پاکستان میں رواں برس خواتین پر تشدد کے 20 ہزار واقعات رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
لاہور:
سسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق اپنی تازہ قومی فیکٹ شیٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنوری سے جون 2025ء کے دوران ملک بھر میں ایسے 20 ہزار 698 واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کیسز پنجاب میں سامنے آئے جہاں تعداد 15 ہزار 376 رہی جہاں رپورٹنگ اور رسائی کا نظام دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ فعال ہے،سندھ میں 3 ہزار 709، خیبر پختونخوا میں 875، اسلام آباد میں 423 جبکہ بلوچستان میں 315 واقعات ریکارڈ ہوئے۔
ان کیسز میں زیادتی، اغوا، غیرت کے نام پر قتل، ہراسگی، سائبر کرائم، گھریلو تشدد اور جسمانی تشدد جیسے جرائم شامل ہیں،تاہم ملک بھر میں سزا کی مجموعی شرح 0.
پنجاب میں سزا کی شرح 0.01 فیصد، سندھ میں سزا کی شرح 0.5 فیصد جبکہ خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں کسی ایک کیس میں بھی سزا نہیں ہو سکی، بلوچستان میں سزا کی شرح اگرچہ 19.30 فیصد بتائی گئی ہے لیکن واقعات کی کم تعداد کے باعث یہ شرح مجموعی صورت حال کی درست عکاسی نہیں کرتی۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں سزا کی
پڑھیں:
کے پی میں رواں سال کارروائیوں میں 955 دہشت گرد ہلاک: رپورٹ جاری
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیبر پختونخوا میں سال کے دوران مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 955 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
خیبر پختونخوا میں رواں سال سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ صوبائی پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مختلف آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 955 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے صوبے بھر میں آپریشنز کے دوران 423 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ دیگر سکیورٹی فورسز نے مزید 532 دہشت گردوں کو مار گرایا۔ کارروائیوں کے دوران ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی ساز و سامان بھی برآمد کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گردوں میں 33 اہم کمانڈرز شامل تھے، جن کا تعلق وزیرستان، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، مردان، کوہاٹ اور دیگر اضلاع سے تھا۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں بنوں، ڈی آئی خان، شمالی و جنوبی وزیرستان اور خیبر میں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ کرم، اورکزئی اور ملاکنڈ میں بھی اہم دہشت گرد کمانڈرز سمیت متعدد شدت پسند مارے گئے۔
یہ اعداد و شمار صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے سکیورٹی اداروں کی مسلسل جدوجہد کا ثبوت ہیں۔ صوبائی پولیس کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ خیبر پختونخوا میں دیرپا امن قائم رکھا جا سکے۔