اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی پاکستان میں آئینی ترامیم پر تنقید WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز

جنیوا (سب نیوز)اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق والکر ترک نے پاکستان میں آئینی ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جلد بازی میں کی گئی آئینی ترامیم سے عدالیہ کی آزادی کمزور ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق جنیوا سے جاری اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق والکر ترک نے کہا کہ آئین میں کی گئی موجودہ 27ویں اور ترمیم بھی گزشتہ سال کی گئی 26ویں ترمیم کی مانند قانونی حلقوں اور سول سوسائٹی سے مشاورت اور بحث کے بغیر کی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جلد بازی میں کی گئی آئینی ترامیم سے عدالیہ کی آزادی کمزور ہوئی ہے اور فوج کے نظام احتساب اور قانون کی حکمرانی پر گہرے تحفظات پیدا ہوگئے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ترامیم اس طاقت کی تقسیم کے خلاف ہیں جو قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہے اور پاکستان میں انسانی حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔

والکر ترک کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم کے تحت سپریم کورٹ کے بجائے نئی وفاقی آئینی عدالت کو آئینی مقدمات سننے کے اختیارات دیئے گئے ہیں جب کہ سپریم کورٹ اب صرف سول اور کریمنل کیسز سنے گی۔انہوں نے کہا کہ ججز کی تقرریوں، ترقیوں اور تبادلوں کے طریقہ کار میں تبدیلی نے بھی پاکستان عدلیہ کی آزادی کے ڈھانچے کو کمزور کرنے سے متعلق گہرے خدشات کو جنم دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور ججز بھی صدر کی جانب سے تجویز کردہ ہیں جنھیں وزیراعظم کی ایڈوائس پر مقرر کیا گیا، ان تبدیلیوں سے عدلیہ میں سیاسی مداخلت اور ایگزیکٹوز کے کنٹرول کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی جی اسلام آباد نے 20ہیڈ کنسٹیبلز کو اے ایس آئی کے عہدوں پر ترقی کی منظوری دیدی آئی جی اسلام آباد نے 20ہیڈ کنسٹیبلز کو اے ایس آئی کے عہدوں پر ترقی کی منظوری دیدی ملکی معاشی صورت حال کیسی ہے،وزارت خزانہ نے آوٹ لک رپورٹ جاری کردی چیئرمین سی ڈی اے کی چیف فیسیلٹیز و ایڈمنسٹریٹو سروسز آغا خان یونیورسٹی سے ملاقات انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر عظمی بخاری جس طرح اقتدار میں آئیں بلاول ایسے نہیں آئیں گے ،شرجیل میمن عالمی برادری فلسطین کے دو ریاستی حل کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرے، بلاول بھٹو TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پاکستان میں

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ