فیلڈ مارشل سے سعودی چیف آف جنرل سٹاف کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
فیلڈ مارشل سے سعودی چیف آف جنرل سٹاف کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 24 November, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز)جنرل ہیڈ کوارٹرز(جی ایچ کیو)میں سعودی عرب کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے فیلڈ مارشل و چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، خصوصا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ، اسٹریٹجک اور مضبوط عسکری تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اس دوران دفاعی اشتراک، سکیورٹی تعاون اور انسداد دہشتگردی کے شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا جو دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کی بنیاد ہیں۔معزز مہمان نے سعودی مسلح افواج کے ساتھ مختلف شعبوں میں پاکستان کے تعاون کو سراہا اور دوطرفہ مضبوط تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ جی ایچ کیو پہنچنے پر جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور پاک فوج کے ایک چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس، اہم سرکاری اداروں میں کلیدی تعیناتیوں اور بورڈز کی ازسرِنو تشکیل کی منظوری وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس، اہم سرکاری اداروں میں کلیدی تعیناتیوں اور بورڈز کی ازسرِنو تشکیل کی منظوری عوام نے تخریبی سیاست مسترد کرکے کردیا خوشحالی کو چن لیا، نواز شریف کی ضمنی انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد یہ الیکشن نہیں ریفرنڈم تھا، اب فیض حمید ہے اور نہ وہ جج جو پی ٹی آئی کو جتواتے تھے، قیدی نمبر 804کو گھر... وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی الوداعی ملاقات ملک میں عدلیہ کی آزادی، شہری حقوق اور عوام کی سلامتی خطرے میں ہے، ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے 20ویں کنوکیشن میں 2,860 طلبہ کو ڈگریاں دی جائیں گی۔ فلسطینی طلبہ بھی موجود
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیف آف
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔