کن علاقوں میں صوبائی حکومت کی حکومت نہیں رہی، پاک فوج کے ترجمان نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سٹی42: پاکستان کو خیبر پختونخوا میں انتہائی پیچیدہ اور سنگین صورتحال کا سامنا ہے، اس سنگین صورتحال پر آج پاک آرمی کے ترجمان نے مزید کھل کر بتایا ہے۔
پاک آرمی کے ترجمان نے تصدیق کی کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں پولیٹیکل ٹیررکرائم گٹھ جوڑ ہے، خیبر اور تیراہ میں کوئی انتظامیہ نہیں ہے۔
پاک آرمی کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ بارڈر منیجمنٹ پر سکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں طرف منقسم گاؤں ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔
طیاروں کے سافٹ ویئر میں سنگین خرابی، عالمی پروازیں معطل
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا، پاک افغان سرحدی علاقوں میں انتہائی مضبوط "پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ" موجود ہے ، خیبر اور وادی تیراہ میں کوئی انتظامیہ نہیں ہے۔
خیبر اور تیراہ بظاہر خیبر پختونخوا کی حکومت کی عملداری مین ہیں لیکن آج پاک فوج کے ترجمان نے پبلک کے سامنے یہ تصدیق کی کہ وہاں کوئی حکومت نہیں ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینیئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو ہوئی۔
اقرار الحسن وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں؟ شاید میں سیکنڈ لیڈی بن جاؤں: فراح اقرار
اس گفتگو میں ترجمان پاک فوج نے کہاکہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے ، خیبر اور وادی تیراہ میں کوئی انتظامیہ نہیں، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بارڈر منیجمنٹ پر سکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلو میٹر پر محیط ہے جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان سرحد پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔
اب ہر شہری کا موبائل فون کیمرہ سیف سٹی کا کیمرہ بن سکے گا
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلو میٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے، پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورتحال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا میں بارڈر منیجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک ملکر کرتے ہیں، اس کے برعکس، افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، اگر افغان بارڈر سے متصل علاقے دیکھیں تو مشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے، سہولت کاری فتنہ الخوارج کرتے ہیں۔
ریمبو سے شادی نہ کروانے پر صاحبہ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی، نشو بیگم
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا اگر سرحد پار سے دہشتگردوں کی تشکیلیں، اسمگلنگ یا تجارت ہو تو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہیں تو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں کے ترجمان نے علاقوں میں پاک افغان خیبر اور پاک فوج
پڑھیں:
بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
سٹی 42: میرپور میں انٹرنیٹ کی بحالی جلد متوقع، بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر بیان دیا ۔
بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کی کوششوں اور آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی بروقت مداخلت پر شکر گزار ہوں،اطلاعات ہیں کہ میرپور میں جلد انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطے بحال کر دیے جائیں گے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
امید ہے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ بحالی کی درخواستیں جلد منظور کر لی جائیں گی، امید ہے آزاد کشمیر کے عوام کو جلد مکمل مواصلاتی سہولیات میسر آئیں گی۔