یوم یکجہتی فلسطین یا خیانت کا عالمی دن
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
29 نومبرکو ہر سال فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے اور اس دن کو منانے کے لیے اقوام متحدہ بھی اہتمام کرتی ہے،کیونکہ اس دن کی خیانت بھی اقوام متحدہ نے انجام دی تھی۔
اس دن کو یوم یکجہتی فلسطین قرار دیا گیا ہے لیکن حقائق اور تحقیقی جائزہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دن یکجہتی فلسطین کا دن نہیں بلکہ خیانت کا عالمی دن ہونا چاہیے۔
یہ دن 1947 کی اقوام متحدہ کی قرارداد 181 کی یاد دلاتا ہے، جس نے فلسطین کی زمین کو زبردستی دو حصوں میں تقسیم کیا اور اس عمل سے فلسطینی عوام شدید نقصان اور بے گھری کا شکار ہوئے۔
اقوام متحدہ کی قرارداد 181 بظاہر تقسیم کا منصوبہ تھا، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی خیانت تھی جس کا خمیازہ آ ج تک فلسطین ہی نہیں بلکہ غرب ایشیائی ممالک سمیت دنیا کی دیگر اقوام بھی بھگت رہی ہیں۔
اسی قرارداد کی وجہ سے ہی 1948میں فلسطین پر ایک ناجائز غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو قائم کیا گیا۔ 1947میں جس وقت یہ قرارداد منظورکی گئی اس وقت فلسطینی آبادی 67% تھی اور یہودی آبادی صرف تقریباً 33% تھی۔
زمین کا 55% صیہونیوں کو اور 45% مقامی فلسطینیوں کو دیا گیا۔ یہ ایک ایسی ناانصافی کی گئی جس پر اقوام متحدہ کی مہر ثبت کی گئی۔ فلسطینی عوام نے اس تقسیم کو مکمل طور پر رد کردیا لیکن عالمی طاقتوں خصوصاً امریکا اور برطانیہ نے اس قرارداد کو غیر معمولی دباؤ ڈال کر منظور کروایا۔
اس قرارداد کے حق میں صرف 33 ووٹ آئے جب کہ 13ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیے اور 10ممالک نے خاموشی یعنی غیر حاضری کی۔
قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں میں بھی اکثریت ایسے ممالک کی تھی جن کا دور دور تک مغربی ایشیائی خطے سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن انھوں نے امریکا اور برطانیہ کے دباؤ میں ووٹ دیا۔
دراصل اقوام متحدہ میں پیش کی جانیوالی قرارداد 181سے پہلے ماضی میں پہلی عالمی جنگ کے بعد 1917 میں برطانیہ نے Balfour Declarationجاری کیا تھا، جس میں فلسطین میں یہودی وطن کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس اقدام نے فلسطینی عربوں کی خود ارادیت کو نظر اندازکیا اور علاقے میں موجود آبادیاتی توازن کو خراب کیا۔
اس کے بعد سے برطانیہ نے دنیا بھر سے یہودیوں کو لا لا کر فلسطین میں آباد کیا اور آخرکار 1947میں قرارداد 181کے ذریعے فلسطین کی تقسیم کی خیانت کو انجام دیا۔
برطانیہ نے یہودی آباد کاروں کو سیاسی اور عسکری حمایت فراہم کی اور نتیجہ میں 1948میں فلسطین پر ناجائز ریاست اسرائیل قائم کی گئی۔برطانیہ نے فلسطین پر اپنے مینڈیٹ کے دوران فلسطینی عوام کی سیاسی خواہشات کو نظر اندازکیا۔
دوسری طرف برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کے لیے صیہونیوں کو مکمل مدد فراہم کی اور صیہونی ملیشیاؤں کو زمین پر قبضہ، ہتھیار جمع کرنے اور سیاسی طاقت بنانے کی اجازت دی، جب کہ فلسطینی عربوں کی مزاحمت کوکچلنے کی کوشش کی گئی۔
یہ اقدام اس بات کی دلیل ہیں کہ فلسطین کے ساتھ ایک عالمی خیانت کی گئی جس کو اقوام متحدہ کا لیبل لگایا گیا۔فلسطین پر صیہونی تسلط کے لیے امریکا نے بھی صیہونیوں کی بھرپور مدد کی اور امریکا نے قرارداد 181 کے حق میں دباؤ ڈالنے کے لیے کئی ممالک پر سفارتی دباؤ اور اقتصادی دھمکیاں دی۔
اس دباؤ کے نتیجے میں کئی ممالک نے اپنے ووٹ کی آزادانہ رائے کے بجائے امریکی پالیسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ اس نے ظاہرکیا کہ عالمی طاقتیں انصاف کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔اقوام متحدہ کی طرف سے قرارداد 181 کے بعد ہونیوالے مظالم کو روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
1948 کی جنگ، 1967 کی جنگ اور اس کے بعد کی صیہونی بستیوں کی تعمیر، فلسطینی محاصرے اور نسل کشی کے خلاف اقوام متحدہ نے عملی اقدامات نہیں کیے۔
اکثر اوقات اقوام متحدہ کی قراردادوں کو محض الفاظ تک محدود رکھا گیا ہے، جس سے مظلوم فلسطینی عوام کی آواز دبتی رہی۔
یہاں پر ایک اور اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ کہ جس کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں پر عمل درآمد کی کوئی ضروری ذمے داری عائد نہیں ہوتی یعنی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مقابلے میں جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے میں اہمیت نہیں دی جاتی.
لیکن تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ استعماری قوتوں نے جنرل اسمبلی کے غیر منصفانہ فیصلہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے عملی جامہ پہنایا اور غرب ایشیائی خطے میں ایک ایسی ناجائز ریاست کی بنیاد رکھ دی کہ جس نے گزشتہ 78سالوں سے خطے میں دہشتگردی اور جنگ کو فروغ دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی اسی قرارداد کی بدولت جہاں ایک طرف فلسطین پر صیہونی قبضہ کیا گیا، وہاں ساتھ ساتھ یوم نکبہ والے دن پندرہ لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ان کے اپنے وطن اورگھر سے جبری طور پر نکال دیا گیا جو آج تک مہاجرین کی زندگیاں گزار رہے ہیں۔
تاریخی شواہد کے مطابق یوم نکبہ پر صیہونیوں نے پانچ سو سے زائد فلسطینی گاؤں اور شہروں پر حملے کیے اور انھیں تباہ کردیا۔ یہ سب کچھ برطانوی استعمارکی سرپرستی اور فلسطین میں صیہونیوں کو دی گئی کھلی چھٹی کے باعث انجام پاتا رہا۔
منظم قتل عام کیا گیا اور آج تک یہ منظم نسل کشی جاری ہے۔ فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کا سلسلہ جو1948میں شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے اور فلسطینی عوام کو ان گھروں اور زمینوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی عوام کی ثقافت کو پوری طاقت کے ساتھ کچلنے اور مٹانے کی کوشش کی گئی۔ اسی لیے فلسطینی عوام نے اس واقعے کو نکبہ قرار دیا۔ یعنی ایک تباہی اور قیامت کا دن۔
دوسری طرف فلسطینی عوام نے عالمی استعماری قوتوں امریکا اور برطانیہ کی تمام تر سازشوں کا مقابلہ کیا چاہے وہ 1917میں بالفور اعلامیہ ہو یا پھر 1947میں اقوام متحدہ کی غیر منصفانہ قرارداد ہو اور اس کا تسلسل نکبہ ہی کیوں نہ ہو، فلسطینی عوام نے کبھی ہار نہیں مانی اور ہمیشہ اپنے حق کی آواز بلند کی ہے اور فلسطین پر فلسطینی عوام کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی ہے جو آج بھی جاری ہے۔
فلسطینی عوام نے ہمیشہ سے اپنے وطن کی آزادی کے لیے مزاحمت جاری رکھی اور اس مزاحمت نے ہی فلسطینی عوام کی عالمی سطح پر مظلومیت کو اجاگرکیا ہے۔ یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے اور فلسطینی عوام عالمی ضمیر کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
طوفان اقصیٰ کا آغاز فلسطینی عوام کی اس انتھک جدوجہد کا تسلسل ہے جو ایک صدی پر محیط ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ 29 نومبر صرف ایک تاریخی دن نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر انصاف کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔
اقوام متحدہ مظلوم عوام کے حقوق کی حفاظت میں ناکام تھی اور آج بھی ناکام نظر آتی ہے۔ فلسطینی عوام نے کئی دہائیوں تک اپنی زمین اور آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں جس کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔ یہ دن بتاتا ہے کہ اقوام متحدہ اس دن کو یوم یکجہتی فلسطین قرار دے کر اپنی اس خیانت اور ناانصافی سے بچ نہیں سکتی جو اس نے ماضی میں فلسطینیوں کے ساتھ کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام کی فلسطینی عوام نے ا ج بھی جاری ہے اقوام متحدہ کی یکجہتی فلسطین برطانیہ نے اور فلسطین کی قرارداد میں فلسطین فلسطین پر نے فلسطین کیا گیا کے ساتھ کے بعد ہے اور کی گئی اور اس کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔