Express News:
2026-06-03@04:25:58 GMT

اسرائیل کے خلاف آوازیں، برطانوی مسلمانوں کے لیے خوشخبری

اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT

یہ کل ہی کی بات ہے کہ ہم نے اپنے کالم میں اسرائیل کی درندگی اور مسلم ممالک کی اس پر مجرمانہ خاموشی پر لب کشائی کی تھی کہ پھر غزہ پر اسرائیلی فضائیہ نے حملے کیے جس میں درجنوں افراد شہید و زخمی ہو گئے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کے جانی و مالی نقصانات کے علاوہ جن کی تفصیلات اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں، اب تک ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں صرف بچوں کی اموات کی تعداد پچاس سے زائد ہے جو دراصل فلسطینیوں کی نسل کشی کی پالیسی کا ایک حصہ ہے اور اسرائیل اس پر مسلسل عمل پیرا ہے۔

ان حملوں کے بعد حماس نے بھی جو امریکا کی نظر میں انتہائی معتوب عنصر ہے، یونیسیف اور امریکا سے اس بربریت کے خلاف مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ دیکھنا یہ نہیں ہے کہ امریکا حماس کو سخت ناپسند کرتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیلی اقدامات انسانیت کے خلاف گھناؤنے اقدامات ہیں اور یونیسیف اور امریکا جو دنیا میں امن و آشتی کے علم بردار ہیں، اس سلسلے میں اپنا کیا حق ادا کرتے ہیں۔ہم تو ان قوتوں سے مایوس ہو کر اور غزہ کے پڑوسیوں کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر تین مسلم ممالک ترکیہ، ایران اور پاکستان کے گلہ گزار ہوئے تھے اگر مسلم ممالک میں کچھ جان باقی ہے تو یہی تین ممالک ہیں جو اسرائیل کے خلاف کم از کم آواز تو اٹھا سکتے ہیں۔

خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس بار اسرائیلی رویے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس قسم کے اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حال ہی میں شرم الشیخ میں طے پانے والے امن معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان نے زور دیا ہے کہ عالمی برادری اس قسم کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، انسانی جانوں کے اتلاف اور بچوں اور عورتوں کے بہیمانہ قتل کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے اور اسرائیل کو اس ننگی جارحیت سے روکے۔دوسری طرف سعودی امدادی ایجنسی (شاہ سلمان مرکز) نے فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں 500 ٹن کھجوروں کی تقسیم کے اپنے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کا گھیراؤ کر کے وہاں رسد و رسائل کو ممکن بنا دیا ہے اس کی وجہ سے دنیا بھر سے جو امدادی سامان بھیجا جا رہا ہے وہ سرحدوں پر رکا پڑا ہے۔ اسرائیل کو پابند کیا جانا ضروری ہے کہ وہ کم از کم امدادی سامان کی فراہمی تک اس ’’گھیراؤ‘‘ کو منقطع کردے۔ یہ ایک انسانی خدمات کا عمل ہے جس سے اسرائیل ناآشنا ہے مگر عالمی دباؤ سے شاید یہ آشنائی پیدا ہو سکے۔

برطانیہ ماضی کی سپرپاور ہے مگر اب بھی دنیا پر حکمرانی کرنے والی قوتوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ تقریباً نصف دنیا برطانوی عمل داری میں شامل تھی مگر دوسری جنگ عظیم نے اگرچہ جرمنی کو شکست سے دوچار کر دیا تھا اور برطانیہ فاتح ہو کر ٹھہرا تھا مگر ہوا یہ تھا کہ برطانیہ کی بھی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور اس کا استعمار برقرار نہیں رہا تھا۔ چنانچہ خود اپنی بقا کی خاطر برطانیہ نے اپنی پیٹھ پر لدے بوجھ اتارنا شروع کر دیے اور اس کے غلام ممالک ایک ایک کر کے آزاد ہونا شروع ہو گئے۔ برطانوی مملکت جس میں کبھی سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا اب وہاں سورج طلوع بھی کبھی کبھی ہوتا ہے۔

اب اس کی عملی حکمرانی صرف چند خستہ حال ممالک تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔لیکن بہرحال وہ دنیا بھر کا حکمران اول رہا ہے، اس لیے آج بھی اپنی جغرافیائی کم مائیگی کے باوجود عالمی حکمرانی کے تجربے کے طفیل عالمی طاقتوں کی گنتی شمار میں آتا ہے۔ آج وہ تنہا عالمی طاقت نہ رہا ہو مگر اب بھی عالمی طاقتوں کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے۔لیکن اب برطانیہ کو انتہائی خطرناک صورت حال سے واسطہ ہے جس پر اگر قابو نہ پایا گیا تو یہ گرتی عمارت قسطوں میں نہیں فی الفور گر پڑے گی۔ اہل برطانیہ اور اس کی سیاسی جماعتیں اس صورت حال میں واقف بھی ہیں اور اس کا تدارک بھی چاہتی ہیں۔

اس وقت برطانیہ میں تقریباً دس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں اور ان میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس ہوتے ہوئے اضافے سے متاثر ہو کر اہل برطانیہ میں یہ لطیفہ مشہور ہو گیا تھا کہ ان کے ایک شہر میں جہاں برطانیہ میں مقیم غیر ملکی لیکن برطانوی شہری بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ کسی شخص نے ایک گھر کی گھنٹی بجائی اندر سے پوچھے جانے پر گھنٹی بجانے والے نے کسی انگریز کا نام لے کر پوچھا ’’کیا یہ ان کا گھر ہے؟‘‘ جواب ملا ’’جی نہیں، یہاں کوئی غیر ملکی نہیں رہتا۔‘‘اہل برطانیہ کو اب یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ کہیں کل کسی کے گھنٹی بجانے پر لندن کے کسی گھر سے ایسا ہی جواب نہ مل جائے۔

کیونکہ دس لاکھ غیر قانونی قیام پذیر افراد کے علاوہ ہر روز کشتیوں کے ذریعے درجنوں کے حساب سے غیر قانونی افراد برطانوی ساحل پر اتر کر یہاں کی آبادی میں غرق ہو رہے ہیں اور برطانیہ کو اپنے ہی دیس میں اقلیت بن جانے کا خطرہ لاحق ہے۔

اس خطرے کو سب سے زیادہ محسوس کرنے والے، قدامت پسند اور مسلم دشمن رہنما نائجل فراج اور اس کی پارٹی ’’ریفارم یوکے‘‘ مقبول ہو رہی ہے۔ اور اگلا وزیر اعظم فراج ہو سکتا ہے۔دوسری طرف برطانیہ کی موجودہ وزیر داخلہ شبانہ محمود نے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے جو غیر قانونی ہجرت کرنے والوں پر قابو پانے میں معاون ہوگا۔ شبانہ محمود ایک وکیل بھی ہیں اور ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے پیش نظر بعض معتبر صحافیوں کا خیال ہے کہ وہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور اپنے اس منصوبے کے پیش کرنے کے سبب ہو سکتا ہے آیندہ کی لیبر وزیر اعظم ہوں جو برطانوی مسلمانوں کے لیے ایک تاریخ ساز واقعہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہیں اور اور اس رہا ہے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان