فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، فلسطین فاؤنڈیشن
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق کیلئے منصفانہ جنگ لڑ رہے ہیں، امریکی ایماء پر غزہ میں مسلمان افواج کی تعیناتی کا منصوبہ فلسطین دشمنی پر مبنی ہے، مسلمان ممالک امریکا کے منصوبوں سے دور رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، فلسطینی عوام کی مزاحمت عالمی قوانین کے مطابق ان کا قانونی حق ہے، فلسطین میں امن اور منصفانہ حل اسی وقت ہو سکتا ہے جب فلسطین فلسطینیوں کو دیا جائے اور صیہونی آبادکاروں کو ان کے ممالک واپس لوٹا دیا جائے، ان خیالات کا اظہار سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں بشمول جماعت اسلامی کے رہنما اسد اللہ بھٹو، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما میجر (ر) قمر عباس، جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما علامہ قاضی احمد نورانی، اہلحدیث رہنما مفتی مرتضٰی رحمانی، متحدہ علماء محاذ کے علامہ امین انصاری، ہیومن رائٹس کونسل کے راجہ اظہر، وحید یونس، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما ناصر الحسینی، مرکزی مسلم لیگ کے رہنما فیصل بلوچ، عدیل، مسلم لیگ (ق) کے رہنما صادق شیخ، سید عبدلرافع، معروف عالم دین مرزا طاہر علی، اسلم فاروقی، وکیل راشد رضی اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ملک بھر میں 29 نومبر کو فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی اپیل پر یکجہتی فلسطین مظاہرے کئے گئے، جبکہ مرکزی مظاہرہ کراچی پریس کلب کے باہر کیا گیا، جہاں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور فلسطین پر صیہونی غاصبانہ تسلط اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور عالمی برادری کی بے حسی اور دوغلے کردار پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر امریکا مردہ باد، اسرائیل نامنظور، ہم فلسطین کے ساتھ ہیں اور فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرو جیسے نعرے درج تھے۔ یکجہتی فلسطین مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستان کے عوام فلسطینی عوام کی مزاحمت اور جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری نسل کشی کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے، فلسطین کی قسمت کا فیصلہ فلسطینیوں کو کرنے دیا جائے، امریکا اور کسی بھی دوسری حکومت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ فلسطین کے بارے میں فیصلہ کریں۔
مقررین نے گزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی کو سنگین جرم قرار دیا اور کہا کہ غاصب اسرائیل صرف فلسطین تک محدود نہیں ہے بلکہ شام، لبنان، ایران و قطر سمیت یمن اور دیگر ممالک پر بھی جارحیت انجام دے رہا ہے، اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمان ممالک کی حکومتوں کو مشترکہ حکمت عملی بنانی چایئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد امریکی صدر کی فرمائش پر غزہ میں مسلمان ممالک کی افواج کو بھیجے جانے کا منصوبہ دراصل فلسطینی عوام سے دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت کسی بھی مسلمان ملک کی فوج کو غزہ جا کر امریکی منصوبوں کی تکمیل انجام نہیں دینی چاہئیے، امریکا پاکستان سمیت کسی بھی مسلمان ملک کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان کے عوام فلسطین کاز کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کریں گے اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا بھرپور فاع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی صفوں میں موجود چند وزراء اسرائیل کیلئے نرم زبان استعمال کرتے ہیں، جو نہ صرف فلسطین کاز کیلئے نقصاندہ ہے، بلکہ نظریہ پاکستان سے روگردانی کے مترداف ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نظریات کے مطابق اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور کبھی نہیں کرے گا، تاہم اگر کسی کو اسرائیل سے زیادہ محبت ہے تو وہ پاکستانی شہریت سے دستبردار ہو کر اسرائیل چلا جائے۔ اس موقع پر فلسطینی عوام سے یکجہتی کیلئے بھرپور مہم جاری رکھنے کا عزم کیا گیا اور فلسطینی عوام کے حق میں نعرے لگائے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یکجہتی فلسطین فلسطینی عوام پاکستان کے اور فلسطین فلسطین کے نے کہا کہ کے رہنما انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔