امریکا میں 2021 کے بعد آئے ہزاروں افغان مہاجرین امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ کچھ افراد کی پچھلی سرگرمیاں اور ممکنہ تعلقات ایسے ہیں جو امریکی شہریوں اور قانون کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، نیشنل گارڈ پر فائرنگ اور دہشت گردانہ منصوبوں میں ملوث افراد کی وجہ سے امریکی حکام افغان مہاجرین کی سخت نگرانی کر رہے ہیں، اور نئے آنے والے ویزا کیسز پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، امریکا میں 2021 کے بعد منتقل ہونے والے افغان مہاجرین میں سے 5,005 افراد کو ’نیشنل سیکیورٹی‘ خدشات کی بنا پر ’نشان زد‘ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 6,868 افغان مہاجرین سے متعلق ’ممکنہ منفی معلومات‘ تھیں، جن میں سے 956 افراد پر عوامی تحفظ کے خدشات اور 876 پر فراڈ کے شبہات تھے۔ یہ معلومات امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے سینیٹر Chuck Grassley کو فراہم کی تھیں۔ یاد رہے کہ ان افغانوں کو امریکا میں لانے کا پروگرام ’آپریشن الائی ویلکم‘ کے تحت عمل میں تھا، جو 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد بنایا گیا تھا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ستمبر 2025 تک تقریباً 885 افراد ایسے تھے جن پر سکیورٹی خدشات ابھی بھی برقرار تھے۔

فائرنگ اور نیشنل گارڈ اہلکار کی ہلاکت

یاد رہے کہ 26 نومبر 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی، جس میں ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا۔ حملہ آور رحمان اللہ لکنوال تھا، جو 2021 میں ’آپریشن الائی ویلکم‘ کے تحت امریکا آیا تھا۔ لکنوال کی پچھلی سرگرمیوں میں افغانستان میں امریکی CIA سے تعلق رکھنے والے ایک پارامیلیٹری یونٹ میں کام کرنا بھی شامل تھا۔

امریکی حکومت کا ردعمل

حالیہ حملے اور پچھلے ڈیٹا کی بنیاد پر امریکی حکومت نے افغان مہاجرین کے ویزا اور امیگریشن کیسز پر فوری طور پر کارروائی روک دی ہے۔ USCIS نے اعلان کیا کہ مزید جانچ اور سکیورٹی پروٹوکول کے جائزے تک افغان امیگریشن پر عارضی پابندی رہے گی۔ وفاقی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں، اور امریکی صدر نے اس معاملے کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

دیگر سیکیورٹی واقعات

اسی دوران دو افغان شہری، عبداللہ حاجی زادہ اور ناصر احمد توحیدی، ’داعش‘ سے متاثرہ منصوبے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ امریکی رپورٹس کے مطابق، ناصر احمد توحیدی نے اسپیشل امیگرینٹ ویزا کے تحت امریکا میں داخل ہو کر 2 AK-47 اسلحہ اور 500 گولیاں حاصل کی تھیں اور بعد میں ’داعش‘ کی مدد کرنے کے جرم میں قصوروار قرار پایا، جبکہ عبداللہ حاجی زادہ کو 15 سال کی سزا دی گئی۔

5  ہزار سے زیادہ افغان مہاجرین کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا، بم دھمکی کے الزامات، اور نیشنل گارڈ پر فائرنگ اور ہلاکت جیسے واقعات امریکا میں افغان مہاجرین کے خلاف سخت مانیٹرنگ اور امیگریشن معطلی کے فیصلے کو تقویت دیتے ہیں۔ یہ واقعات امریکی عوام اور قانون سازوں میں سوالات پیدا کر رہے ہیں کہ 2021 میں افغانستان سے انخلا اور پناہ گزین پروگراموں کو مناسب طریقے سے ویری فائی کیا گیا یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قومی سلامتی کے لیے افغان مہاجرین کے لیے خطرہ نیشنل گارڈ امریکا میں کے مطابق

پڑھیں:

امریکا کا افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے اور اسائلم فیصلے فوری    معطل کرنے کا فیصلہ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکا نے افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے اور اسائلم فیصلے فوری    معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکومت نے اچانک فیصلہ کرتے ہوئے افغان پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے تمام ویزا درخواستوں اور اسائلم کیسز پر کارروائی روک دی ہے۔

اس اعلان سے وہ لوگ بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئے ہیں جن کی درخواستیں آخری مراحل میں تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس فیصلے کو قومی سلامتی اور داخلی تحفظ کے تناظر میں فوری اور ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق افغانستان سے سفر کرنے والے یا افغان پاسپورٹ استعمال کرنے والے تمام افراد کے ویزے عارضی طور پر معطل کیے گئے ہیں اور یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک متعلقہ ادارے نئی سیکورٹی ہدایات کے مطابق ضروری جانچ مکمل نہیں کرلیتے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ حالیہ بدامنی اور سیکورٹی خدشات نے حکام کو مجبور کیا کہ ویزوں سے متعلق تمام امور فی الحال روک دیے جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے پیشگی نمٹا جا سکے۔

اس فیصلے کے بعد یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بھی اسی نوعیت کا حکم جاری کیا ہے، جس کے تحت اسائلم کیسز سمیت تمام امیگریشن درخواستیں اس وقت تک آگے نہیں بڑھائی جائیں گی جب تک ہر درخواست گزار کی مکمل اسکریننگ نہ ہوجائے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جوزیف ایڈلو نے واضح کیا کہ اب کسی بھی فرد کی درخواست اس وقت تک قابلِ غور نہیں ہوگی جب تک وہ سیکورٹی کلیئرنس کے تمام مراحل سو فیصد مکمل نہ کرلے۔

صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل ہی اعلان کیا تھا کہ وہ ترقی پذیر اور جنگ زدہ ممالک سے ہجرت کے راستے مستقل طور پر محدود کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے افراد جنہیں داخلی امن کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا، ان کی شہریت تک واپس لی جا سکتی ہے۔ اس بیان کو ماہرین پہلے ہی ایک بڑے پالیسی موڑ کے طور پر دیکھ رہے تھے، جس کے بعد اب یہ عملی اقدامات سامنے آگئے ہیں۔

یاد رہے کہ 2 روز قبل وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک افغان نژاد شخص نے نیشنل گارڈز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مبینہ حملہ آور 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا پہنچا تھا، اور اب اس واقعے نے امریکی امیگریشن پالیسی پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں ترجیح امریکی شہریوں اور ریاستی اداروں کی حفاظت ہے، اسی لیے افغان شہریوں کے تمام امیگریشن پراسیس وقتی طور پر روکے گئے ہیں۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیکورٹی اداروں کی تحقیقات مزید سختیاں تجویز کریں تو یہ پابندیاں طویل بھی ہوسکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی ریاست ٹیکساس میں بم بنانے کا دعویدار افغان شہری گرفتار
  • ٹیکساس، ٹک ٹاک پر بم بنانے کا دعویٰ کرنے والا افغان شہری گرفتار
  • افغان رجیم پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • امریکا کی تاریخ کا ایسا دن جس میں سب سے زیادہ سزائے موت دی گئیں
  • افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • امریکا میں مقیم افغانوں کی ٹرمپ سے امیگریشن درخواستیں نہ روکنےکی اپیل
  • امریکا کا افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے اور اسائلم فیصلے فوری    معطل کرنے کا فیصلہ
  • امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے
  • نیشنل گارڈ ہلاک: غیر قانونی تارکین امریکا کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں، صدر ٹرمپ