جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، غزہ میں ہلاکتیں 70 ہزار سے متجاوز
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
غزہ(انٹرنیشنل ڈیسک)غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ فلسطین کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملے سے دو بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق 10 اکتوبر کو موثر ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے ہلاکتوں کے سلسلے میں تیزی آئی ہے۔
فلسطینی ادارہ صحت نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت تک کُل تعداد 70 ہزار ایک سو ہو گئی ہے، رپورٹ میں حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جنگ بندی جو 10 اکتوبر کو موثر ہوئی تھی، کے بعد ہونے والے حملوں میں 354 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس جنگ کا آغاز سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے جنوبی حصے پر حملے کے بعد ہوا تھا۔
غزہ کے جنوبی علاقے میں واقع نصر ہسپتال کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں جن دو بچوں کی لاشیں لائی گئیں ان کی عمریں آٹھ اور 11 سال تھیں اور وہ دونوں بھائی تھے اور وہ اس وقت نشانہ بنے جب اسرائیلی ڈرون نے بینی سہیلہ کے علاقے میں ایک سکول کے قریب حملہ کیا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جن دو افراد کو ہلاک کیا گیا وہ اسرائیل کے کنٹرولڈ علاقے میں گھسے ان کی سرگرمیاں مشتبہ تھیں اور وہ فوجیوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔
دوسری جانب حماس نے ایک بار پھر ثالثوں پر زورد دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایسے حملوں سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں اور ان کو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
واضح رہے کہ دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ سے تباہ ہونے والے غزہ کے حوالے سے امریکی منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس منصوبے میں علاقے کے تحفظ، گورننس کے لیے بین الاقوامی فورس کی تعیناتی، عبورتی اتھارٹی کے قیام اور آزادی فلسطینی ریاست کے ممکنہ راستے کے نکات شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے حالیہ ہفتوں کے دوران خطے میں کئی دیگر محاذوں پر بھی پیش قدمی کی ہے۔
اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے دو افراد کو قتل کر دیا، ان افراد کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ ہتھیار ڈال چکے تھے، اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فویج بھی وائرل ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیل کے علاقے میں کے بعد
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔