اقوامِ متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش پر نظرثانی کی درخواست کردی، فیصلہ قیادت سے مشاورت کے بعد ہوگا: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ نے پاکستان سے افغان بارڈر کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر عسکری قیادت اور وزیراعظم سے مشاورت کی جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ روز دفترِ خارجہ کو اقوام متحدہ کی جانب سے خط موصول ہوا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر بند رکھنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لازمی غذائی اشیا کے لیے افغان عوام کو سہولت دینے پر غور کرے گا اور امید ہے کہ اس حوالے سے اجازت جلد دے دی جائے گی۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ اب تک افغانستان کے تین دورے کر چکے ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ ہمسائے تبدیل نہیں ہوتے۔ افغان عبوری حکومت کو سمجھایا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو مشکلات صرف پاکستان کے لیے نہیں، افغانستان کے لیے بھی بڑھیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان سے کچھ نہیں چاہیے، بس اتنی درخواست ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور ’’ضرورت پڑی تو دہشت گردوں کو گھر میں گھس کر ماریں گے‘‘۔ ان کے مطابق قطر کی درخواست پر کلین اپ آپریشن کچھ عرصے کے لیے روکا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد ہم نے خوشی سے بند نہیں کی، 40 لاکھ سے زائد افغان شہری برسوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ نے تجویز دی ہے کہ روس، ایران، قطر، ترکی، پاکستان اور افغانستان مل بیٹھ کر مسائل پر بات کریں۔ یورپی یونین حکام کو بھی پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن چاہتا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کو ریلوے کے ذریعے جوڑنے کے منصوبے پر بھی کام ہوا تھا اور تینوں ممالک کی موجودگی میں معاہدہ سائن کیا گیا، مگر عملی سطح پر پیش رفت نظر نہیں آئی۔ ‘‘ہم اچھے اقدامات کرتے رہیں اور دوسری طرف رویہ ایسا ہو تو معاملہ مشکل ہوجاتا ہے،’’ انہوں نے کہا۔
اسحاق ڈار نے اپنے دورۂ ماسکو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صدر پیوٹن سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بہت مثبت رہیں، اور یورپی یونین کے ساتھ بھی کھل کر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب دنیا—مسلم اور غیر مسلم—دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائے گی، اور پاکستان اس تعاون میں ایک قدم آگے بڑھ کر کردار ادا کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے نے کہا کہ انہوں نے بتایا کہ نے بتایا کے لیے
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔