کہ امریکا کی ’’امن قرارداد‘‘ دراصل فلسطینیوں کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
سلامتی کونسل کی ووٹنگ؛ حمایت زیادہ، اعتماد کم: قرارداد کے حق میں 14 ووٹ آئے۔ بظاہر یہ ایک بڑی کامیابی تھی، لیکن مخالفت نہ ہونے کے باوجود چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ: قرارداد پر مکمل اعتماد نہیں۔ اس میں بڑے سیاسی تضادات موجود ہیں۔ فلسطینی عوام کی نمائندگی غائب ہے۔ منصوبہ یک طرفہ ہے اور امریکی اثرات سے بھرپور ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا نے فلسطینیوں کے مستقبل کا کوئی منصوبہ ان سے پوچھے بغیر بنایا ہو۔ دنیا بھر کے تجزیہ کار ایک بات پر متفق ہیں کہ غزہ کا مسئلہ فوجی یا سفارتی قوتوں کی مدد سے نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی مرضی اور فیصلہ سازی کے ذریعے حل ہوگا۔
غزہ صرف فلسطینیوں کا اس لیے نہیں کہ وہ وہاں رہتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ: غزہ کی سرزمین ان کے تاریخی، مذہبی اور سیاسی وجود کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس زمین پر قربانیوں کی ایک نسل پیش کی ہے۔ یہ سرزمین مزاحمت، وقار اور آزادی کی علامت ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت فلسطینی عوام کی شناخت، جدوجہد یا حاکمیت کو محو نہیں کر سکتی۔ امریکی قرارداد ان بنیادی سچائیوں سے چشم پوشی کرتی ہے، جس کے نتیجے میں چین اور روس نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔امریکی منصوبہ فلسطینی قیادت کو بائی پاس کرنے کی کوشش۔
قابل ِ غور بات یہ ہے کہ قرارداد میں کہیں بھی: حماس، اسلامی جہاد، منتخب فلسطینی پارلیمان، غزہ کے مقامی انتظامی نظام، فلسطینی اتھارٹی کی محدود حیثیت۔ ان سب کے سیاسی کردار کو کوئی واضح مقام نہیں دیا گیا۔ یعنی امریکا ایسا منصوبہ چاہتا ہے جس میں فلسطینی قیادت کو دیوار سے لگا کر ایک بیرونی ڈھانچہ غزہ پر حکمرانی کرے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو چین و روس کو منظور نہیں۔ چین کے سفیر نے خاص طور پر کہا: ’’اگر کسی فلسطینی زمین پر امن لانا ہے تو اس کی بنیاد فلسطینی عوام کی قیادت اور ان کی سیاسی مرضی پر ہوگی، نہ کہ بیرونی طاقتوں کی ترجیحات پر‘‘۔ امریکا کے پیش کردہ اس منصوبے کے پیچھے ایک اور حقیقت پوشیدہ ہے۔ واشنگٹن کبھی نہیں چاہتا کہ غزہ ایک مکمل آزاد، بااختیار اور سیاسی طور پر متحد خطہ بنے۔ اگر ایسا ہوا تو اسرائیل کے لیے اس کی جارحیت جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ فلسطینی مزاحمت بین الاقوامی سطح پر مضبوط ہو جائے گی۔ عرب دنیا میں اسرائیل مخالف بیانیہ دوبارہ طاقت پکڑ لے گا۔ خطے میں امریکی مفادات کمزور ہو جائیں گے، اسی لیے امریکا ’’امن‘‘ کے نام پر وہ ڈھانچہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو غزہ کو سیاسی طور پر کمزور، فوجی طور پر غیر مؤثر اور سفارتی طور پر بیرونی طاقتوں کا محتاج بنا دے۔
چین اور روس کا مؤقف صرف فلسطین کی حمایت نہیں، بلکہ عالمی نظام میں جاری ایک بڑی تبدیلی کا حصہ ہے۔ آج دنیا ایک نئے سفارتی دوراہے پر کھڑی ہے: امریکا کا یک طرفہ ورلڈ آرڈر کمزور ہو رہا ہے۔ چین ایک متبادل اخلاقی و سیاسی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ روس مغربی بالادستی کے خلاف ایک نئی مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ عالمی جنوب (Global South) امریکا کے بیانیے سے دور ہو رہا ہے۔ غزہ کا معاملہ اس بڑی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ چین اور روس نے صاف کہہ دیا کہ عالمی فیصلے اب واشنگٹن کے اشاروں پر نہیں ہوں گے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ غزہ کے لوگ نہ غلام ہیں نہ بے اختیار۔ وہ اپنی زمین کے اصل مالک ہیں، اور ان کا حق ہے کہ: وہ اپنی قیادت خود منتخب کریں۔ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ وہ اپنی سرزمین کی حفاظت خود کریں۔ اور اپنی سیاسی حکمرانی آزادانہ قائم کریں۔ کوئی قرارداد، کوئی بیرونی فورس، کوئی طاقت کا کھیل فلسطینیوں کے اس بنیادی حق کو چھین نہیں سکتا۔ سلامتی کونسل میں چین اور روس کا مؤقف عالمی طاقتوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ غزہ کے مستقبل کے فیصلے: واشنگٹن، نیویارک، تل ابیب یا کسی عالمی بورڈکے کمروں میں نہیں ہوں گے۔ یہ فیصلے غزہ کے شہیدوں کی قبروں، مزاحمت کے مورچوں اور فلسطینی عوام کے دلوں سے نکلیں گے۔ غزہ کے لوگ اب بھی کھڑے ہیں، ملبے کے درمیان بھی ثابت قدم۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے کوئی قرارداد بدل نہیں سکتی۔ غزہ صرف فلسطینیوں کا تھا، ہے، اور رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غزہ صرف فلسطینیوں کا فلسطینی عوام کی چین اور روس نے سلامتی کونسل کہ امریکا کے نام پر کا مو قف کی کوشش پیش کی غزہ کے رہا ہے ہیں کہ کہ غزہ
پڑھیں:
امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں اور تعطل کا شکار امن مذاکرات کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے خطرات کے پیشِ نظر کرپٹو کرنسیوں سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے حصص نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو سہارا فراہم کیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن اضافہ دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 160 کی سطح کے قریب پہنچ گیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور خلیج میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ادھر ڈالر 160 ین کی سطح کو چھونے کے بعد کچھ پیچھے ہٹ گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ جاپانی حکام اس سطح پر پہنچنے کے بعد کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
تیل کے ذخائر میں مسلسل کمیرسد کے حوالے سے بھی منڈی کو سہارا ملا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر مسلسل ساتویں ہفتے کم ہوئے ہیں۔
29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 68 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کار امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری ذخیرہ جاتی اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔
آبنائے ہرمز کھولنے کی کوششیں آسان نہیںاے این زیڈ بینک کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیل ہائنس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے بڑے حصوں میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ مزید جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مجموعی بحری ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی کم ہے۔
امریکی اور ایرانی دعوے آمنے سامنےامریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کی۔ اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب میزائل داغے، تاہم وہ یا تو اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے یا انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے ایک ابتدائی سمجھوتے تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔
سرمایہ کاروں کی امیدوں کو دھچکامیلبورن میں بروکریج ادارے پیپر اسٹون کے تحقیقی شعبے کے سربراہ کرس ویسٹن کے مطابق گزشتہ ہفتے تک مالیاتی منڈیوں کو یقین تھا کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی مفاہمتی یادداشت تک پہنچ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب صورتحال زیادہ غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے اور سرمایہ کار اپنی سابقہ پوزیشنیں ختم کر رہے ہیں۔
بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پرفوجی کشیدگی کے باعث کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار رہی۔
دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن مسلسل 3 تجارتی سیشنز میں تقریباً 10 فیصد گرنے کے بعد 66 ہزار 123 ڈالر کی سطح تک آ گئی، جو 2 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
اے آئی کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرارجہاں ایک طرف جنگی خدشات نے مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا، وہیں مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرار رہی۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم اشاریے ایس اینڈ پی 500 کے فیوچر معاہدوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم ایشیا میں اے آئی شعبے کی بدولت حصص کی منڈیوں نے نئی بلندیاں چھو لیں۔
تائیوان اور جاپان کے اسٹاک انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ بند رہی۔
مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں غیر معمولی اضافہچِپ ساز کمپنی مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں 32.5 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا اور وہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔
اس اضافے کی ایک بڑی وجہ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کا بیان تھا، جنہوں نے تائی پے میں منعقدہ کمپیوٹیکس نمائش کے دوران مارویل ٹیکنالوجی کو ’اگلی ایک ٹریلین ڈالر مالیت والی کمپنی‘ قرار دیا۔
اسپیس ایکس کی تاریخی شیئر فروخت کی تیاریدوسری جانب خلائی ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس آئندہ ہفتے ایک بڑی ابتدائی عوامی شیئر فروخت (آئی پی او) کی تیاری کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کمپنی 55 کروڑ 56 لاکھ حصص فی شیئر 135 ڈالر کی متوقع قیمت پر فروخت کر کے تقریباً 75 ارب ڈالر جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
شرح سود میں اضافے کی توقعاتامریکی معیشت سے متعلق تازہ اعداد و شمار نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ملازمتوں کی طلب اب بھی مضبوط ہے اور معیشت کو فوری طور پر شرح سود میں کمی کی ضرورت نہیں۔
اپریل میں امریکا میں نئی ملازمتوں کے مواقع 5 برسوں کی بلند ترین رفتار سے بڑھے، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے شرح سود میں کمی کی توقعات مزید کم کر دی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آنے والے روزگار کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے تو امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو مستقبل میں شرح سود مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے امریکی ڈالر کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
ادائیگیوں کے ادارے کور پے کے ایشیا پیسیفک کرنسی اسٹریٹجسٹ پیٹر ڈراگیسیوچ کے مطابق 2026 کے ابتدائی مہینوں میں امریکی معیشت کی رفتار بہتر ہونے کے آثار ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے اعداد و شمار مارکیٹ کی موجودہ توقعات سے زیادہ مضبوط آ سکتے ہیں۔
عالمی کرنسی منڈیوں کی صورتحالغیر ملکی زرِ مبادلہ کی منڈیوں میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا۔ یورو 1.1627 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ امریکی ڈالر 159.86 ین کی سطح پر برقرار رہا۔
ادھر آسٹریلیا کے معاشی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مارچ کی سہ ماہی کے دوران ملکی اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہی۔ اگرچہ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری بڑھی، لیکن درآمدات میں اضافے نے مجموعی نمو پر دباؤ ڈالا۔ اس کے باوجود آسٹریلوی ڈالر 0.7177 امریکی ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران امریکا جنگ کرپٹو کرنسی