’دھوپ کنارے‘ کی کامیابی کے بعد آدھا چہرہ مفلوج ہوگیا تھا، مرینہ خان
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کراچی (نیو ڈیسک) سینئر اداکارہ و ہدایت کارہ مرینہ خان نے بتایا کہ ڈراما سیریل ’دھوپ کنارے‘ کی کامیابی کے بعد ان کا آدھا چہرہ مفلوج ہوگیا تھا۔مرینہ خان نے حال ہی میں پی ٹی وی کی 61 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی پروگرام میں شرکت کی اور اپنے کیریئر کے کچھ یادگار لمحات کے ساتھ ساتھ ذاتی مشکلات بھی شیئر کیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ جن دنوں ان کے ڈرامے پی ٹی وی پر نشر ہوتے تھے، ان کے لیے عوامی مقامات پر جانا بہت مشکل ہو جاتا تھا کیونکہ لوگ باآسانی انہیں پہچان لیتے تھے۔
انہوں نے خاص طور پر ڈراما سیریل دھوپ کنارے کا ذکر کیا، جو بہت مقبول ہوا، اس کے نشر ہونے سے قبل معروف اداکار بہروز سبزواری نے انہیں ایک عوامی جگہ پر پان کھاتے دیکھ کر مذاق میں کہا تھا کہ ابھی تو بہت مزے سے کھا رہی ہو، دیکھوں گا کہ ڈراما نشر ہونے کے بعد کیسے کھاؤ گی۔
اداکارہ نے کہا کہ بہروز سبزواری بالکل درست کہہ رہے تھے کیونکہ ڈرامے کی مقبولیت کے بعد عوامی جگہوں پر جانا اور بھی مشکل ہوگیا تھا، لیکن انہوں نے پھر بھی کہیں جانا نہیں چھوڑا تھا۔
مرینہ خان نے انکشاف کیا کہ اس ڈرامے کے فوری بعد ان کے کیریئر کے عروج کے وقت انہیں ایک خوفناک طبی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، ان کے آدھے چہرے پر فالج ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اس حصے کو صحیح سے حرکت نہیں دے پا رہیں تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں عوامی مقامات پر جانے سے منع کیا تھا، لیکن انہوں نے عوامی رائے کی پرواہ کیے بغیر اپنی زندگی معمول کے مطابق گزاری اور اس دوران شادیوں اور دیگر تقریبات میں بھی شرکت کرتی رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔