Daily Mumtaz:
2025-11-29@14:06:06 GMT

جیا بھٹاچاریہ کا شوبز کی ابتدائی زندگی کے بارے میں انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

جیا بھٹاچاریہ کا شوبز کی ابتدائی زندگی کے بارے میں انکشاف

بھارتی اداکارہ جیا بھٹاچاریہ نے حال ہی میں اپنے ابتدائی تجربات اور مشکلات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ جیا نے بتایا کہ انہیں بچپن سے اداکاری یا شوبز کا کوئی شوق نہیں تھا، بلکہ والدین نے انہیں ناچنے اور فنونِ لطیفہ کی تربیت پر مجبور کیا۔
انہوں نے انٹرویو میں بتایا کہ ان کا بچپن کافی مشکل گزرا۔ والدین کی خراب شادی اور والدہ کی جانب سے جسمانی تشدد نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات ڈالے۔ جیا کے مطابق والدہ کے رویے کی وجہ سے انہیں خود سے بھی نفرت محسوس ہوئی اور وہ کئی بار خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر چکی ہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ ان کے والد نے کبھی ان کے حق میں قدم اٹھایا، لیکن والدہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی بالغ ہونے تک جاری رہی۔
جیا بھٹاچاریہ نے اپنی پہلی ٹیلی فلم کے تجربے کا بھی ذکر کیا، جہاں انہیں ناچنے اور مرد کے کردار ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ والد نے ان کے لیے شوٹ کے دن صبح سویرے سیٹ تک پہنچنے کا بندوبست کیا، جس کے نتیجے میں ان کا اداکاری کا کیریئر شروع ہوا، چاہے وہ خود اس کے لیے تیار نہ تھیں۔
انہوں نے کاسٹنگ کاؤچ کا بھی خوفناک تجربہ بیان کیا۔ ایک ڈائریکٹر اور اس کے دوست نے انہیں گھر سے باہر لے جانے کی کوشش کی، اور ممبئی منتقل ہونے کی پیش کش بھی کی، جسے جیا نے مسترد کر دیا۔
جیا بھٹاچاریہ کے مطابق، شوبز میں ان کی ابتدائی زندگی ذاتی قربانی، خوف اور والدین کی توقعات سے بھری ہوئی تھی، اور یہ تجربات آج بھی ان کی یادداشت میں گہرائی سے محفوظ ہیں۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

طلبہ کے مخصوص رنگ کے سوئٹر لازمی شرط ختم کی جائے، والدین ایکشن کمیٹی

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نوابشاہ(نمائندہ جسارت) والدین ایکشن کمیٹی نے سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی طرز پر محکمہ تعلیم سندھ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے لیے مخصوص رنگ کے سوئٹر کی لازمی شرط ختم کر ے سندھ حکومت اور اس پر عملدرآمد کروا کر سندھ کی سہولت فراہم کرے تاکہ حسب استطاعت کے مطابق کسی بھی رنگ اور ڈیزائن کا سوئٹر اور دستانے پہن سکتے ہیں۔ اس فیصلے کو والدین، اساتذہ اور سماجی حلقوں کی جانب سے کے پی کے کی حکومت کو وسیع پذیرائی ملی ہے، کیونکہ معاشی حالات کے پیش نظر بڑی تعداد میں والدین مہنگے میچنگ یونیفارم خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ محکمہ تعلیم نے یہ اعتراف کیا کہ بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنا ضروری ہے اور یونیفارم کی مہنگی پابندیاں والدین کے لیے مستقل مسئلہ بنی ہوئی تھیں۔خیبر پختونخوا کے فیصلے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں، خصوصاً نوابشاہ میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ صوبائی حکومت بھی اسی نوعیت کا حکم جاری کرے۔ نجی اسکولوں کی ’’والدین ایکشن کمیٹی‘‘ نے کہا ہے کہ سردی کی شدت کے پیش نظر بچوں کو کسی بھی قسم کا گرم سوئٹر پہننے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مخصوص برانڈ یا رنگ کے مہنگے سوئٹر کی پابندی نے والدین کی مشکلات بڑھا دی ہیں، جبکہ عام بازار میں دستیاب گرم کپڑے نہ صرف سستے ہیں بلکہ ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی بھی ہیں۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ نجی اسکولوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ایسی ہدایات جاری نہ کریں جو والدین پر غیر ضروری معاشی دباؤ ڈالیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگے اور مخصوص سوئٹر لازمی قرار دینا طلبہ اور والدین کے بنیادی حقوق سے متصادم ہو سکتا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرے، مگر اگر مالی دباؤ کے باعث بچے اسکول آنے سے قاصر ہوں، تو یہ عمل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ مزید یہ کہ صارفین کے حقوق سے متعلق قوانین اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی ادارہ والدین کو مخصوص دکانوں یا مہنگے برانڈز سے خریداری پر مجبور کرے، کیونکہ یہ غیر منصفانہ تجارتی عمل سمجھا جاتا ہے۔سماجی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ شدید سردی میں بچوں کو صرف رنگ یا یونیفارم کے نام پر مناسب گرم کپڑے پہننے سے روکنا ان کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ بچوں کی فلاح اور تحفظ ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور اسکول انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ موسم کے حالات کے مطابق لچک دے۔ اسی لیے کراچی، حیدرآباد، سکھر، نوابشاہ اور اندرونِ سندھ کے والدین مشترکہ طور پر حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی طرز پر فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔والدین، معلمین اور نجی اسکولوں کی نمائندہ تنظیمیں سندھ حکومت سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ فوری طور پر ہدایات جاری کرے کہ تمام سرکاری و نجی اسکول بچوں کو اپنی استطاعت کے مطابق گرم کپڑے پہننے کی مکمل اجازت دیں اور مہنگے میچنگ سوئٹر کی پابندی ختم کی جائے۔ اس سے نہ صرف والدین کا معاشی بوجھ کم ہوگا بلکہ بچے سردی سے محفوظ رہتے ہوئے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔

نمائندہ جسارت گلزار

متعلقہ مضامین

  • پیسوں کےلیے ناچنے پر مجبور کیا گیا، مشہور بھارتی اداکارہ کا انکشاف
  • والدین اور استاد
  • سوشل میڈیا پرعمران خان بارے فیک نیوز، افواہیں انتہائی خطرناک ہیں، دفترخارجہ
  • 60 لاکھ کی نوکری چھوڑ کر نینی بننے والی خاتون کتنے کروڑ کما رہی ہیں؟
  • فلسطینی نژاد امریکی بچہ 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزاد
  • طلبہ کے مخصوص رنگ کے سوئٹر لازمی شرط ختم کی جائے، والدین ایکشن کمیٹی
  • فلسطینی نژاد امریکی بچے محمد ابراہیم کو 9 ماہ بعد اسرائیلی جیل سے رہائی مل گئی
  • والدین وطلبا کیلئے اہم خبر؟ یکم دسمبر سے اسکولوں کے نئے اوقات کار کا اعلان
  • آنجہانی ماں کا روپ دھار کر پینشن بٹورنے والا شخص پکڑا گیا