اسرائیل(ویب ڈیسک) وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بدعنوانی کے مقدمے میں اسرائیلی صدر سے معافی کی درخواست کی ہے۔تل ابیب سے غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو کے خلاف کئی سالوں سے بدعنوانی کا مقدمہ اسرائیلی عدالت میں چل رہا ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر رشوت ستانی اور دھوکا دہی کے الزامات ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیلی صدر سے نیتن یاہو کو معافی دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کو سیاسی اور بلاجواز قرار دیا تھا۔ دریں اثناء اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میرے وکلاء نے آج اسرائیلی صدر کو معافی کی درخواست بھیجی ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو لاحق خطرات قومی اتحاد کے متقاضی ہیں، میرے لیے معافی اسرائیلی معاشرے کے مفاد میں ہو گی۔ نیتن یاہو کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو بھی ملک کی بھلائی چاہتا ہے وہ اس اقدام کی حمایت کرے گا۔واضح رہے کہ نیتن یاہو طویل ترین مدت تک اس عہدے پر رہنے والے اسرائیلی وزیرِ اعظم ہیں۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اسرائیل نے ظلم و جبر کی نئی تاریخ رقم کردی؛ لکڑیاں جمع کرتے معصوم بچوں پر میزائل چلادیا

غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں دونوں بھائی 11 سالہ جمعہ اور 8 سالہ فادی شہید ہوگئے جو اپنے زخمی باپ کی مدد کرنے گھر سے نکلے تھے۔

عالمی خبر رساں ادرے کے مطابق جنوبی غزہ کے یہ دونوں بچے اپنے باپ کے شدید زخمی ہونے پر گھر کے استعمال کی لکڑیاں جمع کرنے باہر نکلے تھے اور پھر زندہ لوٹ کر نہ آسکے۔

معصوم بچوں کے خاندان نے بتایا کہ جمعہ اور فادی اپنے زخمی والد کو سردی سے بچانے کے لیے آگ جلانا چاہتے تھے جس کے لیے لکڑیاں درکار تھیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ خان یونس کے علاقے بنی سہیلہ میں دو مشکوک افراد کو یلو لائن عبور کرتے دیکھا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں زمین پر مشکوک سرگرمی میں ملوث دکھائی دیے جو وہ فوجی اہلکاروں کے قریب اس انداز میں آرہے تھے جو فوری خطرہ بن سکتے تھے۔

اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ خطرہ محسوس ہونے پر فضا میں موجود نگرانی فضائیہ نے دونوں کو خطرہ دور کرنے کے لیے نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے شہریوں کو وارننگ دی ہے کہ وہ اب بھی غزہ میں موجود اسرائیلی پوزیشنوں کے قریب نہ آئیں۔

فوج نے یلو لائن کے ساتھ ساتھ فزیکل مارکر بھی نصب کرنا شروع کیے ہیں اور اس کے لیے ایک آن لائن نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

تاہم ضعیف، خواتین اور بچے ان یلو لائنز اور مارکر کو پہچان نہیں پاتے۔ اس لیے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ دو روز قبل ہی اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے ہاتھ اُٹھا کر عمارت سے باہر آنے والے 2 فلسطینیوں نوجوانوں کو تلاشی کے باوجود گولیوں سے بھون دیا تھا۔

جس پر عالمی سطح شدید تنقید کی گئی تھی اور اسرائیلی حکومت نے انکوائری بھی بٹھائی ہے لیکن آج پھر ایسا جنگی جرم دہرایا جس سے انسانیت شرما گئی۔

 

متعلقہ مضامین

  • فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں مظاہرہ
  • فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں احتجاجی مظاہرہ
  • جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، غزہ میں ہلاکتیں 70 ہزار سے متجاوز
  • اسرائیل نے ظلم و جبر کی نئی تاریخ رقم کردی، لکڑیاں جمع کرتے معصوم بچوں پر میزائل چلا دیا
  • اسرائیل نے ظلم و جبر کی نئی تاریخ رقم کردی؛ لکڑیاں جمع کرتے معصوم بچوں پر میزائل چلادیا
  • فلسطینی عوام سے یکجہتی کا دن، وزیرِاعظم اور صدرِمملکت کا پیغام
  • شام کے وزیر خارجہ  کا اسرائیل کے حملوں کے خلاف عالمی ردعمل کا مطالبہ
  • غزہ؛ فلسطینیوں کی  نسل کشی میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ بے نقاب، تجارتی معاہدے سامنے آگئے
  • بھارت اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کیلئے ٹرمز آف ریفرنس پر دستخط