اسرائیلی دہشت گردی برقرار: وحشیانہ حملوں میں 2 بچوں سمیت مزید 13 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنگ بندی معاہدے اور مذاکرات کے باوجود اسرائیل کی دہشت گردی برقرار، صیہونی فورسزکے غزہ سمیت مغربی کنارے میں وحشیانہ حملے تھم نہ سکے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 2 بچوں سمیت مزید 13 فلسطینی شہید ہوگئے، بنی سہیلہ میں اسرائیلی ڈرون حملے سے 2 فلسطینی بچے شہید ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے سکول کے قریب شہریوں پر بم گرایا، دونوں بھائی زخموں کی تاب نہ لاتے دم توڑ گئے، قرارہ قصبے میں صیہونی گولہ باری سے 3 فلسطینی زخمی ہوئے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ شہر کے تفاح محلے میں اسرائیلی فضائیہ کے حملوں کی نئی لہر جاری ہے، خان یونس اوررفاہ کے مشرقی علاقوں پر بھی متعدد حملے کیے گئے۔
غزہ کے جنوبی علاقوں میں جنگ بندی کے باوجود شدید جھڑپیں جاری ہیں، امدادی راستے بند ہونے سے ہسپتالوں میں ادویات کی کمی بڑھ رہی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق شہری پناہ گاہوں کی تلاش میں مسلسل نقل مکانی پر مجبور ہیں، عالمی اداروں نے غزہ کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جارہا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بروز ہفتہ کو یومِ یکجہتی فلسطین منایا جارہا ہے۔ اس موقع پر ملک کے گلی کوچوں سمیت عالمی سطح پر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ شرکاء نے غزہ پر قابض اسرائیلی فورسز کی بربریت کو بے نقاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور مظالم کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ فلسطینی عوام کی ہمت اور حوصلہ تاریخ میں نیا باب ہے، غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی ناگزیر ہے، پاکستان نے ہر عالمی فورم پر اسرائیلی مظالم کی مذمت کی ہے اور جنگی جرائم پر اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی حمایت انصاف اور برابری کی بنیادی اقدار پر قائم ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پختہ عزم کے ساتھ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے، اسرائیلی جنگی جرائم پر اس کا احتساب ضروری ہے، اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔