ملکی نظام چلانے کیلیے قرآن سے سبق لینا ضروری ہے، فساد اور دہشت گردی کو ختم کرنے کا حکم ہے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قرآن کریم امتِ مسلمہ کا روحانی ورثہ ہے، نوجوان قرآن کریم کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط بنائیں۔ملک کے نظام کو چلانے کیلیے قرآن سے سبق لینا ضروری ہے، فساد اور دہشت گردی کو ختم کرنے کا حکم ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق کنونشن سینٹر میں پاکستان میں پہلے بین الاقوامی مقابلہ قرأت کی تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ مقابلہ قرأت امت کے اتحاد کے لیے پاکستان کی کوششوں کا مظہر ہے، پاکستان واحد ملک ہے جو کلمہ کی بنیاد پر وجود میں آیا، قرآن ہمیں امن، یکجہتی، رحمت اور عدل کا درس دیتا ہے، نوجوانوں بچوں بہنوں کو نصحیت کرتا ہوں کہ قرآن سے رابطہ مضبوط رکھیں۔قرآن مجید ہدایت کا سرچشمہ اور زندہ معجزہ ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں قرآن کو ہم نے نصیحت کے لیے آسان بنا دیا، ہمارا آئین کہتا ہے اللّٰہ کی حاکمیت ہے۔ ملک کے نظام کو چلانے کے لیے قرآن سے سبق لینا ضروری ہے، ہمیں قرآن کہتا ہے ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، قرآن کہتا ہے ایک زندگی کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے، قرآن پر عمل کرنا لازم ہے، قرآن میں فساد اور دہشت گردی کو ختم کرنے کا حکم ہے۔
افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات جنوبی ایشیاءکی سیاسی صورتحال پر کیا اثرات مرتب کر رہے ہیں ؟ تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آ گئی
نائب وزیرِاعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ جس نے پاکستان سے عذاری اور اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی وہ عبرت کا نشان بنے، پاکستان کو دولخت کرنے والے نشان عبرت بنے، امت کو ایک اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی، اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں میزائل اور ایٹم بم کی طاقت سے نوازا۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قرأت کے روح پروَر اجتماع میں شرکت میرے لیے باعث فخر ہے، عالمی سطح پر مقابلہ قراّت کے انعقاد پر وزارت مذہبی امور کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان میں ہر سال محفل قرأت کا انعقاد ہوتا ہے، اس سال بین الاقوامی مقابلہ قرات وزارت مذہبی امور نے کروایا، اگلے سال اسلامی دنیا کے علاوہ پوری دنیا کے قرآء کو پاکستان میں دعوت دی جائے گی۔
’’جج کو اسٹریس لینا نہیں اسٹریس دینا چاہیے‘‘لاہور ہائیکورٹ جسٹس جواد حسن کا خطاب
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی وژن کے باعث یہ مقابلے کا انعقاد ہوا، وزیرِاعظم شہباز شریف مصروفیت کے باعث اس بابرکت محفل میں شریک نہیں ہو سکے، انہوں نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے مجھے اس ایونٹ میں شرکت کا کہا۔ پاکستان آنے والے قراء کرام نے اپنے ممالک کی خوبصورت انداز میں نمائندگی کی، تمام ججز نے مقابلہ قرأت میں بہترین فرائض انجام دیئے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مقابلہ قرا ت اسحاق ڈار
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،