نیشنل جونیئر اسکواش چیمپئن شپ: سیڈڈ کھلاڑی کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
—جنگ فوٹو
نیشنل جونیئر اسکواش چیمپئن شپ کے دوسر ے روز تمام سیڈڈ کھلاڑیوں نے ایونٹ کے کوارٹر فائنل مرحلے میں رسائی حاصل کر لی۔
سندھ اسکواش ایسوسی ایشن کے زیرِ انتظام جہانگیر خان اسکواش کمپلیکس، پی ایس بی کراچی سینٹر میں جاری چیمپئن شپ کے دوسرے راؤنڈ کے میچز کے نتائج کے مطابق بوائز انڈر 19 کیٹگری میں کے پی کے عبید اللّٓہ نے پنجاب کے نعمان کو 0-3 سے شکست دے کر سب کی توجہ حاصل کی۔
پنجاب کے سید محمد علی قاسم، عبداللّٰہ ارسلان اور سندھ کے عدنان زمان نے بھی اپنے میچوں میں بھرپور کارکردگی دکھاتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔
پی اے ایف کے محمد عمیر عارف، ایس این جی پی ایل کے محمد زمان خان اور سندھ کے عبدالباسط سمیت سب نے واضح برتری کے ساتھ مخالفین کو شکست دی اور کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے۔
گرلز انڈر 15 کیٹگری میں سندھ کی دامیہ خان نے سیدہ منال علی کے خلاف شان دار کھیل پیش کرتے ہوئے 0-3 سے کامیابی حاصل کی جبکہ کے پی کی زویا علی ناز اور سندھ کی وانیاشاہد نے بھی اپنے میچوں میں فتح حاصل کی۔
سندھ کی دعا نزاکت، ویشنوی، ایمن فاطمہ اور پنجاب کی عائشہ شاہد نے بھی عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے مخالفین کو واضح فرق سے ہرایا۔
کے پی کی سعدیہ ظہور خان نے سندھ کی انایہ شاہد کو یکطرفہ مقابلے میں ہرا کر کوارٹر فائنل میں رسائی یقینی بنائی۔
بوائز انڈر 13 کیٹگری میں سندھ کے راحیل وکٹر نے پنجاب کے فیضان خان کو، پنجاب کے ابراہیم احمد نے سندھ کے حمزہ شاہد کو،سندھ کے محمد صائم نے ایک سخت مقابلے کے بعد فضل الرحمان کو شکست دی۔
پی اے ایف کے عزیز علی ناز اور احمد علی ناز، کے پی کے محمد مصطفی احمد اور پنجاب کے محمد مصطفی خان نے کامیابی سمیٹ کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔
بوائز انڈر 9 میں سندھ کے محمد ابان، پنجاب کے احتشام خان اور عبدالاحد، سندھ کے محمد فائز خان اور محمد حسنین کے علاوہ سندھ کے مرسل بٹ، محمد بن نسیم اور پنجاب کے عبدالہادی نے بھی اپنے میچز جیت کر ٹاپ ایٹ راؤنڈ کے لئے کوالیفائی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کوارٹر فائنل میں پنجاب کے حاصل کی کے محمد سندھ کے سندھ کی نے بھی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :