اسرائیل سے اپنے شہید کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت کا بدلہ لیں گے؛ سربراہ حزب اللہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اپنے شہید کمانڈر کا بدلہ لینے کی بھرپور تیاری کر رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے سینیئر کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت پر انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بہادر سپاہی قرار دیا۔
نعیم قاسم نے کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت پر اسرائیل سے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل تیار ہے، انھیں جلد ایک مؤثر اور نہایت نقصان دہ انتقام کا سامنا کرنے پڑے گا۔
حزب اللہ کے سربراہ نے لبنان کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا اسرائیل کو جارحیت سے روکے اور قومی سلامتی پر آنچ نہ آنے دے۔
نعیم قاسم نے کہا کہ دنیا کے سینے پر سب سے ناجائز ریاست اسرائیل نے قبضے اور تسلط کو اپنا حق سمجھ لیا ہے اور اس کی غلط فہمی ہم دور کریں گے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی حملے میں حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کو شہید کردیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی طباطبائی حزب اللہ کے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔