data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت ہری پور کے ضمنی انتخاب میں مبینہ طور پر ’’مینجڈ‘‘ مگر غیر متوقع شکست پر پریشان ہے۔ یہ وہ حلقہ ہے جہاں خیبر پختونخوا میں پارٹی کی اپنی حکومت قائم ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اس نتیجے نے اعلیٰ قیادت میں سنجیدہ غور و فکر شروع کروا دیا ہے اور یہ بحث جاری ہے کہ کیا طویل عرصے کی محاذ آرائی کی سیاست نے پارٹی کے لئے سیاسی میدان محدود کر دیا ہے، یہاں تک کہ اپنے مضبوط گڑھ خیبر پختونخوا میں بھی سپورٹ کم ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق قیادت اب مذاکرات کی سیاست کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ سینئر رہنما ہری پور میں شکست کے اسباب کا جائزہ لے رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سیاسی میدان سکڑتا جا رہا ہے، حالانکہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت موجود ہے۔

یہ نشست سابق قائدِ حزب اختلاف عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔ ان کی اہلیہ امیدوار تھیں۔ اس شکست کو پارٹی کے اندر ایک وارننگ قرار دیا جا رہا ہے کہ موجودہ طرزِ سیاست شاید مزید کارآمد نہ رہے۔

ذرائع کے مطابق ضمنی انتخاب کے فوراً بعد پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان عمر ایوب خان سے ان کی رہائشگاہ پر ملے جہاں دونوں رہنماؤں نے صورتحال پر مفصل گفتگو کی۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق انہوں نے گزشتہ چند برس کی سیاسی حکمت عملی کے فائدے اور نقصانات کا جائزہ لیا۔

پارٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے نئی سیاست کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا، اسی جائزے کا نتیجہ ہیں اور اعلیٰ قیادت کی موجودہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

مزید ذرائع کے مطابق ’’مقتدر حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کی مکمل قبولیت نہ ہونے‘‘ کا احساس بھی قیادت کو محاذ آرائی سے ہٹ کر بات چیت کی طرف مائل کر رہا ہے۔

بیرسٹر گوہر کو طویل عرصے سے پارٹی کی معتدل آواز سمجھا جاتا ہے اور وہ محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور سیاسی عمل پر زور دیتے رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی سمیت کچھ دیگر رہنماؤں نے بھی ماضی میں مذاکرات کی تجویز دی تھی لیکن پارٹی کے اندر موجود سخت مؤقف رکھنے والے گروہ نے اس کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہری پور کی شکست کے بعد پی ٹی آئی میں معتدل سوچ کو تقویت ملی ہے اور زیادہ رہنما سمجھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ مذاکرات ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان ہی کریں گے جو اب تک زیادہ تر محاذ آرائی کے حامیوں کی رائے سنتے آئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی کے

پڑھیں:

لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا

لاہور:   بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر