پشاور میں رواں سال 517 قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے: پولیس کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے، پولیس کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران شہر میں قتل و غارت، اغوا اور اسٹریٹ کرائم کے سنگین واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق پشاور میں سال بھر میں 517 افراد کو قتل کیا گیا، جب کہ اقدامِ قتل کے 785 واقعات بھی مختلف تھانوں میں درج ہوئے، جو شہر میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ کے ابتدائی تین ہفتوں میں ہی 9 شہری قتل ہوئے، جب کہ اسٹریٹ کرائمز کے دوران راہزنوں نے 10 افراد کو زخمی کیا۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ شہر میں 8 بچوں سمیت مجموعی طور پر 37 افراد کو اغوا کیا گیا۔ ان واقعات میں اغواء برائے تاوان کے 9 کیسز شامل ہیں، جنہوں نے شہریوں میں غیر معمولی خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔
پشاور میں املاک سے متعلق جرائم بھی قابو سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق چوری اور ڈکیتی کے 370 مقدمات درج ہوئے، جب کہ کاری چوری کے 89 اور کار چھیننے کے 40 واقعات رپورٹ ہوئے۔
موٹر سائیکل جرائم کی صورتحال بھی خاصی خراب رہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں موٹر سائیکل چوری کے 219، جب کہ موٹر سائیکل چھیننے کے 314 واقعات پیش آئے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق جرائم کی اس بڑھتی لہر پر قابو پانے کے لیے خصوصی حکمتِ عملی تشکیل دی جا رہی ہے، تاہم شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ زمینی سطح پر پولیسنگ کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحان کو روکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔