افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں، افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے-
25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ رواں سال صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ باررڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈ پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہونگے، پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورت حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اس کے برعکس ،افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں-
اگر افغان بارڈر سے متصل علاقوں کو دیکھا جائے تو وہاں آپکو بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ دیکھنے کو ملتاہے جو گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جسکی سہولت کاری فتنتہ آلخوارج کرتے ہیں-
اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آرہی ہیں یا غیر قانونی اسمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہےتو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہےتو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں-
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں، افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ ، داعش اور دہشتگرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے-
انہوں نے کہا کہ وہاں سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے انکے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں۔اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے توپاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
پاکستان کے اس موقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے، فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں غیر منطقی ہے، اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم انکو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ SIGAR کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اورحکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا، طالبان رجیم نے اس وقت Non State Actor پالے ہوئے ہیں جو خطے کےمختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں-
پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہئے، دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا مگر اس پراب تک عمل نہیں ہوا-
افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں، ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے، پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے، ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت کی اجارہ داری ہے، انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے۔
جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملہ ہو جائے اور ایس-400کی بیٹریاں تباہ ہو جائیں تو ایسے ٹریلر پر مبنی فلم ان کیلئے horror فلم بن جائے گی، سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں-
کوئی بھی ملک اگرافغان طالبان رجیم کو فوجی سازو سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشتگردوں کے ہاتھ ہی لگے گا، ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانےوالے X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں،
دہشتگردی پر تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہےکہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے، اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے- جبکہ خیبر پختونخوا میں اسکی کمی نظر آتی ہے۔
اس نظام کے تحت ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور implementation کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ غیر قانونی اسپیکٹرم کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اس مد میں حاصل ہونے والی رقم دہشتگردی کے فروغ کیلئے استعمال کی جاتی ہے-
ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر آرمی اور ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے 20.5 ملین لیٹر ڈیزل کی یومیہ اسمگلنگ ہوتی تھی، یہ مقدار کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ پر آ چکی ہے، ایران سے سمگل ہونے والے ڈیزل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بی ایل اے اور BYC کو جاتی ہے-
نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باعث بلوچستان کے 27 ضلعوں کو پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جا چکا ہے جو کہ بلوچستان کا 86فیصد حصہ ہے، بلوچستان میں صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کر رہے ہیں۔اس طرح کی 140 یومیہ اور 4000 ماہانہ انگیجمنٹ ہو رہی ہیں جسکے بہت دورس نتائج ہیں، ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جا سکتا-
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان طالبان رجیم آئی ایس پی آر پاکستان کا نے کہا کہ کے دوران کے خلاف ڈیزل کی کے ساتھ
پڑھیں:
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان؛ امن کے لیے خطرہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-03-7
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے بارے میں غیر سنجیدہ، غیر حقیقت پسندانہ اور اشتعال انگیز دعویٰ کیا، خطرناک رویے کی تازہ مثال ہے۔ انڈین وزیر ِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا صوبہ سندھ سے متعلق دیا گیا بیان خطرناک حد تک تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ انڈین وزیر دفاع کا یہ بیان اْس ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین، تسلیم شدہ سرحدوں کی حرمت اور ریاستی خودمختاری کی کْھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کے مہینوں بعد بھی سیاسی و عسکری رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات دینے کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے اور انڈین وزیر ِ دفاع کا حالیہ بیان اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین، تجزیہ کاروں نے اس بیان کو پاکستان کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ انڈین وزیر ِ دفاع اتوار کو دہلی میں سندھی سماج سمیلن کے عنوان سے ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کر رہا تھا جس کی متعدد ویڈیوز انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیے ہیں۔ انڈیا کے وزیر ِ دفاع نے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ سندھی ہندو، بالخصوص اْن کی نسل کے لوگ، آج تک سندھ کو انڈیا سے الگ کرنے کو قبول نہیں کر پائے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ناصرف سندھ میں بلکہ پورے انڈیا میں ہندو، سندھو ندی (دریائے سندھ) کو مقدس سمجھتے تھے۔ سندھ کے کئی مسلمان بھی مانتے تھے کہ دریائے سندھ کا پانی مکہ کے آبِ زمزم سے کسی طور کم متبرک نہیں۔ یہ اڈوانی نے کہا ہے۔ پاکستان نے بجا طور پر اس بیان کی سخت مذمت کی ہے اور اسے ’’خیالی اور خطرناک تشددی رویہ‘‘ قرار دیا ہے، کیونکہ جب کسی ملک کے دفاع کا لب و لہجہ جنگی سیاست کو ہوا دے تو اس کا مطلب محض سفارتی تناؤ نہیں بلکہ سوچ کے اس زاویے کی جھلک ہوتی ہے جو حقیقت سے زیادہ خواہشات کے سہارے سیاست چلاتا ہے۔ پاکستان نے بالکل درست کہا کہ یہ بیان ایک ایسے ’’وسعت پسند ہندو توا ذہنیت‘‘ کی عکاسی کرتا ہے جو خطے کی تسلیم شدہ سرحدوں، تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قانون کو چیلنج کرنے کا عادی بنتا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ سیاسی فضا اس ذہنیت کو نہ صرف قبول کر رہی ہے بلکہ اسے قومی بیانیے کی شکل دینے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ اس بیانیے میں تاریخ کو نئی شکل دی جاتی ہے، جغرافیہ کو خواہشات کے مطابق توڑا جاتا ہے، اور سیاست کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی ماحول ہے جس میں ایسے بیانات پھلتے پھولتے ہیں، اور پھر خطے کا امن صرف چند لفظوں کی قیمت پر کمزور ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایسی اشتعال انگیز گفتگو بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ دنیا بھر میں سرحدیں بیانات سے تبدیل نہیں ہوتیں، جنگوں سے بھی کم، بلکہ وہ تاریخی حقائق، عالمی معاہدات اور بین الاقوامی تسلیم شدہ اصولوں کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ سندھ نہ صرف پاکستان کا باقاعدہ، مسلمہ اور آئینی صوبہ ہے بلکہ اس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ایک منفرد تہذیبی سفر رکھتی ہے۔ اس کا تعلق محض جغرافیے سے نہیں بلکہ شناخت، ثقافت اور ایک پوری قوم کے اجتماعی شعور سے ہے۔ اس حقیقت کو محض سیاسی فائدے کے لیے نظرانداز کرنا نہ صرف ناسمجھی بلکہ خطرناک جنون ہے۔
ناگزیر ہے کہ اس بیان کو بھارتی داخلی سیاست کے پس منظر میں سمجھا جائے۔ بھارت میں پچھلی ایک دہائی سے جس نظریے کو سیاسی ترجیح حاصل ہوئی ہے، اس کی بنیاد تاریخ کی نئی تعبیر، مذہب کی سیاسی تفہیم اور خطے میں بالادستی کے خواب پر رکھی گئی ہے۔ ایسے میں پاکستان، چین، نیپال اور سری لنکا کے بارے میں جارحانہ لہجہ اختیار کرنا اس سیاسی سوچ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جسے بھارتی ووٹ بینک کے ایک خاص طبقے کی تائید حاصل ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب ایک ریاست اپنی داخلی شکستوں، اقلیتوں پر ظلم اور معاشرتی عدم توازن کو چھپانا چاہتی ہے تو وہ بیرونی دشمن تراشنے لگتی ہے، اور بھارتی وزیر دفاع کا سندھ کے حوالے سے بیان اسی سفارتی حکمت ِ عملی کی پیداوار ہے۔ پاکستان نے بالکل بجا نشاندہی کی کہ بھارت کو سب سے پہلے اپنے ان شہریوں کی فکر کرنی چاہیے جو اس کی حدود کے اندر محفوظ نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی رپورٹیں مسلسل یہ گواہی دیتی ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر تشدد ایک معمول بن چکا ہے، قانون کے رکھوالے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور نفرت انگیز گروہ کھلے عام دھمکیاں دے کر سیاست میں اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں حکومت کا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ داخلی عدم تحفظ کو کم کرے، نہ کہ بیرونی سرحدوں کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی پیدا کرے۔
علاقائی تناظر میں یہ معاملہ محض پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا مسئلہ ہے۔ یہ خطہ پہلے ہی جوہری ہتھیاروں سے مسلح دو بڑے ممالک کی وجہ سے حساس ہے۔ یہاں ایک غلط فہمی، ایک غلط بیان یا ایک سیاسی جنون کسی بڑے بحران کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہایت دانشمندی سے اس بیان کا جواب سفارتی اصولوں کے تحت دیا تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بھارتی قیادت ایسے بیانات سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ کیا یہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے؟ کیا یہ اکثریتی ووٹ کے جذبات کو بھڑکانے کی حکمت عملی ہے؟ یا پھر یہ خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کا ابتداء ہے؟ ان سوالات کا جواب وہی دے سکتا ہے جس کے پاس بھارت کی سیاسی حرکات کے پیچھے چھپے محرکات تک رسائی ہو، لیکن خطہ ضرور اس کے نتائج بھگت سکتا ہے۔
پاکستان کا ردعمل نہ صرف سفارتی زبان میں متوازن تھا بلکہ خطے کے امن کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی یاد دلایا کہ سرحدی نقشوں سے کھیلنے والے ممالک دراصل اپنی ہی زمین پر موجود خوف کو چھپاتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جو اندر سے کمزور ہو، جہاں اقلیتیں خوفزدہ ہوں، جہاں تاریخ مسخ کی جاتی ہو، جہاں تعلیم سیاسی بیانیے کا آلہ کار بن جائے، وہ ہمیشہ بیرونی دشمنوں کا تصور پیدا کرتا ہے تاکہ اندرونی بگاڑ سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ اس وقت بھارت اسی نفسیاتی کیفیت کا شکار ہے، اور یہی کیفیت خطرے کی گھنٹی ہے۔ پاکستان نے یہ بھی درست کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان عناصر کا احتساب کرے جو نہ صرف اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں بلکہ اسے عملی طور پر انجام بھی دیتے ہیں۔ اگر بھارتی ریاست واقعی ایک جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے تو اسے اپنی اقلیتوں کو وہی حقوق دینے ہوں گے جن کا ذکر وہ بیرونی دنیا میں کرتا ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت کے بیانات، پالیسیاں اور طرزِ حکمرانی اس کے جمہوری تشخص کو نہ صرف کمزور کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان ہمیشہ اس اصول پر قائم رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام، سرحدوں کی حرمت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان نے کبھی بھی توسیع پسند بیانیے کو فروغ نہیں دیا، نہ ہی کسی کے جغرافیے پر دعویٰ کیا۔ اس کی توجہ ہمیشہ خودمختاری، امن، تعاون اور علاقائی ترقی پر رہی ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی جانب سے ایسے بیانات خطے میں بے چینی بڑھاتے ہیں، اور یہ بے چینی مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ امن صرف الفاظ سے نہیں بلکہ رویوں سے قائم ہوتا ہے۔ بھارت اگر واقعی خود کو ایک ذمے دار ریاست سمجھتا ہے تو اسے اپنے وزرا کے بیانات میں سنجیدگی لانی ہوگی، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا، سرحدوں کے احترام کو تسلیم کرنا ہوگا، اور خطے کے پڑوسی ممالک کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی چھوڑنی ہوگی۔ یہی راستہ ہے جو جنوبی ایشیا کو جنگی نفسیات سے نکال سکتا ہے، عوام کو امن کی طرف لے جا سکتا ہے، اور مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ اگر بھارت یہ راستہ اختیار کرے تو خطہ خود بخود استحکام کی طرف جائے گا؛ لیکن اگر اس نے توسیع پسندانہ ذہنیت کو اپنا سیاسی ہتھیار بنائے رکھا تو یہ آگ صرف سرحد پار نہیں بلکہ بھارت کے اپنے اندر بھی پھیلتی چلی جائے گی۔
سیف اللہ