مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین ایم آئی ٹی نے کہا کہ آئی ایم ٹی پچھلے 20 سال سے صوبوں کے قیام کیلئے نہ صرف سندھ بلکہ ملک بھر میں آواز اٹھارہی ہے اس کیلئے ملک کے دیگر وہ تنظیمیں جو انتظامی یونٹ کیلئے سرگرم ہیں ان کے ساتھ مشترکہ طورپر جدوجہد بھی کی ہے اور ہماری یہ جدوجہد جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔  مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان میں جلد سے جلد نئے انتظامی یونٹ قائم کئے جائیں تاکہ ملک میں تعمیروترقی کے نئے دور کا آغاز ہوسکے، بدقسمتی سے سیاسی طورپر بلوغت کا مظاہرہ نہ کئے جانے کی وجہ سے آج عوام مشکل اور مصائب کا شکار ہے، ملک میں غیر یقینی کی صورتحال ہے، عوام کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں جنہیں حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ کیا جارہا ہے۔ وہ کراچی کے مختلف علاقوں ناظم آباد، نیوکراچی، کورنگی، عزیز آباد اور دیگر سے ملاقات کیلئے آنے والے وفود سے بات چیت کررہے تھے۔ اس موقع پر پارٹی رہنما اعجاز شیخ، ندیم احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا کہ مہاجر اتحاد تحریک روز اول سے صوبوں کے قیام کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کیلئے سب سے پہلے ایم آئی ٹی کے پلیٹ فارم سے ہم نے آواز اٹھائی جس کی پاداش میں ہمیں نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ ہم پر بغاوت کا مقدمہ بھی قائم کیا گیا جس پر ہائیکورٹ نے ہمیں نہ صرف باعزت بری کیا بلکہ صوبے قیام کے مطالبے کو بھی جائز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ٹی پچھلے 20 سال سے صوبوں کے قیام کیلئے نہ صرف سندھ بلکہ ملک بھر میں آواز اٹھارہی ہے اس کیلئے ملک کے دیگر وہ تنظیمیں جو انتظامی یونٹ کیلئے سرگرم ہیں ان کے ساتھ مشترکہ طورپر جدوجہد بھی کی ہے اور ہماری یہ جدوجہد جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صوبوں کے قیام کیلئے نے کہا

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا