افواہیں منظم سازش کا حصہ، پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا: عطاء اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) — وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ملک میں پھیلائی جانے والی افواہیں ایک منظم سازش کا حصہ ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کا کردار اس سازش میں واضح طور پر سامنے آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے جبکہ اداروں اور ریاست کو کمزور کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں کو ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر انتہائی اہم بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ افغانستان سے دراندازی روکنے کے لیے پاک فوج مسلسل مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی کمزوریاں اور کوتاہیاں سرحد پار سے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کی بڑی وجہ ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے چار ہزار سے زائد کیسز ایسے ہیں جن میں تاحال فردِ جرم تک عائد نہیں ہو سکی۔ گزشتہ بارہ برسوں میں صوبے میں کوئی مؤثر پراسیکیوشن سسٹم نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “انہیں اڈیالہ جیل کے باہر نعرے لگانا تو آتا ہے لیکن پراسیکیوشن کے سپیلنگ تک نہیں آتے۔” ان کے مطابق صوبے کا پراسیکیوشن نظام نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کا ٹرائل ممکن نہیں ہو پاتا۔
وفاقی وزیر نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخوا حکومت میں سیاسی لوگوں کا منشیات فروشوں، کرمنلز اور دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ایک ’’پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس‘‘ کو جنم دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں منشیات کی سمگلنگ صوبائی حکومت کی نگرانی میں چل رہی ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت ان کے قریبی لوگ اس دھندے میں ملوث ہیں۔ وزیر اطلاعات نے انکشاف کیا کہ جنوری تا اگست 2025 کے دوران ڈرگ ٹریفکنگ کے دس ہزار سے زائد مقدمات رجسٹرد ہوئے، مگر صرف 679 میں سزا سنائی جا سکی۔
عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی کھلے عام موجودگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں ہزاروں غیر قانونی گاڑیاں باقاعدہ این سی پی پلیٹ لگا کر چلتی ہیں۔ ان گاڑیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ صوبائی حکومت اس غیر قانونی کاروبار کو روکنے میں مکمل ناکام ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بشام کے حساس واقعہ میں بھی نان کسٹم پیڈ گاڑی استعمال ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ گاڑیاں چیک کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے، فوج کا نہیں۔ خیبر پختونخوا میں انتظامی ناکامی اپنی مثال آپ ہے۔”
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صوبے میں مائنز کے غیر قانونی ٹھیکوں نے ماحولیات کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ ٹمبر اور ڈرگ مافیا کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ مافیاز سالانہ تقریباً 2300 ارب روپے کا نقصان قومی خزانے کو پہنچاتے ہیں۔ اگر نان کسٹم پیڈ گاڑیاں باقاعدہ رجسٹرڈ کر لی جائیں تو 800 ارب روپے تک کی آمدن حاصل ہو سکتی ہے، اور اگر ٹوبیکو مافیا ٹیکس ادا کرے تو کم از کم 500 ارب روپے قومی خزانے میں جمع ہو سکتے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گرد انہی غیر قانونی دھندوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لیے دہشت گرد فوج، پولیس اور تعلیمی اداروں پر تو حملے کرتے ہیں لیکن منشیات اور اسلحہ سمگلروں کو نہیں چھیڑتے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہر بار افغانستان کی جانب سے کی جانے والی دراندازی کا بھرپور جواب دیا اور دہشت گرد اپنے سازوسامان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ فوج نے دہشت گردوں کو ہر محاذ پر شکست دی۔
وزیر اطلاعات نے اسلام آباد جی الیون کچہری حملے کو افغانستان سے جڑا ہوا قرار دیتے ہوئے بتایا کہ خودکش بمبار اور ہینڈلرز کی تربیت افغانستان میں ہوئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اس واقعے کی مذمت تک نہ کی۔
انہوں نے عمران خان اور ان کے قریبی حلقے پر بھی سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ “عمران نیازی کی بہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس میں موجود تھیں اور ان کی موجودگی ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ چکی ہے۔” عطاء تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما پاکستان مخالف بیانیہ انڈین میڈیا پر لے جا کر ملک کو بدنام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “نورین خان نیازی نے بھارتی چینل پر جا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا، مگر بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم یا کشمیر کی صورتحال پر ایک لفظ نہ کہا۔”
عطاء اللہ تارڑ نے اعلان کیا کہ 9 مئی کے منصوبہ ساز اور سہولت کار قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ایف بی آر کی اصلاحات کے ذریعے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کر رہی ہے جبکہ خیبر پختونخوا حکومت پہاڑ کاٹنے اور غیر قانونی دھندے چلانے میں مصروف ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے آخر میں کہا کہ ’’ہماری مسلح افواج چاک و چوبند ہیں اور ملک دشمن عناصر کو ناکام بنانے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ خیبر پختونخوا حکومت خیبر پختونخوا میں وزیر اطلاعات نے انہوں نے کہا کہ عطاء اللہ تارڑ وفاقی وزیر کے مطابق کیا کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔