پاک افغان سرحدی علاقوں میں سیاسی و دہشت گرد عناصر کا خطرناک گٹھ جوڑ، خیبر اور تیراہ میں انتظامی خلا: آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے شدید خطرناک سیاسی اور دہشت گرد عناصر کے گٹھ جوڑ کا شکار ہیں، اور خاص طور پر خیبر اور وادی تیراہ میں انتظامیہ مکمل طور پر غیر فعال ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینیئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس دوران جنرل احمد شریف نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گرد گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں اور اکثر خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ پر گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاک افغان سرحد مشکل اور دشوار گزار راستوں پر محیط ہے۔ خیبر پختونخوا میں سرحد 1,229 کلومیٹر طویل ہے، جس میں صرف 20 کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں، اور بعض جگہوں پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک اسے مسلسل نگرانی اور فائر کور کے ساتھ تقویت نہ دی جائے۔ اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعے اور ڈرون سرویلنس لگائی جائے تو اس کے لیے بھاری وسائل درکار ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں طرف منقسم گاؤں ہیں، جس سے آمد و رفت پر کنٹرول ایک بڑا چیلنج بنتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دنیا بھر میں بارڈر مینجمنٹ دوطرفہ تعاون سے کی جاتی ہے، لیکن افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی میں افغان طالبان سہولت کاری فراہم کرتے ہیں۔ سرحد سے متصل علاقوں میں انتظامی ڈھانچے کی غیر موجودگی اور گورننس کے مسائل اس خطرے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر سرحد پار سے دہشت گرد تشکیلیں، اسمگلنگ یا غیر قانونی تجارت ہو تو اسے روکنا داخلی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس سیاسی و دہشت گرد گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، اور ان کے کنٹرول کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر گٹھ جوڑ
پڑھیں:
افغانستان کا حملہ: چین کی اپنے شہریوں کو تاجکستان کے سرحدی علاقے چھوڑنے کی ہدایت
تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت کے حالیہ واقعے کے بعد دوشنبے میں قائم چینی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر سرحدی علاقوں سے نکل جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان سرزمین سے تاجکستان میں چینی شہریوں پر حملہ، پاکستان کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار
تاجک حکام کے مطابق 26 نومبر کی شب افغانستان کی جانب سے تاجکستان کی سرحدی پٹی پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 چینی شہری مارے گئے۔
چینی سفارتخانے نے اپنی ایک اعلامیے میں بتایا کہ یہ حملہ تاجکستان کے جنوب مغربی حصے صوبہ ختلان میں بدھ کی شام پیش آیا جہاں 3 چینی شہری جان سے گئے اور ایک زخمی ہوا۔
مزید پڑھیے: افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک
صورتحال کے پیش نظر سفارتخانے نے تمام چینی باشندوں کو سرحدی خطے سے دور رہنے اور فوری انخلا کی ہدایت کی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چین نے تاجک حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ، نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی، مشتبہ افغان حملہ آور گرفتار
سفارتخانے نے اپنے بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ حملے کے پیچھے کون سی قوت یا گروہ ملوث ہو سکتا ہے جبکہ افغان طالبان رجیم نے بھی ابھی تک اس واقعے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان افغانستان کا تاجکستان پر حملہ تاجکستان چین