Islam Times:
2026-06-03@08:11:57 GMT

اے ماہِ دسمبر! مائیں تو مائیں ہوتی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

اے ماہِ دسمبر! مائیں تو مائیں ہوتی ہیں

اسلام ٹائمز: کاش! 16 دسمبر کا روز ہمیں یہ احساس دلائے کہ ایک ماں کیلئے، اُسکے بچوں کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ کسی ماں کے صدمے کو کم تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن اُسکی ممتا کی عزت کرنے، اُسکے دکھ کا احترام کرنے اور اُسکے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانے سے اُسے زندگی کی تلخیوں میں تھوڑی سی راحت فراہم کی جا سکتی ہے۔ شہید بچوں کے والدین 16 دسمبر کا زخم کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ ذرا سوچئے! جب کسی نے ایسے زخم خوردہ والدین سے یہ کہا ہوگا کہ "پھر کیا ہوا تم اور بچے پیدا کرو۔" تو پھر! کیا یہ صرف ایک جملہ تھا یا اُداس ماوں کے رُخساروں پر ایک بھیانک طمانچہ۔ ایسی مائیں، جو اپنے بچوں کی قربانی کے بعد اپنی زندگی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں، اِس جملے نے اُن سب کو زمین میں زندہ درگور کر دیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

گیارہ سال گزرنے کے بعد بھی دسمبر کا خوف اور غم کم نہیں ہوا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور (APS) کی رات پاکستان کی تاریخ کی سب سے تاریک راتوں میں سے ایک تھی۔ اس شب نے سینکڑوں ماوں کے دلوں کو سوراخ سوراخ کرکے رکھ دیا۔ آج کے جدید عہد میں انسان یہ کیسے یقین کرے کہ کچھ لوگ اپنے ہی بچوں کو سانپوں کی طرح نگل جاتے ہیں۔؟ خون کے دھبّے شاہد وقت کے ساتھ دھل جائیں، لیکن وہ زخم کیسے مندمل ہوں گے کہ جب سابق کور کمانڈر نے بچوں کی ماوں سے کہا کہ  "جو ہوا وہ ہوا، آپ اور بچے پیدا کریں۔" یہ بیان کسی دشمن ملک کے کمانڈر کا نہیں بلکہ ہمارے ہی ملک کے ایک جنرل ہدایت الرحمان کا ہے۔ یوں تو 16 دسمبر 2014ء کا دن تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، لیکن اس کی سیاہی میں اس بیان نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آپ خود یہ اندازہ کریں کہ اے پی ایس کے شہداء کی ماوں کا دل بچوں کی شہادت سے زیادہ زخمی ہوا یا ایک اعلیٰ فوجی آفیسر کے اس بیان سے؟ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اس دن انسان دشمنوں کی درندگی پر روئے یا اپنوں کی بے حسی پر گریہ کرے۔؟ سوچئے اور ضرور سوچئے کہ منصب، طاقت اور اختیار۔۔۔ یہ سب  کس حد تک انسان کو بہکا سکتے ہیں۔

سانحہ اے پی ایس کے پیچھے ہمارا جتھہ سازی کا شوق پنہاں تھا۔ یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں جتھہ سازی ایک بڑی تاریخی اور انسانی غلطی تھی۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان بننے کے بعد انہی جتھوں اور عسکری گروہوں نے جیسے طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، البدر فورس وغیرہ نے ملک میں ان گنت بے گناہ اور قیمتی انسانوں نیز فوج و پولیس کے جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر کتنی ماوں کے دلوں کو گھائل کیا ہے۔ اسی طرح 1971ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کی اصل وجوہات میں عوامی رائے کو نظرانداز کرنا اور عسکری و فاشسٹ جتھوں کو عوام کی سیاسی و جمہوری طاقت کے خلاف استعمال کرنا شامل تھا۔ اسی جتھہ سازی اور غلط حکمت عملی نے پاکستان کو دولخت کر دیا، لیکن ہم نے اپنی سوچ پر نظرثانی نہیں کی۔

7 دسمبر 1970ء کے انتخابات اور مشرقی پاکستان کے عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جمہوری عمل، انصاف اور عوامی رائے کسی بھی ریاست کی بنیاد ہیں۔ جب منطق اور مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے فاشسٹ جتھوں، عسکری گروپوں اور غیر قانونی قوتوں سے کام لیا جائے تو پھر 16 دسمبر 1971ء یا 16 دسمبر 2014ء جیسی المناک صورتحال ایک فطری ردعمل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور (APS) پاکستان کی تاریخ کا دوسرا  بڑا دردناک واقعہ ہے۔ ہم نے آج تک کسی ماں کی تکلیف کے دکھوں کو سمجھنے کا کوئی درس اپنے سلیبس میں شامل ہی نہیں کیا۔ یہ کسی نے ہمیں سکھایا ہی نہیں کہ ایک روتی ہوئی ماں کے سامنے خاموش رہنا اور اُس کے آنسووں کی عزت کرنا کتنی عظیم سعادت ہے۔

کاش! 16 دسمبر کا روز ہمیں یہ احساس دلائے کہ ایک ماں کے لیے، اُس کے بچوں کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ کسی ماں کے صدمے کو کم تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن اُس کی ممتا کی عزت کرنے، اُس کے دکھ کا احترام کرنے اور اُس کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانے سے اُسے زندگی کی تلخیوں میں تھوڑی سی راحت فراہم کی جا سکتی ہے۔ شہید بچوں کے والدین 16 دسمبر کا زخم کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ ذرا سوچئے! جب کسی نے ایسے زخم خوردہ والدین سے یہ کہا ہوگا کہ "پھر کیا ہوا تم اور بچے پیدا کرو۔" تو پھر! کیا یہ صرف ایک جملہ تھا یا اُداس ماوں کے رُخساروں پر ایک بھیانک طمانچہ۔ ایسی مائیں، جو اپنے بچوں کی قربانی کے بعد اپنی زندگی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں، اِس جملے نے اُن سب کو  زمین میں زندہ درگور کر دیا۔

المختصر یہ کہ جہالتِ قدیم میں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور جہالتِ جدید میں ماوں کو۔ مائیں تو مائیں ہی ہوتی ہیں، چاہے مشرقی پاکستان کی ہوں یا مغربی پاکستان کی۔ ماوں کے دکھ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ خدا جانے یہ مائیں اپنے بچوں کی موت سے پہلے مر کیوں نہیں جاتیں! بقول مصطفیٰ زیدی
تجھ سے ممکن ہو تو اے ناقدِ ایامِ کہن
اپنے گمنام خزانوں کو اٹھا کر رکھ لے
رات بے نام شہیدوں کے ليے روتی ہے
اِن شہیدوں کا لہو دل سے لگا کر رکھ لے
ماؤں کے میلے دوپٹوں میں ہیں جو آنسو جذب
ان کو آنکھوں کے چراغوں میں سجا کر رکھ لے

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کی نے بچوں کی دسمبر کا ماوں کے نہیں کی کر دیا ماں کے کے بعد

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟