اسرائیل نے ظلم و جبر کی نئی تاریخ رقم کردی؛ لکڑیاں جمع کرتے معصوم بچوں پر میزائل چلادیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں دونوں بھائی 11 سالہ جمعہ اور 8 سالہ فادی شہید ہوگئے جو اپنے زخمی باپ کی مدد کرنے گھر سے نکلے تھے۔
عالمی خبر رساں ادرے کے مطابق جنوبی غزہ کے یہ دونوں بچے اپنے باپ کے شدید زخمی ہونے پر گھر کے استعمال کی لکڑیاں جمع کرنے باہر نکلے تھے اور پھر زندہ لوٹ کر نہ آسکے۔
معصوم بچوں کے خاندان نے بتایا کہ جمعہ اور فادی اپنے زخمی والد کو سردی سے بچانے کے لیے آگ جلانا چاہتے تھے جس کے لیے لکڑیاں درکار تھیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ خان یونس کے علاقے بنی سہیلہ میں دو مشکوک افراد کو یلو لائن عبور کرتے دیکھا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں زمین پر مشکوک سرگرمی میں ملوث دکھائی دیے جو وہ فوجی اہلکاروں کے قریب اس انداز میں آرہے تھے جو فوری خطرہ بن سکتے تھے۔
اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ خطرہ محسوس ہونے پر فضا میں موجود نگرانی فضائیہ نے دونوں کو خطرہ دور کرنے کے لیے نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے شہریوں کو وارننگ دی ہے کہ وہ اب بھی غزہ میں موجود اسرائیلی پوزیشنوں کے قریب نہ آئیں۔
فوج نے یلو لائن کے ساتھ ساتھ فزیکل مارکر بھی نصب کرنا شروع کیے ہیں اور اس کے لیے ایک آن لائن نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
تاہم ضعیف، خواتین اور بچے ان یلو لائنز اور مارکر کو پہچان نہیں پاتے۔ اس لیے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ہی اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے ہاتھ اُٹھا کر عمارت سے باہر آنے والے 2 فلسطینیوں نوجوانوں کو تلاشی کے باوجود گولیوں سے بھون دیا تھا۔
جس پر عالمی سطح شدید تنقید کی گئی تھی اور اسرائیلی حکومت نے انکوائری بھی بٹھائی ہے لیکن آج پھر ایسا جنگی جرم دہرایا جس سے انسانیت شرما گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔