انڈونیشیا: طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، 84 ہلاکتیں اور 65 لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
جکارتہ: انڈونیشیا میں شدید طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 84 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ 65 افراد لاپتا ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ حادثات انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں پیش آئے۔ مختلف واقعات میں 95 افراد زخمی بھی ہوئے اور ہزاروں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے ہیں۔
انڈونیشین حکام کا کہنا ہے کہ طوفانی بارشوں اور سیلاب نے نظام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، تاہم متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔