امریکی شہری کو فیس بک پر ’اجنبی کا پیغام‘ 2 لاکھ 80 ہزار ڈالر میں پڑا
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
نیویارک (ویب ڈیسک) مالی فراڈ کے وقت نوواک ٹیلی مارکیٹنگ کمپنی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نائب صدر کے عہدے سے فارغ ہوئے تھے۔ —سی این این کی رپورٹ کے مطابق جو نوواک کا ’فیس بک میسنجر‘ پچھلے سال ایک اجنبی کے دوستانہ پیغام کے ساتھ بجا تھا، اسے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک ایسا سلسلہ کی شروعات ہے جو بالآخر اس کی زندگی برباد کر دے گا۔یہ اکتوبر 2024 کی بات ہے، نوواک نے اپنے بیٹے کے لیے محفوظ فاسٹ فوڈ آپشنز کی کمی کے بارے میں ایک عوامی پوسٹ شیئر کی تھی، جو سیلیک بیماری کا شکار ہے، اس پوسٹ کو چند دوستوں کی جانب سے لائک اور تبصرے ملے۔
اس کی پوسٹ کے جواب میں اس کے ان باکس میں ایک پیغام آیا۔پیغام میں لکھا تھا کہ ’میں آپ کو نہیں جانتی، آپ میرے فیس بک پر تجویز شدہ دوست ہیں، اس لیے میں نے آپ کو ایڈ کیا، امید ہے کہ یہ آپ کو پریشان نہیں کرے گا۔پیغام میں مزید لکھا گیا کہ ’مجھے آپ کے بیٹے کے بارے میں آپ کی پوسٹ بہت دل کو چھو لینے والی لگی، شاید ہم رابطہ کر سکتے ہیں؟‘پیغامات معمولی لگ رہے تھے، بھیجنے والے کی پروفائل پر ایک دبلی پتلی سنہری بالوں والی خاتون ایلس ڈینر کے نام سے دکھائی دیتی تھی، اس نے خود کو میڈیسن ایونیو کی ایک فیشن ڈیزائنر بتایا، نیو یارک سٹی کے لگژری شاپنگ ڈسٹرکٹ کے مرکز میں کام کرتی ہے۔
دونوں نے پیغامات کا تبادلہ شروع کیا، اور اس کی تجویز پر یہ بات چیت فیس بک میسنجر سے واٹس ایپ پر منتقل ہو گئی، جہاں آہستہ آہستہ باتیں زیادہ ذاتی ہو گئیں۔
نوواک اس وقت ایک ٹیلی مارکیٹنگ کمپنی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نائب صدر کے طور پر اپنے کام سے محروم ہو چکے تھے، طلاق اور اپنے دو بچوں کی تحویل کے معاملے میں الجھے ہوئے تھے۔
اس خاتون نے انہیں اپنی فیشن ڈیزائننگ کی زندگی کے بارے میں بتایا، جو 2 براعظموں میں چلتی تھی، اس نے کہا کہ وہ بھی طلاق یافتہ ہے، اس نے ایک حمل ضائع ہونے کے بعد بچے کو کھونے کا ذکر کیا اور نوواک کے اپنے بچوں کے لیے لگاؤ کی تعریف کی۔
فروری تک، دونوں نے ایک دوسرے سے محبت کا اعلان کر دیا، لیکن جو چیز ایک تیز رفتار رومانس لگ رہی تھی، وہ اب ایک جعلی کرپٹو سرمایہ کاری میں نوواک کو پھنسانے کی منصوبہ بندی لگتی ہے۔
اپریل تک اس نے تقریباً اپنی پوری زندگی کی بچت یعنی 2 لاکھ 80 ہزار ڈالر اس سرمایہ کاری سائٹ پر منتقل کر دی جو ایلس ڈینر نے تجویز کی تھی، اور جلد ہی وہ عورت اپنی فیس بک پروفائل کے ساتھ غائب ہوگئی۔
نیو جرسی کے والنگٹن علاقے کے رہائشی 52 سالہ جو نوواک کہتے ہیں کہ ’میں نے سب کچھ کھو دیا، میں نے اپنے بچوں کا مستقبل کھو دیا، میں ہر دن روتا رہا، آپ اپنی 78 سالہ ماں کو کیسے بتاتے ہیں جو طبی مسائل کا شکار ہے کہ سب کچھ ختم ہو گیا؟
وہ دولت مند طرز زندگی دکھاتی رہی
نوواک کے تجربے میں ایک بڑھتی ہوئی آن لائن دھوکا دہی شامل ہے، جسے ’پِگ بچرنگ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اور حکام کے مطابق اس نے امریکی متاثرین سے جعلی کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کے ذریعے اربوں ڈالر نکالے ہیں۔
یہ اکثر آن لائن پیغامات سے شروع ہوتا ہے، جس میں فراڈ کرنے والا رومانوی دلچسپی کا بہانہ کرتا ہے تاکہ اعتماد اور تعلق قائم کیا جا سکے۔
جیسے جیسے رشتہ بڑھتا ہے، دھوکا باز کرپٹو میں سرمایہ کاری کا خیال پیش کرتا ہے، دولت اور مالی کامیابی کی تصاویر دکھاتا ہے تاکہ یہ قابلِ حصول لگے۔
ماہرین نے اسے ’سور کو ذبح کرنے سے پہلے موٹا کرنا‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔
ایلس نے ایک پُرتعیش طرز زندگی کی تصاویر دکھائیں، جن میں ریڈ فراریز، شاندار چھٹیاں اور فیشن شوز کی فرنٹ راؤ سیٹیں شامل تھیں۔
اس نے نوواک کو واٹس ایپ پر اپنی آواز کے نوٹس بھیجے، تاکہ وہ اس کا نام صحیح طور پر ادا کریں، اور ایک فلَفی چاکلیٹ گولڈن ڈوڈل، لکی، کی ویڈیوز شیئر کیں۔
بعض اوقات ویڈیوز میں نیو یارک پر برفباری یا شہر کی ہلچل میں اس کے قدموں کی آواز دکھائی دیتی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ محتاط طریقے سے تیار کی گئی تفصیلات اور تصویریں اعتماد قائم کرنے کا حصہ تھیں۔
نوواک، جو نیو یارک شہر سے تقریباً 20 میل دور رہتے ہیں، جانتے تھے کہ علاقے میں برفباری کب ہو رہی ہے، جس سے اس کی کہانی زیادہ قابلِ یقین لگتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ پیسے کے بارے میں بات کرتی تھی، اس نے مجھے یہ پرتعیش کاروں کی تصاویر بھیجیں، اور اس کی ایک پرتعیش طرز زندگی تھی، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، 50 سال کی عمر میں، میں بس کسی سے جڑنا چاہتا تھا۔ مجھے اس کی دولت کی پروا نہیں تھی۔
ایلس سوائے ایک محتاط طور پر ترتیب دی گئی ویڈیو کال کے، فون یا فیس ٹائم پر بات کرنے سے گریز کرتی رہی، اور زیادہ تر صرف ٹیکسٹ یا وائس نوٹس کے ذریعے بات کرتی رہی، اس نے نوواک سے نیو یارک میں ملاقات کے مبہم وعدے کیے، لیکن جب بھی وہ قریب پہنچتے، ملاقات کی تصدیق سے بچ جاتی۔
جو نوواک کہتے ہیں کہ ’اب جب کہ میں آخرکار اس بارے میں بات کر سکتا ہوں، میں اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید محسوس کرتا ہوں، میں شاید کسی اور کی مدد کر سکوں، میں سوچ سکتا ہوں کہ کتنے لوگ میری ہی پوزیشن میں بیٹھے ہوں گے، وہی خیالات سوچتے ہوئے جو میں نے سوچے، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ بے بس ہیں۔
جو نوواک ایک جریدہ (جرنل) بھی ترتیب دے رہے ہیں، تاکہ یہ سب سمجھنے میں مدد ملے، اور امید ہے کہ ایک دن اس کے بچے اسے پڑھیں گے اور اس انسان کو بہتر سمجھیں گے جو وہ تھا، پھر بھی بعض اوقات ایسے لمحے آتے ہیں جب وہ ’ایلس‘ کے پیغامات ذہن میں دہراتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچ گیا۔
انہوں نے کہاکہ یہ سب جعلی کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ ایک ویڈیو کال کو کیسے جعلی بناتے ہیں؟ برفباری کو کیسے جعلی بناتے ہیں؟ ایک کتے کو کیسے جعلی بناتے ہیں؟
’ایلس‘ فیس بک پر ایک نئی پروفائل اور نئے خاندانی نام کے ساتھ دوبارہ سامنے آئی ہے، لیکن ریڈ فراریز، نیویارک سٹی کے اسکی لائنز اور لکی نامی کتے کی تصاویر زیادہ تر وہی ہیں۔
اس ماہ کے اوائل میں، جب ’سی این این‘ نے رابطہ کیا، تو اس شخص نے جولائی کے بعد پہلی بار واٹس ایپ پر جو نوواک سے رابطہ کیا اور اسے چڑانے والے پیغامات کی ایک سیریز بھیجی، لیکن اس بار جو نوواک کا جواب مختلف تھا۔
نوواک نے جواب دیا کہ ’میں ہر روز دعا کرتا ہوں کہ تم جہنم میں اپنی خاص جگہ پاؤ، جہاں تم نقصان اٹھاؤ، روشنی ہمیشہ تاریکی پر غالب آتی ہے، تم نے اپنا راستہ خود چنا، ایک دن تمہیں اس کا جواب دینا ہوگا، میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ٹی آئی والے مجھے کیڑوں مکوڑوں سے تشبیہ دیتے تھے، بابر نواز
مسلم لیگ ن کے ٹکت پر ہری پور سے ضمنی انتخاب میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے بابر نواز(فائل فوٹو)۔ضمنی انتخابات میں عمر ایوب کی اہلیہ کو شکست دینے والے بابر نواز نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے مجھے کیڑوں مکوڑوں سے تشبیہ دیتے اور میری جسامت پر بات کرتے تھے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بابر نواز نے کہا کہ عوام کیلئے دن رات محنت کروں گا، عوام کی سوچ کو لے کر آگے چلوں گا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ میں اپنے علاقے کی تعمیر وترقی کیلیے بھرپور کردار ادا کروں گا۔
بابر نواز خان نے کہا کہ میرے ہجرے کا دروازہ نہیں ہے، اس لیے کہ کسی کو کھٹکھٹانا نہیں پڑے۔
حالیہ ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے بابر نواز سے ہری پور کے حلقہ این اے 18 سے ایک لاکھ 63 ہزار 817 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔
آزاد امید وار شہرناز عمر ایوب نے ایک لاکھ 20 ہزار 395 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ نے7 ہزار 38 ووٹ حاصل کیے تھے۔