خیبرپختونخوا میں گورنر راج، اے این پی کا ردعمل بھی آگیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا میں گورنر کے لیے سابق وزیراعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی کی نامزدگی کی خبروں کو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے صوبے میں گورنر راج کی خبروں سے خود کو الگ کر دیا ہے۔
اے این پی کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ گورنر راج کے معاملے سے عوامی نیشنل پارٹی کو باہر رکھا جائے، اے این پی کی بنیاد خدائی خدمتگار تحریک کے عدم تشدد اور انسانی وقار کے اصولوں پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا نظریہ امن، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا علم بردار ہے، پشتون قوم نے ہمیشہ نوآبادیاتی ظلم کے مقابل باوقار اور اصولی مؤقف اپنایا ہے اور اے این پی 1986 سے جمہوری سوشلزم اور وفاقیت کی مضبوط آواز ہے۔
صدر اے این پی نے کہا کہ ہم پشتون قوم پرستی کو امن، ترقی اور انصاف کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھتے ہیں اور اے این پی آج بھی پاکستان میں جمہوریت، برداشت اور ترقی کی علامت ہے۔
اے این پی کے مرکزی ترجمان احسان اللہ خان نے ردعمل میں گورنر خیبرپختونخوا کے لیے سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی کی نامزدگی کو قیاس آرائی قرار دے دیا اور کہا کہ امیر حیدر ہوتی کا نام پیش کرنا حکومت کے مرکزی حصہ داروں کی ذہنی احتراع ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیر حیدر ہوتی انتخابات میں اے این پی کے اہم امیدوار ہیں، صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے اے این پی کے ساتھ تاحال کوئی رابطہ نہیں ہوا، تاہم اے این پی منتخب اداروں کو معطل کرنے کی قائل نہیں۔
احسان اللہ خان نے کہا کہ صوبے کے مسائل 6 ماہ کے گورنر راج سے نہیں بلکہ گڈ گورننس سے حل ہوں گے، صوبائی حکومت کو بھی عوام کے مسائل کے حل کے لیے گورننس پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں 32 لاکھ ووٹرز نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا، پی ٹی آئی کے خلاف 70 لاکھ ووٹ پڑے تھے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اکثریت نے بانی کی رہائی سے اتفاق نہیں کیا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے این پی کے میں گورنر گورنر راج نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر راج جیسے ایڈونچر کی کوشش پر ردعمل انہیں پتا چل جائےگا: وزیراطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گورنرراج لگانا چاہتے ہیں تو آج ہی لگا دیں۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ گورنر راج جیسے ایڈونچر کی کوشش پر ردعمل انہیں پتا چل جائےگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عطا اللہ تارڑ نے بے بنیاد الزامات لگائے، ثابت کریں کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کا دہشتگردوں سےکوئی گٹھ جوڑ ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے جانے سے پہلے بھی گورنر راج کی باتیں ہوتی تھیں۔ جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی بار گورنر نے خود کہا اور وفاقی وزیر بھی کہتے رہےہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، آج دوبارہ کسی ایجنڈے کے تحت یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
جشنِ وسیب:محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کی جانب سے ملتان میں ثقافتی جشن کا شاندار انعقاد
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ یہ ایک وزیر اعلیٰ کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں، اگر وزیراعلیٰ کے خلاف منشیات یا دیگر الزامات متعلق ثبوت ہیں تو ثابت کریں، اگر یہ ایسے الزامات لگارہے ہیں تو کے پی کے وزیر اعلیٰ کو ہتک عزت کا دعویٰ کرنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کے پی کے عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دیتے ہیں، اگر کسی پارٹی کے مینڈیٹ کو چھینیں گے تو یہ مناسب نہیں ہوگا، اگر یہ لوگ ایسا کرنا چاہتے ہیں توکر کے دیکھ لیں۔
اس سے قبل وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق معاملہ زیر غور ہے۔جیو نیوز کے پروگرام نیاپاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ دہشتگردی اور سرحد کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گورنر راج لگانے پر غور کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں ایسا انتظامی ڈھانچہ ہو جو کچھ فائدہ تو دے،کب تک کے صوبے کے شہریوں کو بےیار ومددگار چھوڑیں گے۔
'نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں'،27 ویں ترمیم کےتحت چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف کےعہدے2030 تک ساتھ چلیں گے، ماہرقانون احمد بلال محبوب
مزید :