عمران خان اکیلا مجرم نہیں اسے لانے والے بھی قصور وار ہیں، نواز شریف
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ق) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ کا کہا گیا، یہ کیسا بائیکاٹ تھا جس میں عمر ایوب کی بیگم الیکشن لڑرہی تھی۔
نومنتخب ارکان اسمبلی سے خطاب میں انہوں ںے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں صرف تباہی آئی، بدتمیزی کا کلچر عام کیا گیا اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا، پی ٹی آئی اپنے دور میں مہنگائی بڑھا کر 39 فیصد پر لے آئی جب کہ ہمارے دور میں مہنگائی صرف تین فیصد پر تھی، اگر ترقی کا سفر جاری رہتا تو پاکستان کا دنیا میں آج ایک مقام ہوتا اور آئی ایم ایف کی فکر نہیں ہوتی۔
معیشت مستحکم ہوگئی ،ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے:وزیر خزانہ
انہوں نے کہا کہ 2018ء سے 2022ء کے دوران جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار پی ٹی آئی والے ہیں، نفرت، جھوٹ، فساد فتنہ کی سیاسی پی ٹی آٗئی نے متعارف کرائی ایسے حالات میں بھلا ملک کیسے ترقی کرسکتا تھا؟ گزشتہ دور حکومت میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں، بانی پی ٹی آئی صرف اکیلا مجرم نہیں بلکہ اسے لانے والے بھی مجرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ کا کہا گیا، یہ کیسا بائیکاٹ تھا جس میں عمر ایوب کی بیگم الیکشن لڑرہی تھی، عوام نے ضمنی انتخابات میں جھوٹ اور نفرت کی سیاست کو مسترد کردیا، ارکان اسمبلی کو مبارک باد دیتا ہوں کہ جھوٹ، گالم گلوچ بدتمیزی اور فتنہ کی سیاست کو شکست ہوئی۔
حسینہ واجد کے بینک لاکرز سے کتنا کلو گرام سونا ضبط کر لیا گیا۔۔؟ جان کر آپ کے ہوش ٹھکانے آ جائیں
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج میرٹ پر کام ہورہا ہے، ترقیاتی کام ہورہے ہیں، لیپ ٹاپ مل رہے ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں، گرین بسیں چل رہی ہیں، امن و امان کی حالت بہتر ہوگئی، مذاہب کی تفریق کے بغیر راشن کارڈ مل رہے ہیں اور مزید منصوبے ابھی سامنے آئیں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔