پاکستان نے اسرائیل کا فلسطینی سرزمین بشمول غزہ سے مکمل انخلا ضروری قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر خصوصی پیغام میں بہادر فلسطینی عوام کی جدوجہد اور ہمت کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام سے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، پاکستان ہمیشہ انسانیت، انصاف اور برابری کی بنیاد پر فلسطین کیساتھ کھڑا رہا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے خصوصی پیغام جاری کئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان پختہ عزم کیساتھ فلسطینی عوام کیساتھ کھڑا ہے، دہائیوں سے فلسطینی عوام حق خودارادیت کی نفی اور زمین سے محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، غزہ میں گھروں، ہسپتالوں، سکولوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی ناقابل بیان ہے، شدید سانحات کے باوجود فلسطینی عوام نے غیر متزلزل ہمت اور عزم دکھایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم اور منظم نسل کشی پر مؤثر عالمی احتساب ضروری ہے، دو ریاستی حل کی حالیہ کانفرنس اور غزہ امن منصوبہ ایک اہم موقع ہے۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ جنگ بندی کا جاری رہنا اور تشدد کی روک تھام ناگزیر ہے، غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا فلسطینی سرزمین، بشمول غزہ، سے مکمل انخلا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، پاکستان دیرپا اور جامع فلسطینی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 1967کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، القدس الشریف فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے، پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کیساتھ رہے گا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر خصوصی پیغام میں بہادر فلسطینی عوام کی جدوجہد اور ہمت کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام سے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، پاکستان ہمیشہ انسانیت، انصاف اور برابری کی بنیاد پر فلسطین کیساتھ کھڑا رہا، پاکستانی قوم نے ہر مشکل گھڑی میں فلسطینی بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ 1940 کی قرارداد لاہور میں بھی فلسطینی حق خودارادی کی واضح حمایت شامل تھی، پاکستان نے ہر عالمی فورم پر اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی۔ صدر مملکت نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ شہریوں کے تحفظ اور اسرائیلی جنگی جرائم پر احتساب ناگزیر ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ، او آئی سی اور آئی سی جے میں فلسطینی حقوق کیلئے پاکستان سرگرم رہا، غزہ امن معاہدے میں پاکستان نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی سیاسی، سفارتی، انسانی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، انہوں نے کہا کہ القدس الشریف کو فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ صدر مملکت آصف زرداری نے کہا کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگا دے، انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے میں فلسطینی بھائیوں کیساتھ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کروں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان فلسطینی عوام وزیراعظم شہباز شریف فلسطینی عوام کی انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان صدر مملکت پیغام میں
پڑھیں:
پاکستان ہمارا دوسرا گھر، فلسطین کے مسئلے کا پرامن حل ضروری ہے، ایران
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے پاکستان میں اپنے دورے کے دوران پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے پرخلوص استقبال پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان نے ایران کی حمایت کی، جس کے لیے وہ پاکستانی عوام کے بے حد شکر گزار ہیں، ایران اور پاکستان کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں اور ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کے لیے بھی تیار ہے۔
علی لاریجانی نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور ایران خطے میں امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا، ایران اور پاکستان فلسطین میں قیام امن کے لیے پرعزم ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کا پرامن حل نکلے۔
دورے کے دوران علی لاریجانی نے پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں، پاکستان اور ایران ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور خطے میں قیام امن کے لیے تمام فریقین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔