پیسوں کےلیے ناچنے پر مجبور کیا گیا، مشہور بھارتی اداکارہ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ٹی وی اسکرین پر اکثر منفی کرداروں میں نظر آنے والی بھارتی اداکارہ جیا بھٹاچاریہ نے پہلی بار اپنے ماضی کے ایسے کربناک پہلو بے نقاب کیے ہیں جنہوں نے ان کے مداحوں کو حیران اور افسردہ کر دیا ہے۔
جیا بھٹاچاریہ کے مطابق بچپن میں انہیں اپنی ہی والدہ کے ہاتھوں جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، اور پیسوں کی خاطر زبردستی شوبز کی دنیا میں دھکیلا گیا۔
جیا نے مشہور ڈرامے ’’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘ میں ’’’پائل‘‘‘ کا کردار نبھایا تھا، انھوں نے بتایا کہ ان کی اصل زندگی اسکرین کی چمک دمک سے بالکل مختلف تھی۔ گھر میں والدین کی ناچاقی کا سارا بوجھ اُن پر ڈالا جاتا تھا۔ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ اُن کی والدہ خود ادھورے خوابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھیں، اسی لیے وہ بیٹی پر بھی سختی کرتی رہتیں۔
اداکارہ کے مطابق انہیں ہنٹر، چمٹے، بیلن اور جوتوں سے مارا جاتا تھا، یہاں تک کہ وہ اکثر ان کے جسم پر چوٹوں کے زخم ہرے رہتے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ سب اُنہیں اندر سے توڑتا گیا اور انہیں انتہائی ضدی بنا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کی ماں نہ صرف گھر میں تشدد کرتی تھیں بلکہ دوسروں کے سامنے بھی انہیں جھڑکتی اور شرمندہ کرتیں۔
جیا بھٹاچاریہ نے انکشاف کیا کہ ان کا کبھی شوبز میں آنے کا ارادہ نہیں تھا، مگر گھر والوں نے پیسوں کے لیے انہیں کیمرے کے سامنے کھڑا کر دیا۔ انہیں نہ صرف ناچنے پر مجبور کیا گیا بلکہ بعض اوقات مردانہ کردار نبھانے کی بھی ہدایت دی جاتی۔ اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ انڈسٹری میں انہیں کاسٹنگ کاؤچ اور استحصالی رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ڈائریکٹر کا ایسا دوست جو مافیا سے تعلق رکھتا تھا، بار بار اُن کے گھر آنے لگا اور انہیں ممبئی لے جانے کی پیشکش کرتا رہا جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔
اپنی زندگی کے ایک اور سخت موڑ کا ذکر کرتے ہوئے جیا نے بتایا کہ نویں جماعت میں جب والد ریٹائر ہوئے تو والدہ جہیز کی فکر میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئیں اور گھر میں جھگڑے بڑھنے لگے۔ اس ماحول سے تنگ آکر وہ گھر چھوڑ کر ہری دوار چلی گئیں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی والدہ سے شدید ناخوش تھیں مگر جب والدہ بیمار ہوئیں تو اپنی تمام جمع پونجی ان کے علاج پر خرچ کردی، باوجود اس کے کہ والدہ ہمیشہ بیٹی کے بجائے بیٹے کی خواہش رکھتی تھیں۔
2000 میں جب جیا کو ایکتا کپور کے ڈرامے ’’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘ میں کردار ملا، تو اُن کی زندگی میں نیا موڑ آیا، مگر یہ شہرت بھی انہیں وہ عزت نہ دلا سکی جس کی وہ حقدار تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سیٹ پر سب سے کم معاوضہ لینے والی اداکارہ تھیں، اور منفی کردار کے باعث لوگ انہیں حقیقت میں بھی برا سمجھنے لگے۔
ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک بار ایک ریسٹورنٹ میں مداح نے انہیں دھکا دے کر ’’گندی عورت‘‘ کہا اور حاملہ سمرتی ایرانی کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنا سفر جاری رکھا۔ حال ہی میں وہ نیٹ فلکس کی مقبول سیریز ’’دہلی کرائم سیزن 3‘‘ میں نظر آئیں، جہاں ان کی اداکاری کو خوب سراہا گیا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے بتایا کہ نے بتایا کہ ا
پڑھیں:
بھارتی میڈیا عمران خان کے حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر انتشار پھیلانا چاہتا ہے، علی امین گنڈاپور
انہوں نے کہا کہ بانی چئیرمین اور بشریٰ بی بی ٹھیک اور صحت مند ہیں، بانی چئیرمین ہشاش بشاش ہیں، بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید کیا ہوا ہے، انہیں ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے ہیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور اس پر ہمارے تحفظات بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چئیرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ کے حوالے سے بھارٹی میڈیا کے خبروں کو پروپیگنڈا قرار دے دیا۔ علی امین گنڈاپور نے ویڈیو بیان میں کہا کہ بھارتی میڈیا بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر ملک میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے جبکہ بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ کی طبیعت ٹھیک اور وہ ہشاش بشاش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی چئیرمین اور بشریٰ بی بی ٹھیک اور صحت مند ہیں، بانی چئیرمین ہشاش بشاش ہیں، بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید کیا ہوا ہے، انہیں ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے ہیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور اس پر ہمارے تحفظات بھی ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بھارتی میڈیا بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہا ہے اور پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لیے بھارتی میڈیا غلط خبریں پھیلا رہا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ کو جلد رہا کیا جائے، ان کے خلاف جعلی پرچے کاٹے گئے ہیں اور فسطائیت کی جارہی ہے، ان کے ساتھ رویہ انسانی حقوق کی پامالی ہے اور انہیں حقوق نہیں دیے جا رہے ہیں۔