پاکستان نے اسرائیل کا فلسطینی سرزمین بشمول غزہ سے مکمل انخلا ضروری قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پاکستان نے اسرائیل کا فلسطینی سرزمین بشمول غزہ سے مکمل انخلا ضروری قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج کا غزہ سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا ضروری ہے اور جنگی جرائم اور نسل کشی پر اسرائیل کا احتساب کیا جانا چاہئے۔
غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران اب تک دسیوں ہزار فلسطین جان سے جا چکے ہیں اور پورے کے پورے محلے، آبادیاں، ہسپتال، سکول اور بنیادی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، عالمی برادری کی کوششوں کے نتیجے میں 10 اکتوبر 2025 سے غزہ میں فائر بندی کا نفاذ ہوا، تاہم اس کے باوجود بھی اسرائیل کی جانب سے وقتا فوقتا حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔29 نومبر کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے الگ الگ پیغام میں کہا کہ حکومتِ پاکستان اور عوام اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اٹل عزم اور مضبوط وابستگی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کی حمایت پاکستان کے وجود کا حصہ رہی ہے، پاکستان کے قیام سے بھی سات برس قبل 1940 کی مشہور قراردادِ لاہور میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی ریاست کے قیام سے متعلق ایک شق شامل تھی۔وزیراعظم اور صدر دونوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، عام شہریوں کے تحفظ اور اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم پر مکمل احتساب کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہو گا۔ اسرائیل کو تمام خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا اور انسانی بنیادوں پر امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔انہوں نے غزہ سمیت مقبوضہ فلسطینی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کو ضروری قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب دنیا غزہ میں جاری وحشیانہ جارحیت کی مذمت کر رہی ہے تو ہمیں ہرگز یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ ہماری توجہ مغربی کنارے کی سنگین صورتِ حال سے ہٹ جائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں کا مسلسل پھیلا بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے فلسطینیوں کے مصائب کے خاتمے کی دعا کرتے ہوئے مسجد اقصی میں نماز ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا کہ میں ایک دن مسجد اقصی میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکوں۔ وزیراعظم اور صدر مملکت نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق، خصوصا حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر مسلسل ریاستِ فلسطین کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرطلاق 90دن کی مدت پوری ہونے تک موثر نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ طلاق 90دن کی مدت پوری ہونے تک موثر نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ اسلام آباد میں نامعلوم شخص کا حملہ، خنجر کے وار سے اے ایس آئی شہید پہلا بین الاقوامی مقابلہ حسن قرات، ملائیشیا کے قاری نے پہلا انعام جیت لیا افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار شفقت محمود نے عوامی خدمت کی نئی مثال قائم کر دی :سینیٹ کمیٹی چیئرمین کی تحسین جج کو اسٹریس لینا نہیں اسٹریس دینا چاہیے: جسٹس جواد حسنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مکمل انخلا
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔