بھارت میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جانا ناقابلِ معافی جرم ہے، ثروت اعجاز قادری
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
چیئرمین پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ بھارت میں نفرت کا یہ کھیل نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پورے خطے میں فرقہ واریت، مذہبی کشیدگی اور بدامنی کی صورت میں سامنے آئیں گے، جس کا ذمہ دار صرف اور صرف بھارتی قیادت اور انتہا پسند سوچ ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پاکستان سنی تحریک انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری نے بھارت میں پاکستان کے خلاف جنگ اور کرکٹ میچ کے بعد مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے تعصب، نفرت انگیزی اور انتقامی کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا ایک مخصوص طبقہ جنگ اور کھیل کا غصہ مسلمانوں پر نکال کر دنیا کے سامنے اپنے اصل چہرے کو ننگا کر رہا ہے، کھیل ایک عالمی رابطے اور امن کا ذریعہ ہے، مگر بھارت میں انتہا پسندی، زہریلی سیاست اور مذہبی جنونیت کی انتہا ہے۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ بھارتی حکمران اپنی سیاسی ناکامیوں، سماجی بگاڑ اور اندرونی بدامنی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہمیشہ کمزور اور غیر محفوظ اقلیتوں کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کسی حادثاتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت چلائی جانے والی مہم ہے، جس میں انتہا پسند گروہوں کو حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔