جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا، مولانا محمود مدنی
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
جمعیت علماء ہند کے صدر نے کہا کہ بابری مسجد کے فیصلے اور اسطرح کے کئی دیگر فیصلوں کے بعد یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ عدالتیں حکومتوں کے دباؤ میں کام کررہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست بہار کے گورنر عارف محمد خان نے جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کے جہاد سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے دار العلوم دیوبند کو نشانہ بنایا۔ عارف محمد خان نے کہا کہ مولانا محمود مدنی کے بیان سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا اور قرآن بھی وہی کہہ رہا ہے جو مولانا محمود مدنی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا لیکن انہیں کے یہاں دار العلوم دیوبند میں ان کے بیان کے برعکس جہاد کی کچھ اور تعلیم دی جا رہی ہے۔ عارف محمد خان نے کہا کہ جیسا کہ مولانا محمود مدنی نے کہا اور قرآن کے بھی مطابق جہاد کا مطلب کمزوروں، غریبوں یا مظلوموں کی حمایت میں کھڑا ہونا اور آواز اٹھانا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہی حقیقی جہاد ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ در العلوم دیوبند کی کتاب میں جہاد کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ شریعت میں جہاد دین حق کی طرف بلانے اور جو اسے قبول نہ کرے، اس سے جنگ کرنے کو کہتے ہیں۔
عارف محمد خان نے سنگین الزام لگایا کہ مدارس اور بہت سے اسلامی تعلیمی ادارے بچوں کو جہاد کا صحیح مفہوم نہیں سکھا رہے ہیں۔ بہار کے گورنر نے کہا کہ مولانا محمود مدنی ایک بڑے تعلیمی ادارے سے منسلک ہیں، انہیں دیکھنا چاہیئے کہ وہاں بچوں کو کیا پڑھایا جا رہا ہے، جب تک ظلم رہے گا، تب تک جہاد ہوگا، اس سے اختلاف کرنا بڑا مشکل کام ہے کہ ظلم کہیں بھی ہوگا، جو قرآنی اصطلاح ہے وہ یہ ہے کہ صرف آپ ظلم نہیں بلکہ اگر کسی کمزور یا غریب پر ظلم ہو رہا ہے تو آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ اس کے لئے آواز اٹھائیے اور اس کی مدد کیجیے، لیکن مسئلہ یہاں آتا ہے کہ عوام کے بیچ میں تو وہ یہ بیان دیتے ہیں لیکن جس تعلیمی ادارے سے ان کا تعلق ہے وہاں پر وہ پڑھا کیا رہے ہیں کہ جہاد کیا ہے، ذرا اس پر غور کر لیجیئے۔ انہیں کے یہاں پڑھائی جا رہی ایک کتاب کی سطر نقل کرتا ہوں، اس کے مطابق شریعت میں جہاد دین حق کی طرف بلانے اور جو اسے قبول نہ کرے، اس سے جنگ کرنے کو کہتے ہیں۔
دراصل مولانا محمود مدنی نے حال ہی میں مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں منعقدہ جمعیت علماء ہند کی مجلس منتظمہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں نے اسلام کی مقدس اصطلاحات مثلاً جہاد کے لفظ کو ایک گالی، فساد اور تشدد کا ہم نام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لو جہاد، لین جہاد، تعلیم جہاد، تھوک جہاد وغیرہ جیسے جملے استعمال کر کے مسلمانوں کی سخت دل آزاری اور ان کے مذہب کی توہین کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ حکومت اور میڈیا میں بیٹھے ذمہ دار افراد بھی اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے اور نہ ایک کمیونٹی کی دل آزاری کی پرواہ کرتے ہیں، بلکہ پرواہ کیا کریں گے یہ تو ایسا اس کمیونٹی کی دشمنی میں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو پرانے دور سے چلا آ رہا ہے کہ کہیں بھی دہشت گردانہ واقعہ پیش آ جائے تو اس کو جہاد کا نام دے کر اسلام اور مسلمانوں پر طعنے، تہمتیں اور ناحق الزام عائد کئے جاتے ہیں۔
مولانا محمود مدنی نے آگے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہے کہ اسلام میں جہاد ایک مقدس دینی فریضہ ہے۔ جہاد قرآن میں کئی معنوں کے لئے استعمال ہوا ہے لیکن جس معنیٰ لئے بھی استعمال ہوا ہے، فرض سے لے کر سماج و انسانیت کی بھلائی، ان کی سر بلندی اور ان کے عزت و وقار کے قیام کے لئے ہوا ہے۔ جہاں جنگ و قتال کے معنی میں استعمال ہوا ہے، وہ بھی ظلم و فساد کے خاتمے اور انسانیت کی بقاء کے لئے استعمال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے جب جب ظلم ہوگا، تب تب جہاد ہوگا۔ انہوں نے کہا "میں اس کو دوبارہ کہتا ہوں، جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا"۔ اسی کے ساتھ انہوں نے عدالتوں پر حکومت کے زیر اثر کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے فیصلے اور اس طرح کے کئی دیگر فیصلوں کے بعد یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ عدالتیں حکومتوں کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ اپنا فرض ادا نہیں کرتی تو وہ سپریم کورٹ کہلانے کی مستحق نہیں ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا محمود مدنی نے انہوں نے کہا کہ استعمال ہوا ہے جہاد ہوگا میں جہاد کے لئے رہا ہے
پڑھیں:
ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کی مولانا کلب جواد سے ملاقات، اترپردیش کی موجودہ سیاست پر بات چیت
ملاقات کے بعد ڈاکٹر ممتاز رضوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کلب جواد سے کچھ ایسی باتیں ہوئی ہیں جنکا ذکر وقت آنے پر کیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر اور مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد، شاہی امام کربلا جورباغ مولانا سید محمد قاسم، امام جمعہ بڑی مسجد خوریجی مولانا عابد عباس سینیئر صحافی ادیب و قلمکار اور سیاستداں ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کی خصوصی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر مولانا کلب جواد اور تمام علماء کرام نے سب سے پہلے ڈاکٹر ممتاز رضوی کو بی ایس پی میں شامل ہونے پر گلدستہ پیش کرتے ہوئے مبارکباد دی اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعائیں دیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر ممتاز رضوی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نے یوپی میں بی ایس پی حکومت کے آنے کا دعویٰ کیا۔
کربلا جور باغ نئی دہلی میں ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے مولانا کلب جواد سے قریب 30 منٹ کی ملاقات کی جس میں اترپردیش کی موجودہ سیاست اور بطور خاص 2027ء میں ہونے والے اسمبلی کے انتخابات پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد ڈاکٹر ممتاز رضوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کلب جواد سے کچھ ایسی باتیں ہوئی ہیں جن کا ذکر وقت آنے پر کیا جائے گا، بس یہ ہے کہ انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، آپ کے ساتھ ہم سب کھڑے ہیں۔ مولانا کلب جواد نے اس بات کی تائید کی کہ بہن کماری مایاوتی کا دور حکومت باقی سے اچھا رہا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز رضوی نے کہا کہ مولانا کلب جواد نے کچھ مشورے دیے ہیں جن کو مایاوتی تک جلد پہنچانے کا کام کیا جائے گا اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔