سٹی42:  پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ نے منگل کے روز پنجاب کی اڈیالہ جیل پر خیبر پختونخوا کے ہر گاؤں سے لوگ لا کر چڑھائی کرنے کا حکم دے دیا۔

سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کے روز اڈیالہ جیل اپنی پارٹی کے بانی سے ملنے کے لئے جائیں گے، وزیراعلیٰ سہلی آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے  ہر گاؤں سے  اور ہر  یونین کونسل سے کارکنوں کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت کی جائے۔منگل کو اڈیالہ جیل کے آگے احتجاج ہو گا۔

طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے اس حکم سے ایک روز پہلے ہی پنجاب میں  جیل انتظامیہ کی درخواست پر اڈیالہ جیل والی سڑک پر حفاظتی انتظامات بہتر کرنے کے لئے  پولیس کی چار نئی پکٹ بنا دی گئی ہیں۔

میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق  خیبر پختونخوا کی حکومت کے وزیراعلی اور  اس صوبہ کی پی ٹی آئی نے منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے  وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی  نے پارٹی کارکنوں کا  ایک اجلاس کیا۔ اجلاس میں منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر  احتجاج کرنے  کے لئے صوبے کے ہر گاؤں سے کارکنوں کو اڈیالہ لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار

 سہیل آفریدی نے کہا کہ میں منگل کو بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے  اڈیالہ جیل جاؤں گا۔ سہیل آفریدی نے دھمکی دی، اگر اس دن بھی ملاقات کے لیے نہیں چھوڑا گیا۔ تو آگے کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔

سہیل آفریدینے حکم دیا کہ منگل کو  خیبر پختونخوا کے ہر ضلع، گاؤں اور یونین کونسل سے کارکنان کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت کی جائے۔

 انہوں نے کہا کہ منگل کے دن ہر پارلیمنٹیرین کی موجودگی لازم ہو گی۔ اور جو غیرحاضر رہا تو وہ ذمہ دار خود ہو گا۔

اب ہر شہری کا موبائل فون کیمرہ سیف سٹی کا کیمرہ بن سکے گا  



 
 

 
(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اگلے ہفتے منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا۔

 وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیرصدارت پارٹی کارکنان کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

 سہیل آفریدی نے کہا کہ منگل کو بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے جائیں گے۔ لیکن اگر اس دن بھی ملاقات کے لیے نہیں چھوڑا گیا۔ تو آگے کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

ریمبو سے شادی نہ کروانے پر صاحبہ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی، نشو بیگم

 انہوں نے کہا کہ منگل کو ہر ضلع، گاؤں اور یونین کونسل سے کارکنان کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت کی جائے۔

 انہوں نے کہا کہ منگل کے دن ہر پارلیمنٹیرین کی موجودگی لازم ہو گی۔ اور جو غیرحاضر رہا تو وہ ذمہ دار خود ہو گا۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کے سہیل ا فریدی نے نے کہا کہ منگل ملاقات کے لیے ہر گاؤں سے پی ٹی ا ئی کا اعلان منگل کے کے لئے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن