حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اپنے شہید کمانڈر کا بدلہ لینے کی بھرپور تیاری کر رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے سینیئر کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت پر انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بہادر سپاہی قرار دیا۔

نعیم قاسم نے کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت پر اسرائیل سے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل تیار ہے، انھیں جلد ایک مؤثر اور نہایت نقصان دہ انتقام کا سامنا کرنے پڑے گا۔

حزب اللہ کے سربراہ نے لبنان کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا اسرائیل کو جارحیت سے روکے اور قومی سلامتی پر آنچ نہ آنے دے۔

نعیم قاسم نے کہا کہ دنیا کے سینے پر سب سے ناجائز ریاست اسرائیل نے قبضے اور تسلط کو اپنا حق سمجھ لیا ہے اور اس کی غلط فہمی ہم دور کریں گے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی حملے میں حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کو شہید کردیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: علی طباطبائی حزب اللہ کے

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری

افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

طالبان رجیم کے خلاف بغاوت   کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے  حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا  ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔

عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔  طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ