غزہ میں شہدا کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر گئی، جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہدا کی تعداد 70 ہزار 100 سے بڑھ گئی ہے، جبکہ 1 لاکھ 70 ہزار 900 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو 2 سال 54 دن ہوگئے ہیں اور گزشتہ ماہ نافذ ہونے والی امریکی ثالثی کے تحت جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں 2 سالوں سے بجلی کی فراہمی معطل، جنگ بندی کے بعد بھی بحال نہ ہوسکی
الجزیرہ کے مطابق ہفتے کی صبح جنوبی غزہ کے علاقے بنی سہیلہ (خان یونس کے مشرق) میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں 2 فلسطینی بچوں کو شہید کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈرون نے الفارابی اسکول کے قریب شہریوں کے ایک گروہ پر بم گرایا۔
غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابطہ کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 535 اسرائیلی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی انسانی صورتحال تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اسرائیلی جارحیت نے بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کو تباہ کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل جنگ بندی حماس غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین اسرائیلی جارحیت کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا