مزاحمت لبنان کی سرزمین پر موجود ہے
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اسرائیل نے حزب اللہ کے چیف آٖف سٹاف ہیثم علی طباطبائی کو شہید کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل علامہ نعیم قاسم نے اسے ایک کھلی جارحیت اور ایک بھیانک جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کو جواب دینے کا حق ہے اور ہم اسکے لیے وقت کا تعین کریں گے۔ انہوں نے کہا: کیا آپ جنگ کی توقع کرتے ہیں؟ ہاں، اسکا امکان موجود ہے اور جنگ نہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ شیخ نعیم قاسم نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پوپ لیو کا لبنان کا آنیوالا دورہ امن لانے اور (اسرائیلی) جارحیت کے خاتمے میں کردار ادا کریگا۔ شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ نے نومبر 2024ء کی اس جنگ بندی کی پابندی کی ہے، جسکا مقصد اسرائیل کے ساتھ ایک سال سے زائد عرصے تک جاری لڑائی کو ختم کرنا تھا اور انہوں نے لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
مزاحمت اور مزاحمتی قوتوں کو سمجھنا بڑا مشکل کام ہے۔ عام طور پر تجزیہ نگار مزاحمتی قوتوں کو فوجی انداز میں اپنے تجزیوں کا حصہ بناتے ہیں۔ یہیں سے ان کے تجزیئے اور مستقبل کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوتی ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شام کا سقوط ہوچکا تھا، ہر طرف یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ اب مزاحمت کا راستہ کٹ گیا ہے اور اب مزاحمت کا مستقبل داو پر لگ چکا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک عہدیدار کے بیان نے اس وقت مایوسی کو امید میں بدل دیا تھا کہ مزاحمت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے راستے ختم کیے جا سکتے ہیں۔ مزاحمت کا ایک آسان راستہ بند ہوا ہے، یہ بات بالکل درست ہے، مگر سارے راستے بند ہوگئے ہیں۔؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ مزاحمت کے راستے کھلے رہتے ہیں اور ہمیشہ کوئی نیا ذریعہ مزاحمت کو پہلے سے زیادہ طاقتور بنا دیتا ہے۔ قابض قوتیں مزاحمتی قوتوں کو بھی اپنی طرح کی کوئی فورسز سمجھتے ہیں، جو تنخواہ پر کام کرتی ہے۔
مزاحمت وقتی طور پر حالات کے مطابق پیچھے ہٹ سکتی ہے، حالات میں کچھ وقت کے لیے مکمل خاموشی بھی ہوسکتی ہے۔ یہ سب مزاحمت کا حصہ ہوتا ہے کہ شدید دباو میں کیسے سروائیو کرنا ہے۔؟ دشمن جسے ناکامی اور اختتام سمجھ رہا ہوتا ہے، دراصل وہ تحریک آزادی کے لیے بڑی تیاری کا وقت ہوتا ہے۔ اسی لیے جب جب دشمن نے اپنی طرف سے مزاحمت کو کہیں بھی کمزور سمجھا، اسے جلد ہی اپنی ناکامی کا احساس ہوا۔ اسرائیلی عوامی نشریاتی ادارے KAN کی رپورٹ ملاحظہ کریں: اسرائیل لبنان میں فوجی کارروائی کو وسعت دینے پر غور کر رہا ہے، جس کی وجہ لبنانی گروپ حزب اللہ کی اپنی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی مبینہ کوششیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو لبنان میں ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کے لیے ایک مختصر سکیورٹی اجلاس منعقد کیا، جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ اپنی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک نامعلوم سینیئر اسرائیلی عہدیدار نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ "حزب اللہ نے جزوی طور پر اپنی فوجی ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ نے "حالیہ مہینوں میں شام سے لبنان میں سینکڑوں قلیل فاصلے کے راکٹ اسمگل کیے ہیں" اور اپنی قیادت کے ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ قارئین کرام، یہ بتاتا ہے کہ راستے موجود ہوتے ہیں، بس وہی بات کہ آسان راستے بند ہوتے ہیں، ذرا مشکل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ اب خود اسرائیلی کہہ رہے ہیں کہ شام کے ذریعے سپلائی جاری ہے اور حزب اللہ خود کو دوبارہ کھڑا کر رہی ہے۔ آپ لبنانی ریاست کو دباو میں لا کر کیے گئے فیصلوں کو دیکھیں، آپ کو لگے گا کہ جیسے مزاحمت اب مکمل طور پر ختم ہوگئی، اس فیصلے کے بعد تو مزاحمت کے لیے کوئی راستہ ہی نہیں بچتا۔
بہت بار تو ایسا لگا کہ اب یا خانہ جنگی شروع ہوگی یا حزب اللہ اور فوج کی جنگ شروع ہو جائے گی۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور آج دشمن بے نقاب ہوچکا ہے۔ لبنان کی حکومت بھی چیخ چیخ کر دنیا کو مدد کے لیے پکار رہی ہے کہ معاہدہ کروایا تھا، اب اس پر عمل بھی کراو۔ معاہدہ بھی بڑا دل دلچسپ تھا، اس میں دو چیزیں شامل تھیں: امریکی اور فرانسیسی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کے تحت حزب اللہ نے دریائے لیطانی کے جنوب (سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور) سے اپنی عسکری موجودگی ختم کرنی تھی اور اس علاقے میں اسلحہ رکھنے کا حق صرف سرکاری اداروں کو حاصل ہونا تھا۔ اسی معاہدے میں اسرائیل کو ان علاقوں سے انخلا کرنا تھا، جہاں وہ آخری جنگ کے دوران آگے بڑھایا تھا، تاہم اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان کی پانچ اسٹریٹیجک پہاڑی چوکیوں پر قابض ہے۔
معاہدہ کروانے والوں نے اپنے زعم میں حزب اللہ کو باندھ لیا تھا، مگر آج حالات بدل رہے ہیں۔ مزاحمت دوبارہ یکجا ہو رہی ہے اور اسرائیلی پروپیگنڈا ناکام ہو رہا ہے۔ عام لبنانی یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کیوں قابض ہے۔؟ لبنان کی رائے عامہ مزاحمت کو ہی اپنی محافظ قرار دے رہی ہے۔ یہ بات کسی بھی مزاحمت کے لیے آئیڈیل ہوتی ہے کہ وہاں کی عوام مزاحمت کے ساتھ کھڑی ہو۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اب اسرائیل براہ راست حملے کرنے لگا ہے اور اس نے حزب اللہ کے چیف آٖف سٹاف ہیثم علی طباطبائی کو شہید کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل علامہ نعیم قاسم نے اسے ایک کھلی جارحیت اور ایک بھیانک جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کو جواب دینے کا حق ہے اور ہم اس کے لیے وقت کا تعین کریں گے۔
انہوں نے کہا: کیا آپ جنگ کی توقع کرتے ہیں؟ ہاں، اس کا امکان موجود ہے اور جنگ نہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ شیخ قاسم نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پوپ لیو کا لبنان کا آنے والا دورہ امن لانے اور (اسرائیلی) جارحیت کے خاتمے میں کردار ادا کرے گا۔ شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ نے نومبر 2024ء کی اس جنگ بندی کی پابندی کی ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ ایک سال سے زائد عرصے تک جاری لڑائی کو ختم کرنا تھا اور انہوں نے لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ آپ شیخ نعیم قاسم کے بیان کو دیکھیں، اس میں دشمن کے لیے پیغام بھی ہے اور اپنے لوگوں کے لیے امید بھی ہے۔ دشمن کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرے اور ہم جنگ چاہتے ہیں یا امن چاہتے ہیں۔؟ اس کا فیصلہ بھی ہم خود کریں گے۔ مزاحمت لبنان کی ہے، لبنان کے لیے ہے اور لبنان میں موجود ہے۔ مزاحمت خطے کے فرزندوں کی آزادی کا کارواں ہے، جو قابض قوتوں کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حزب اللہ کے حزب اللہ نے کہ حزب اللہ مزاحمت کے مزاحمت کا مزاحمت کو کو دوبارہ لبنان کی کا امکان انہوں نے موجود ہے کرتے ہیں کے خاتمے اور ہم رہی ہے کے لیے ہے اور ہیں کہ کہا کہ
پڑھیں:
روزانہ سلاد کھانے کے صحت بخش فوائد
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سلاد کو دنیا بھر میں صحت مند غذا کے طور پر خصوصی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ تازہ سبزیوں سے بھرپور ہوتی ہے اور جسم کو متعدد غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق سلاد میں شامل سبزیاں وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے مالا مال ہوتی ہیں، جبکہ اس میں چکنائی اور کولیسٹرول بالکل نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے یہ وزن بڑھانے کا سبب نہیں بنتی۔
سلاد میں ٹماٹر ایک اہم جزو شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں موجود پوٹاشیم بلند فشار خون کے شکار افراد کے لیے خاص فائدہ مند ہے۔
اسی طرح گاجر بھی سلاد کا لازمی حصہ ہونی چاہیے کیونکہ یہ خون میں کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے اور بیٹا کیروٹین اور اینٹی آکسیڈنٹس کی موجودگی کی وجہ سے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ گاجر کے دیگر فوائد میں اسہال کے علاج اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد بھی شامل ہے۔
ماہرین غذائیت مشورہ دیتے ہیں کہ سبزیوں کو بڑے ٹکڑوں میں کاٹا جائے تاکہ ان میں موجود وٹامنز محفوظ رہیں۔ اس کے ساتھ چند قطرے لیموں شامل کرنے سے وٹامن سی کے فوائد بڑھ جاتے ہیں، جبکہ ایک چمچ مکئی کا تیل سلاد میں موجود وٹامنز کے جذب ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس طرح سلاد نہ صرف ذائقے میں لذیذ بنتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی ایک مکمل غذائی پلیٹ ثابت ہوتا ہے۔