فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
جنگ مخالف تنظیموں کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا۔
جنگ مخالف تنظیموں کے زیراہتمام ہفتہ کو وسطی لندن میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اب بھی بلا خوف غزہ میں روزانہ حملے کرکے فلسطینیوں کو ہلاک کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے۔
مظاہرے میں بارش اور سخت سردی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی، اسرائیلی جارحیت کے بعد ہونے والے مظاہروں ہر طرح کے موسم کے دوران شرکاء کی تعداد میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
اس موقع پر مظاہرے کا آغاز ہائیڈ پارک کارنر سے ہوا اور شرکاء مختلف شاہراہوں سے ہوتے وائیٹ ہال پہنچے، مظاہرے کے شرکاء تمام راستے اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے۔
مظاہرے میں شریک مختلف جنگ مخالف تنظیموں کے رہنماؤں کے علاوہ شرکاء کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ بند کرے اور اپنا غیر قانونی تسلط ختم کرے۔
انہوں نے برطانیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت بند کرے۔
شرکاء نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی افسوناک ہے، غزہ میں لوگ روزانہ بمباری کے علاوہ بھوک سے بھی ہلاک ہو رہے ہیں، اسرائیل فوری طور پر خوراک اور ضروریات زندگی کی اشیاء غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے۔
غزہ کی ہیلتھ منسٹری کے مطابق نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو دو برس سے زائد کا عرصہ بیت گیا جس کے دوران 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ اسرائیل
پڑھیں:
شام کے وزیر خارجہ کا اسرائیل کے حملوں کے خلاف عالمی ردعمل کا مطالبہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دمشق:شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ، عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی بار بار کی جارحیت کے خلاف فوری اقدامات کریں، انہوں نے اسرائیل کے بیعت جن کے شہر پر حملے کو شہریوں کے خلاف جان بوجھ کر کی جانے والی کارروائی قرار دیا۔
شام کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی حملہ “غدارانہ اور جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنانے والا” تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے حملے خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور بین الاقوامی برادری کی خاموشی جارحیت کرنے والے کو مزید جرائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور تمام عرب و اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور اسرائیل کی اس جارحیت کے خلاف کارروائی کریں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حملے کے دوران چھ فوجی زخمی ہوئے، جن میں تین کی حالت تشویشناک ہے اور جماعة اسلامیہ کے کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق نومبر میں اسرائیلی فوج نے جنوبی شام میں 47 آپریشن کیے جبکہ دسمبر 2024 سے اب تک اسرائیل نے ایک ہزار سے زائد فضائی حملے اور 400 سے زائد سرحد پار کارروائیاں کی ہیں۔ بشار الاسد کے نظام کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے گولان ہائیٹس کے غیر فوجی علاقوں پر قبضہ کر لیا، جو 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔