پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ نواز شریف کی پارٹی کو اقتدار میں لانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔

 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اپنے بیان میں رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کا مطالبہ اچھا ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے، پھر میاں نواز شریف کا بھی احتساب ہونا چاہیے کہ اِنہیں اور ان کی پارٹی کو اقتدار میں کون لایا تھا۔

واضح رہے کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا تھا کہ جنرل فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کا بھی احتساب ہوگا۔

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا جیل ٹرائل منسوخ

اس پر وزیرِ مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے ردِ عمل میں کہا کہ 2011ء سے لے کر 2018ء تک جن کرداروں نے تحریکِ انصاف کو پروموٹ کیا ان کا احتساب ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ نو منتخب ارکانِ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اکیلے مجرم نہیں، اِنہیں لانے والے بھی برابر کے شریک ہیں، اِن کا بھی حساب ہونا چاہیے، دوسروں کو چور اور ڈاکو کہنے والے خود چور ثابت ہوئے۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کا احتساب ہونا چاہیے کو اقتدار میں نواز شریف

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف