اے ماہِ دسمبر! مائیں تو مائیں ہوتی ہیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: کاش! 16 دسمبر کا روز ہمیں یہ احساس دلائے کہ ایک ماں کیلئے، اُسکے بچوں کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ کسی ماں کے صدمے کو کم تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن اُسکی ممتا کی عزت کرنے، اُسکے دکھ کا احترام کرنے اور اُسکے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانے سے اُسے زندگی کی تلخیوں میں تھوڑی سی راحت فراہم کی جا سکتی ہے۔ شہید بچوں کے والدین 16 دسمبر کا زخم کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ ذرا سوچئے! جب کسی نے ایسے زخم خوردہ والدین سے یہ کہا ہوگا کہ "پھر کیا ہوا تم اور بچے پیدا کرو۔" تو پھر! کیا یہ صرف ایک جملہ تھا یا اُداس ماوں کے رُخساروں پر ایک بھیانک طمانچہ۔ ایسی مائیں، جو اپنے بچوں کی قربانی کے بعد اپنی زندگی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں، اِس جملے نے اُن سب کو زمین میں زندہ درگور کر دیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
گیارہ سال گزرنے کے بعد بھی دسمبر کا خوف اور غم کم نہیں ہوا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور (APS) کی رات پاکستان کی تاریخ کی سب سے تاریک راتوں میں سے ایک تھی۔ اس شب نے سینکڑوں ماوں کے دلوں کو سوراخ سوراخ کرکے رکھ دیا۔ آج کے جدید عہد میں انسان یہ کیسے یقین کرے کہ کچھ لوگ اپنے ہی بچوں کو سانپوں کی طرح نگل جاتے ہیں۔؟ خون کے دھبّے شاہد وقت کے ساتھ دھل جائیں، لیکن وہ زخم کیسے مندمل ہوں گے کہ جب سابق کور کمانڈر نے بچوں کی ماوں سے کہا کہ "جو ہوا وہ ہوا، آپ اور بچے پیدا کریں۔" یہ بیان کسی دشمن ملک کے کمانڈر کا نہیں بلکہ ہمارے ہی ملک کے ایک جنرل ہدایت الرحمان کا ہے۔ یوں تو 16 دسمبر 2014ء کا دن تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، لیکن اس کی سیاہی میں اس بیان نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آپ خود یہ اندازہ کریں کہ اے پی ایس کے شہداء کی ماوں کا دل بچوں کی شہادت سے زیادہ زخمی ہوا یا ایک اعلیٰ فوجی آفیسر کے اس بیان سے؟ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اس دن انسان دشمنوں کی درندگی پر روئے یا اپنوں کی بے حسی پر گریہ کرے۔؟ سوچئے اور ضرور سوچئے کہ منصب، طاقت اور اختیار۔۔۔ یہ سب کس حد تک انسان کو بہکا سکتے ہیں۔
سانحہ اے پی ایس کے پیچھے ہمارا جتھہ سازی کا شوق پنہاں تھا۔ یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں جتھہ سازی ایک بڑی تاریخی اور انسانی غلطی تھی۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان بننے کے بعد انہی جتھوں اور عسکری گروہوں نے جیسے طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، البدر فورس وغیرہ نے ملک میں ان گنت بے گناہ اور قیمتی انسانوں نیز فوج و پولیس کے جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر کتنی ماوں کے دلوں کو گھائل کیا ہے۔ اسی طرح 1971ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کی اصل وجوہات میں عوامی رائے کو نظرانداز کرنا اور عسکری و فاشسٹ جتھوں کو عوام کی سیاسی و جمہوری طاقت کے خلاف استعمال کرنا شامل تھا۔ اسی جتھہ سازی اور غلط حکمت عملی نے پاکستان کو دولخت کر دیا، لیکن ہم نے اپنی سوچ پر نظرثانی نہیں کی۔
7 دسمبر 1970ء کے انتخابات اور مشرقی پاکستان کے عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جمہوری عمل، انصاف اور عوامی رائے کسی بھی ریاست کی بنیاد ہیں۔ جب منطق اور مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے فاشسٹ جتھوں، عسکری گروپوں اور غیر قانونی قوتوں سے کام لیا جائے تو پھر 16 دسمبر 1971ء یا 16 دسمبر 2014ء جیسی المناک صورتحال ایک فطری ردعمل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور (APS) پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا دردناک واقعہ ہے۔ ہم نے آج تک کسی ماں کی تکلیف کے دکھوں کو سمجھنے کا کوئی درس اپنے سلیبس میں شامل ہی نہیں کیا۔ یہ کسی نے ہمیں سکھایا ہی نہیں کہ ایک روتی ہوئی ماں کے سامنے خاموش رہنا اور اُس کے آنسووں کی عزت کرنا کتنی عظیم سعادت ہے۔
کاش! 16 دسمبر کا روز ہمیں یہ احساس دلائے کہ ایک ماں کے لیے، اُس کے بچوں کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ کسی ماں کے صدمے کو کم تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن اُس کی ممتا کی عزت کرنے، اُس کے دکھ کا احترام کرنے اور اُس کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانے سے اُسے زندگی کی تلخیوں میں تھوڑی سی راحت فراہم کی جا سکتی ہے۔ شہید بچوں کے والدین 16 دسمبر کا زخم کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ ذرا سوچئے! جب کسی نے ایسے زخم خوردہ والدین سے یہ کہا ہوگا کہ "پھر کیا ہوا تم اور بچے پیدا کرو۔" تو پھر! کیا یہ صرف ایک جملہ تھا یا اُداس ماوں کے رُخساروں پر ایک بھیانک طمانچہ۔ ایسی مائیں، جو اپنے بچوں کی قربانی کے بعد اپنی زندگی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں، اِس جملے نے اُن سب کو زمین میں زندہ درگور کر دیا۔
المختصر یہ کہ جہالتِ قدیم میں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور جہالتِ جدید میں ماوں کو۔ مائیں تو مائیں ہی ہوتی ہیں، چاہے مشرقی پاکستان کی ہوں یا مغربی پاکستان کی۔ ماوں کے دکھ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ خدا جانے یہ مائیں اپنے بچوں کی موت سے پہلے مر کیوں نہیں جاتیں! بقول مصطفیٰ زیدی
تجھ سے ممکن ہو تو اے ناقدِ ایامِ کہن
اپنے گمنام خزانوں کو اٹھا کر رکھ لے
رات بے نام شہیدوں کے ليے روتی ہے
اِن شہیدوں کا لہو دل سے لگا کر رکھ لے
ماؤں کے میلے دوپٹوں میں ہیں جو آنسو جذب
ان کو آنکھوں کے چراغوں میں سجا کر رکھ لے
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کی نے بچوں کی دسمبر کا ماوں کے نہیں کی کر دیا ماں کے کے بعد
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔