ملک میں نئے یونٹوں کے قیام کے بغیر ترقی ممکن نہیں، ڈاکٹر سلیم حیدر
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین ایم آئی ٹی نے کہا کہ آئی ایم ٹی پچھلے 20 سال سے صوبوں کے قیام کیلئے نہ صرف سندھ بلکہ ملک بھر میں آواز اٹھارہی ہے اس کیلئے ملک کے دیگر وہ تنظیمیں جو انتظامی یونٹ کیلئے سرگرم ہیں ان کے ساتھ مشترکہ طورپر جدوجہد بھی کی ہے اور ہماری یہ جدوجہد جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان میں جلد سے جلد نئے انتظامی یونٹ قائم کئے جائیں تاکہ ملک میں تعمیروترقی کے نئے دور کا آغاز ہوسکے، بدقسمتی سے سیاسی طورپر بلوغت کا مظاہرہ نہ کئے جانے کی وجہ سے آج عوام مشکل اور مصائب کا شکار ہے، ملک میں غیر یقینی کی صورتحال ہے، عوام کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں جنہیں حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ کیا جارہا ہے۔ وہ کراچی کے مختلف علاقوں ناظم آباد، نیوکراچی، کورنگی، عزیز آباد اور دیگر سے ملاقات کیلئے آنے والے وفود سے بات چیت کررہے تھے۔ اس موقع پر پارٹی رہنما اعجاز شیخ، ندیم احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا کہ مہاجر اتحاد تحریک روز اول سے صوبوں کے قیام کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کیلئے سب سے پہلے ایم آئی ٹی کے پلیٹ فارم سے ہم نے آواز اٹھائی جس کی پاداش میں ہمیں نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ ہم پر بغاوت کا مقدمہ بھی قائم کیا گیا جس پر ہائیکورٹ نے ہمیں نہ صرف باعزت بری کیا بلکہ صوبے قیام کے مطالبے کو بھی جائز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ٹی پچھلے 20 سال سے صوبوں کے قیام کیلئے نہ صرف سندھ بلکہ ملک بھر میں آواز اٹھارہی ہے اس کیلئے ملک کے دیگر وہ تنظیمیں جو انتظامی یونٹ کیلئے سرگرم ہیں ان کے ساتھ مشترکہ طورپر جدوجہد بھی کی ہے اور ہماری یہ جدوجہد جاری ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبوں کے قیام کیلئے نے کہا
پڑھیں:
اگلے 300 دن سیلاب متاثرہ ڈھانچے کی بحالی کیلئے نہایت اہم ہیں: ڈاکٹر مصدق ملک
— فائل فوٹووفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ اگلے 300 دن سیلاب سے متاثرہ ڈھانچے کی بحالی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
کراچی کی نجی یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 300 روزہ منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فیز 2 میں طویل المدتی موافقت اور لچک بڑھانے کی حکمتِ عملی شامل ہے۔ پاکستان کی نئی موسمیاتی ترجیحات فکس، گرو اینڈ بِلڈ ہے۔ تاہم وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کوششوں کے بغیر موسمیاتی لچک ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کاربن اخراج 1 فیصد سے کم ہے، مگر دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے یہ بھی کہا کہ 10 ممالک 70 فیصد سے زائد عالمی کاربن اخراج کے ذمے دار ہیں۔ موسمیاتی انصاف کے لیے عالمی ذمے داری کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔