Islam Times:
2025-11-30@15:11:34 GMT

موضوع: کیا اسرائیل جنگ بڑھانا چاہتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: کیا اسرائیل جنگ بڑھانا چاہتا ہے؟
مہمان تجزیہ نگار:  سید کاشف علی
میزبان: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
موضوعات و سوالات
لبنان اور فلسطین میں ہزاروں بار سیز فائر کی خلاف ورزی ؟ کیا اسرائیل جنگ بڑھانا چاہتا ہے؟
ڈاکٹر علی لاریجانی کا پاکستان کا اہم دورہ، کیا سعودیہ پاکستان ایران دفاعی معاہدہ خطہ کیلئے فائدہ مند ہے؟
جمعہ کے روز شیخ نعیم قاسم کا خطاب ہوا ہے، اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
سعودیہ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ جنگ کی وجہ سے عمومی رائے عامہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے لہذا فی الحال اسرائیل کے تعلقات پر بات نہیں ہو سکتی، آپ کا تجزیہ؟
خلاصہ گفتگو  و اہم نکات:
لبنان اور فلسطین میں گزشتہ ایک برس سے ا س رائ ی ل مسسلسل جارحیت کا ارتکاب کرتا آرہا ہے
ٹرمپ کے نام نہاد امن منصوبے کے باوجود یہ جارحیت جاری ہے
صیہونی حکومت نے گزشتہ ایک برس میں پانچ ہزار بار خلاف ورزیوں مین ڈیڑھ سو سے زائد لبنانی مسلمان شہید کئے ہیں
جب کہ ح ز ب   ایک ذمہ دار تنظیم کی طرح معاہدے کی مکمل پابندی کررہا ہے
ہوتا یہ ہے کہ جب اس ر ائ یل کو جنگی شکست ہوتی ہے تو امریکہ سفارتی انداز میں  اس کو بچانے کی کوشش کرتا ہے
حالیہ جنگ بندی بھی یک طرفہ ہے، اور صیہونی حکومت اس جنگ کو بڑھانا چاہتی ہے
صیہونی حکومت ابھی بھی توسیع پسندانہ عزائم رکھے ہوئے ہے
صیہونی حکومت لبنان میں بھی کشیدگی بڑھا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش میں ہے
صیہونی حکومت حکومت ایک ایسی یک طرفہ جنگ بندی چاہتی ہے جس میں اسے کھلی چھوٹ ملے
صیہونی حکومت کے غزہ میں ظلم و ستم کی بنا پہ مسل دنیا اور عرب دنیا کے عوام  ا س رائ ل سے شدید نفرت کرتے ہیں
ابراہیم اکارڈ کسی بھی صورت میں غیو رعرب عوام کے لئے قابل قبول نہ ہوگا
سعودی عرب  ابھی بھی دو  ریاست حل کی بات کرتا ہے ، ابراہیم اکارڈ پہ سنجیدہ نہیں
لبنان میں ح ز ب اللہ بھی سیاسی انداز میں جدو جہد میں پھر اپنے قدم جمانے میں مصروف ہے
ح ز ب  اسی لئے سب معاہدوں کی پابندی کررہی ہے
گزشتہ ایک برس  سے ح  ز ب  نےن کوئی جنگی کاروائی نہیں کی، مگر   صیہونی حکومت مسلسل جارحیت کررہی ہے
ح ز ب  اللہ گزشتہ ایک برس سے صبر کا مظاہرہ کررہی ہے، لبنانی عوام میں اس کی پذیرائی ہوئی ہے
خطے کی موجودہ صورت حال میں ایران و پاکستان بھی ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم بن چکے ہیں
علی لاریجانی کا موجودہ  دورہ پاک ایران تعلقات اور خطے کی بدلتی صورت حال میں بہت اہم ہے
پاکستان ایران و چین تعلقات میں بہت اہم کردار اداکرسکتا ہے
خصوصا ایران چین سے اسلحے کے حصول کے حوالے سے پاکستا ن کے کردار کو بہت اہم سمجھتا ہے
اسی طرح پاک ایران سرحد پہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے ایران پاکستان کے ساتھ مل کر کرنا چاہتا ہے
رہبر معظم کا پاکستان کے لئے  نیک خواہشات اور دعاؤں کا پیغام پاکستان کے لئے خیرسگالی کے جذبے کا اظہار ہے
 

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہے صیہونی حکومت گزشتہ ایک برس چاہتا ہے کے لئے

پڑھیں:

دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش

اسلام ٹائمز: شریعتمداری نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت ایران کو "نہ جنگ اور نہ امن" کی حالت میں رکھنے کیلئے ایک چال چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: مثال کے طور پر وہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر امریکی اور یورپی ہتھیاروں کی آمد کو مسلسل دکھاتے ہیں۔ یہ ہتھیار پہلے بھی آتے تھے، لیکن انکی نمائش نہیں کی جاتی تھی۔ اب وہ ایسا دکھاوا کرتے ہیں، جیسے وہ تیاری کر رہے ہوں۔ ہم اس طرف سے تیار ہیں، لیکن ان ڈسپلے کی قیمت ان کیلئے ہے۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیئے، لیکن صیہونی حکومت اور خود امریکہ کو بہت سخت ضربیں لگیں۔ کیا اس سے پہلے کسی نے امریکہ پر حملہ کرنے کی جرات کی، ہم نے عین الاسد اور العدید کو نشانہ بنایا۔ تحریر: مھدی طلوع وند

معروف ایرانی اخبار کیہان کے چیف ایڈیٹر حسین شریعتمداری نے گذشتہ رات (جمعرات 26 دسمبر) سما نیوز نیٹ ورک کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ایران میں امریکی حملے کی ناکامی اور امریکی حملے کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ 90 ملین سے زیادہ ایرانی واضح طور پر جانتے ہیں کہ اسرائیل کو شکست ہوئی، لیکن اندر اور باہر کچھ آوازیں کہتی ہیں کہ ایران ناکام ہوگیا ہے۔ ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل یا دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔ جناب شریعت مداری نے صیہونی حکومت کے رویئے کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ یہ حکومت کسی بھی بین الاقوامی ریڈ لائن پر عمل نہیں کرتی اور جنگ کے دوران جب بھی جنگ بندی قائم ہوئی تو اس نے بغیر کسی وضاحت کے فوراً اس کی خلاف ورزی کی۔

تاہم مسلط کردہ 12 روزہ جنگ میں یہ حکومت انتہائی مشکل حالات کی وجہ سے جنگ بندی کو توڑنے میں ناکام رہی۔ یہ جنگ ہمارے لیے مواقع کا ایک دھماکہ تھا اور ایک معتبر میڈیا رپورٹ میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ شریعتمداری نے تاکید کی ہے کہ صیہونی تجزیہ نگاروں اور معتبر اخبارات نے لکھا ہے کہ ان کی دفاعی تہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ بی بی سی کے رپورٹر نے بھی اسرائیلی عوام کی مایوسی اور نامرادی کو ان کے چہروں پر دیکھا اور کہا کہ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ ایران کے حملے اتنے وسیع ہوں گے۔

اس افواہ کے بارے میں کہ ایران نے امریکہ کو پیغام دیا ہے، شریعتمداری نے کہا ہے  یہ افواہ سراسر جھوٹ ہے۔ چار اہم حکومتی مراکز کی سرکاری تردید کے باوجود کچھ میڈیا اداروں اور حتیٰ کہ حکومت کے اندر حساس عہدوں پر فائز افراد نے یہ جھوٹ پھیلایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہ کہانی صدر مسعود پزشکیان کے بن سلمان کو لکھے گئے خط سے شروع ہوئی، جسے رائٹرز نے شائع کیا اور وزارت خارجہ، حج آرگنائزیشن کے سربراہ، حکومتی ترجمان اور سعودی عرب میں ایرانی سفیر کی طرف سے اس کی تردید کی گئی، لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے اس جھوٹ کو پھیلایا۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارا مسئلہ رابطے یا اس طرح کے پیغامات بھیجنے کا نہیں ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اس کی کوشش کی ہے اور یورپ اور دوسرے ممالک بھی ثالثی نہیں کرسکتے ہیں، کیونکہ اسلامی جمہوریہ اس مسئلہ کو قبول نہیں کرتا۔

شریعتمداری نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت ایران کو "نہ جنگ اور نہ امن" کی حالت میں رکھنے کے لیے ایک چال چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: مثال کے طور پر وہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر امریکی اور یورپی ہتھیاروں کی آمد کو مسلسل دکھاتے ہیں۔ یہ ہتھیار پہلے بھی آتے تھے، لیکن ان کی نمائش نہیں کی جاتی تھی۔ اب وہ ایسا دکھاوا کرتے ہیں، جیسے وہ تیاری کر رہے ہوں۔ ہم اس طرف سے تیار ہیں، لیکن ان ڈسپلے کی قیمت ان کے لئے ہے۔ کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی ہے کہ ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیئے، لیکن صیہونی حکومت اور خود امریکہ کو بہت سخت ضربیں لگیں۔ کیا اس سے پہلے کسی نے امریکہ پر حملہ کرنے کی جرات کی، ہم نے عین الاسد اور العدید کو نشانہ بنایا۔

امریکہ کے لئے یہ ایک آپریشنل اور وقار کا دھچکا تھا۔ اگرچہ جواری جھوٹے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر 12 روزہ مسلط کردہ جنگ میں ان کا حملہ بہت مؤثر تھا، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی طیارے ایران پر حملہ کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے، لیکن انہوں نے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی۔ اس کے برعکس ہماری دشمن کو لگائی گئی ضرب کاری تھی۔ شریعتمداری نے تاکید کی ہے کہ صیہونی حکومت اور امریکہ کے لیے یہ ایک دھچکا تھا۔ وہ امپیریالسٹ شہنشاہ کی طرح دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کا بھرم ٹوٹ چکا ہے، ساکھ خراب ہوچکی اور ان کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کا ازالہ بہت مشکل ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بیس سالہ سازش، بارہ روزہ ذلت و رسوائی
  • ایران نے جنگ میں امریکااور اسرائیل کو شکست دی،خامنہ ای
  • افغانستان بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، فیصل کریم کنڈی
  • افغانستان بھارت و اسرائیل کے ہاتھوں کھیل رہا ہے، فیصل کنڈی
  • بیت جن پر صیہونی جارحیت کیخلاف حماس اور جہاد اسلامی کا ردعمل
  • دشمن کی نہ جنگ نہ امن کی خطرناک سازش
  • ایران نے 12 روزہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو شکست دی، آیت اللہ خامنہ ای
  • ایران نے 12 روزہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو شکست دی، آیت اللہ خامنہ ای
  • صیہونی قبضے تک ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، حزب‌ الله